سهيل بن امر رضی اللہ تعالی عنہ
خاندانی پس منظر اور لقب
سہیل بن عمرو بن عبد شمس بن عبد ود بن نصر بن مالک بن حسل بن عامر بن لؤی القرشی العامری رضی اللہ تعالی عنہ کا تعلق قریش کے بنو عامر بن لؤی قبیلے سے تھا۔ ان کا شجرہ نسب آٹھویں پشت میں لؤی بن غالب پر رسول اللہ ﷺ کے شجرہ نسب سے ملتا ہے۔ ان کی کنیت ابو یزید تھی، جبکہ قبل از اسلام آپ کو اپنی فصاحت و بلاغت اور عمدہ خطابت کی وجہ سے ‘خطیب قریش’ کے نام سے بھی پکارا جاتا تھا۔ آپ اپنی رائے، تدبر اور حکمت عملی کے لیے قریش میں ممتاز حیثیت رکھتے تھے اور مکہ کے رؤساء و سرداروں میں شمار ہوتے تھے۔ ان کی والدہ کا نام حبہ بنت قیس بن طریف تھا۔
ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام
سہیل بن عمرو رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنی ابتدائی زندگی مکہ میں گزاری، جہاں آپ اپنی خاندانی وجاہت، فصاحت و بلاغت اور تدبر کے باعث ایک اہم رہنما سمجھے جاتے تھے۔ بعثت نبوی ﷺ کے ابتدائی سالوں میں، آپ نے اسلام کی شدید مخالفت کی اور قریش کے ان سرکردہ افراد میں شامل تھے جو رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں کے خلاف سرگرم عمل تھے۔ آپ نے غزوہ بدر میں قریش کے لشکر کے ہمراہ مسلمانوں کے خلاف جنگ لڑی اور اسیر ہوئے۔ بعد ازاں، فدیہ ادا کرنے کے بعد آپ کو رہائی ملی۔
صلح حدیبیہ کے موقع پر، آپ کو قریش کی جانب سے نمائندہ بنا کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں بھیجا گیا۔ یہاں آپ نے قریش کے مفادات کی سخت پاسداری کی اور معاہدے کی شرائط پر انتہائی سختی کا مظاہرہ کیا۔ مشہور واقعہ ہے کہ آپ نے "بسم اللہ الرحمن الرحیم” کی بجائے "بسمک اللھم” اور "محمد رسول اللہ” کی بجائے "محمد بن عبداللہ” لکھوانے پر اصرار کیا، جس سے آپ کی اس وقت قریش سے وفاداری اور ان کے مذہبی و روایتی تشخص کی پاسداری کا اظہار ہوتا ہے۔
سہیل بن عمرو رضی اللہ تعالی عنہ نے فتح مکہ کے دن اسلام قبول کیا۔ رسول اللہ ﷺ نے مکہ میں عام معافی کا اعلان کیا تھا، جس میں سہیل بن عمرو رضی اللہ تعالی عنہ بھی شامل تھے۔ آپ کے اسلام قبول کرنے کے بعد ان کی زندگی میں ایک نمایاں تبدیلی آئی اور آپ ایک سچے اور فدا کار مسلمان بن گئے اور اپنی تمام تر صلاحیتیں اسلام کی خدمت کے لیے وقف کر دیں۔
نمایاں کارنامے اور خدمات
اسلام قبول کرنے کے بعد، سہیل بن عمرو رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنی تمام تر قابلیت اور سابقہ اثر و رسوخ کو اسلام کی نصرت اور خدمت کے لیے استعمال کیا۔ آپ نے غزوہ حنین اور غزوہ طائف سمیت کئی غزوات میں رسول اللہ ﷺ کے شانہ بشانہ شرکت کی۔
آپ کا سب سے بڑا کارنامہ رسول اللہ ﷺ کے وصال کے بعد سامنے آیا۔ جب خبرِ وصالِ نبوی ﷺ مکہ پہنچی تو بعض قبائل میں ارتداد (اسلام سے پھر جانے) کی لہر پیدا ہوئی اور اہل مکہ میں بھی کچھ بے چینی اور تشویش پائی گئی۔ ایسے نازک وقت میں سہیل بن عمرو رضی اللہ تعالی عنہ نے غیر معمولی جرات، بصیرت اور ایمان کا مظاہرہ کیا۔ آپ نے اہل مکہ کو جمع کیا اور ایک انتہائی فصیح و بلیغ اور مدلل خطبہ دیا جس میں آپ نے لوگوں کو رسول اللہ ﷺ کے پیغام، اللہ کی وحدانیت اور اسلام کی حقانیت یاد دلائی۔ آپ نے فرمایا: "اے اہل مکہ! اگر تم یہ سمجھتے ہو کہ محمد ﷺ وفات پا گئے ہیں تو یہ جان لو کہ اللہ ہمیشہ زندہ رہنے والا ہے، اسے کبھی موت نہیں آتی۔ محمد ﷺ تو صرف رسول تھے جو اپنے سے پہلے تمام رسولوں کی طرح اپنا پیغام پہنچا کر اللہ کے پاس چلے گئے۔ ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ کو خلافت ملی ہے، ان کی اطاعت کرو اور دینِ اسلام پر ثابت قدم رہو۔” آپ کے اس خطبے نے اہل مکہ کے دلوں میں ایمان کو مضبوط کیا اور مکہ کو فتنہ ارتداد سے محفوظ رکھا۔ یہ ان کا وہ عظیم کارنامہ ہے جس کی وجہ سے تاریخ اسلام میں آپ کا نام ہمیشہ روشن رہے گا۔
اس کے بعد، آپ نے اسلامی فتوحات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا، خصوصاً شام کی فتوحات میں آپ نے نمایاں کردار ادا کیا اور اپنی زندگی کے آخری ایام تک جہاد میں مشغول رہے۔
میراث اور وصال
سہیل بن عمرو رضی اللہ تعالی عنہ کے کئی بیٹے بھی صحابہ کرام میں سے تھے۔ ان کے صاحبزادے عبداللہ بن سہیل رضی اللہ تعالی عنہ نے غزوہ بدر سے قبل ہی اسلام قبول کر لیا تھا اور جنگ یمامہ میں شہید ہوئے۔ ان کے دوسرے بیٹے ابوجندل بن سہیل رضی اللہ تعالی عنہ بھی صلح حدیبیہ کے معاہدے کی ایک اہم کڑی تھے، جنہیں معاہدے کی رو سے مسلمانوں کے حوالے کرنے کے بجائے واپس مکہ لوٹایا گیا تھا۔
سہیل بن عمرو رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنی زندگی کا آخری حصہ شام میں جہاد کرتے ہوئے گزارا۔ آپ نے تقریباً 18 ہجری (بمطابق 639 عیسوی) میں خلافت فاروقی (عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ) کے دوران، طاعون عمواس کے وبائی مرض کے دوران وفات پائی۔ آپ کو شام ہی میں سپرد خاک کیا گیا۔ آپ کا شمار ان عظیم ہستیوں میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی زندگی کے ایک بڑے حصے میں اسلام کی مخالفت کی، لیکن بعد میں اسلام قبول کر کے ایسے کارہائے نمایاں انجام دیے کہ تاریخ اسلام میں ان کا نام ہمیشہ عزت و احترام کے ساتھ لیا جاتا ہے۔ ان کی میراث ان کی فصاحت و بلاغت، حکمت عملی اور اسلام کے لیے ان کی غیر متزلزل وفاداری اور قربانی کی مثال ہے۔
مستند حوالہ جات
- سیرت ابن ہشام
- تاریخ طبری
- البدایہ و النہایہ لابن کثیر
- اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ لابن اثیر
- الاصابہ فی تمییز الصحابہ لابن حجر عسقلانی
- دلائل النبوة للبیہقی
