سلمہ بن سلامہ رضی اللہ تعالی عنہ
خاندانی پس منظر اور لقب
حضرت سلمہ بن سلامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا پورا نام سلمہ بن سلامہ بن وقش بن زغبہ بن زعوراء بن عبدالأشہل الأنصاري الأوسي تھا۔ آپ کا تعلق مدینہ منورہ کے معروف قبیلے اوس کی شاخ بنو عبدالأشہل سے تھا، جو انصار کے ایک معزز اور بہادر خاندان میں شمار ہوتا تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ کی کنیت ابو عوف تھی، اور آپ کو انصاری کے لقب سے جانا جاتا تھا جو مدینہ کے مقامی مسلمانوں کے لیے استعمال ہوتا ہے جنہوں نے اسلام اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نصرت فرمائی۔ آپ رضی اللہ عنہ ان چند عظیم انصار صحابہ کرام میں سے تھے جنہوں نے ابتدا ہی میں اسلام قبول کیا اور دین کی خدمت کے لیے اپنی زندگیاں وقف کر دیں۔
ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام
حضرت سلمہ بن سلامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ابتدائی زندگی مدینہ منورہ میں گزری، جہاں آپ اپنے قبیلے میں نمایاں مقام رکھتے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ ہجرت سے قبل، آپ رضی اللہ عنہ ان خوش نصیب افراد میں شامل تھے جنہوں نے اسلام کی دعوت کو قبول کیا۔ آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت پر لبیک کہا اور ان ابتدائی انصار میں سے ایک تھے جنہوں نے مکہ مکرمہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کی اور اسلام قبول کیا۔
آپ رضی اللہ عنہ کی قبول اسلام کا سب سے اہم واقعہ "بیعت عقبہ ثانیہ” میں شرکت ہے۔ یہ بیعت ہجرت مدینہ سے تقریباً ایک سال قبل، 13 نبوی کو ذی الحجہ کے مہینے میں مکہ مکرمہ کے قریب عقبہ کے مقام پر ہوئی۔ اس بیعت میں مدینہ کے 70 سے زائد افراد نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دستِ مبارک پر اسلام اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نصرت و حفاظت کی بیعت کی۔ حضرت سلمہ بن سلامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان عظیم لوگوں میں شامل تھے جنہوں نے مکہ سے ہجرت کی صورت میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ میں مکمل پناہ دینے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر طرح سے مدد کرنے کا عہد کیا۔ یہ بیعت اسلامی تاریخ کا ایک سنگ میل تھی جس نے مدینہ میں اسلامی ریاست کے قیام کی راہ ہموار کی، اور حضرت سلمہ بن سلامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا اس میں شامل ہونا آپ کے اعلیٰ مرتبے اور ایمان کی پختگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
نمایاں کارنامے اور خدمات
حضرت سلمہ بن سلامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے قبولِ اسلام کے بعد اپنی پوری زندگی دینِ اسلام کی خدمت اور نصرت کے لیے وقف کر دی۔ آپ رضی اللہ عنہ کو یہ عظیم شرف حاصل ہے کہ آپ "بدری صحابی” تھے، یعنی آپ نے 2 ہجری میں ہونے والے غزوہ بدر میں شرکت فرمائی۔ غزوہ بدر اسلام کا پہلا فیصلہ کن معرکہ تھا، جس میں مٹھی بھر مسلمانوں نے کفارِ مکہ کی بھاری فوج کو شکست دی، اور اس میں شرکت کرنے والے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو قرآن و حدیث میں خصوصی فضیلت حاصل ہے۔
غزوہ بدر کے علاوہ، حضرت سلمہ بن سلامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تمام بڑے غزوات میں شرکت فرمائی۔ ان میں غزوہ احد، غزوہ خندق، صلح حدیبیہ، غزوہ خیبر، فتح مکہ، غزوہ حنین اور غزوہ تبوک شامل ہیں۔ ہر معرکے میں آپ نے غیر معمولی شجاعت، ثابت قدمی اور بہادری کا مظاہرہ کیا۔ آپ رضی اللہ عنہ کی یہ مستقل شرکت آپ کے غیر متزلزل ایمان، اسلام سے گہری محبت اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے والہانہ عقیدت کی دلیل ہے۔ آپ نے اسلامی فوج کے ایک سرگرم رکن کی حیثیت سے اپنا کردار ادا کیا اور دعوتِ حق کو پھیلانے اور دینِ الٰہی کو سربلند کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔
میراث اور وصال
حضرت سلمہ بن سلامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک طویل عمر پائی اور خلفائے راشدین کے ادوار کو دیکھا۔ آپ نے حضرت ابوبکر، حضرت عمر، حضرت عثمان اور حضرت علی رضی اللہ عنہم اجمعین کے ادوارِ خلافت میں اسلامی ریاست کی ترقی اور استحکام کا مشاہدہ کیا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے مدینہ منورہ میں ہی قیام فرمایا اور دینِ اسلام کی خدمت میں مصروف رہے۔
آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا وصال کُوفہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں 45 ہجری میں ہوا۔ بعض روایات کے مطابق، آپ رضی اللہ عنہ نے کُوفہ کی طرف ہجرت کر لی تھی، جبکہ دیگر کتبِ سیرت میں آپ کا وصال مدینہ منورہ میں بھی مذکور ہے، تاہم 45 ہجری پر اکثر مورخین کا اتفاق ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ کی عمر 70 سال سے زائد تھی۔ آپ کو مدینہ منورہ میں جنت البقیع میں دفن کیا گیا۔
حضرت سلمہ بن سلامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زندگی ایک سچے مؤمن، ایک بہادر سپاہی اور ایک وفادار صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مکمل تصویر ہے۔ آپ کی میراث میں بیعت عقبہ ثانیہ اور غزوہ بدر سمیت تمام بڑے معرکوں میں شرکت، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دائمی رفاقت شامل ہے۔ آپ کی زندگی آج بھی مسلمانوں کے لیے ایمان، عزم اور قربانی کی عمدہ مثال ہے۔
مستند حوالہ جات
- ابن حجر عسقلانی، الاصابہ فی تمییز الصحابہ
- ابن اثیر، اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ
- امام ذہبی، سیر اعلام النبلاء
- ابن سعد، الطبقات الکبریٰ
- ابن کثیر، البدایہ والنہایہ
