سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالی عنہ

خاندانی پس منظر اور لقب

حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالی عنہ کا مکمل نام سلمہ بن عمرو بن سنان بن عبداللہ الاسلمی تھا۔ آپ کا تعلق قبیلہ بنو اسلم سے تھا جو قبیلہ خزاعہ کی ایک شاخ تھی۔ آپ کی کنیت ابو مسلم یا ابو ایاس تھی۔ حضرت سلمہ رضی اللہ تعالی عنہ اپنی غیر معمولی تیزی اور قوتِ برداشت کی وجہ سے مشہور تھے، کہا جاتا ہے کہ آپ دوڑنے میں گھوڑوں سے بھی سبقت لے جاتے تھے۔ اسی وجہ سے آپ کو بعض روایات میں "ذوالساقی” (تیز رفتار ٹانگوں والا) کے لقب سے بھی پکارا جاتا تھا، جو آپ کی رفتار کی علامت تھی۔

ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام

حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالی عنہ کی ابتدائی زندگی کے بارے میں بہت زیادہ تفصیلی معلومات دستیاب نہیں ہیں، لیکن یہ معلوم ہے کہ آپ مکہ یا اس کے قریبی علاقے میں پیدا ہوئے۔ آپ ایک قوی، نڈر اور چست نوجوان تھے۔ آپ نے اسلام قبول کرنے میں سبقت حاصل کی اور ابتدائی مسلمانوں میں شمار ہوئے۔ آپ مدینہ ہجرت کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کے قریبی صحابہ میں سے ہو گئے۔ آپ نے اپنی جوانی ہی سے دین اسلام کی خدمت اور دفاع میں اہم کردار ادا کرنا شروع کر دیا۔

نمایاں کارنامے اور خدمات

حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد اور اسلام کی خدمت میں گزارا۔ آپ کے چند نمایاں کارنامے درج ذیل ہیں:

  • بیعت رضوان: آپ ان جلیل القدر صحابہ کرام میں سے تھے جنہوں نے صلح حدیبیہ کے موقع پر درخت کے نیچے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کی۔ بعض روایات کے مطابق، آپ نے اس بیعت کو تین مرتبہ دہرایا جو آپ کے غیر متزلزل ایمان اور وفاداری کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
  • غزوہ ذی قرد: یہ غزوہ آپ کے سب سے نمایاں کارناموں میں سے ایک ہے۔ 6 ہجری میں غطفان قبیلے کے کچھ افراد نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنیاں چرا لیں اور آپ کے چرواہے کو شہید کر دیا۔ حضرت سلمہ رضی اللہ تعالی عنہ، جو اس وقت مدینہ سے باہر تھے، اس واقعے سے باخبر ہوئے تو اکیلے ہی دشمن کا پیچھا کرنے لگے۔ آپ اپنی غیر معمولی رفتار اور تیر اندازی کی مہارت سے دشمنوں کا مقابلہ کرتے رہے، ان میں سے بعض کو ہلاک کیا، اور چرائی ہوئی اونٹنیوں میں سے اکثر کو واپس لے آئے۔ آپ نے دشمن کو اس وقت تک روکے رکھا جب تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قیادت میں امدادی فوج نہ پہنچ گئی۔ اس موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کی شجاعت کو سراہتے ہوئے فرمایا: "خیر رجّالنا سلمة” (ہمارے پیادوں میں سب سے بہترین سلمہ ہے)۔
  • دیگر غزوات و سرایا: آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سات غزوات (جن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خود شریک تھے) اور کئی سرایا (وہ مہمات جن میں آپ نے کسی صحابی کو امیر بنا کر بھیجا) میں حصہ لیا۔ ان میں غزوہ خیبر اور غزوہ حنین شامل ہیں جہاں آپ نے بہادری کے جوہر دکھائے۔ آپ کی تیر اندازی کی مہارت اور میدان جنگ میں ثابت قدمی مسلم تھی۔

میراث اور وصال

حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالی عنہ نے اسلام کی خدمت میں اپنی پوری زندگی وقف کر دی۔ آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک قریبی ساتھی تھے اور آپ سے براہ راست علم حاصل کیا۔ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کئی احادیث روایت کیں، جو صحیح بخاری اور صحیح مسلم سمیت دیگر کتب حدیث میں موجود ہیں۔ آپ کی روایات کو علم حدیث میں مستند مانا جاتا ہے۔ آپ کی ذات شجاعت، صبر، استقامت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بے پناہ محبت کا حسین امتزاج تھی۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد، آپ مدینہ منورہ میں مقیم رہے۔ حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ کے دور خلافت میں آپ ربذہ (مدینہ کے قریب ایک مقام) منتقل ہو گئے تھے، جہاں آپ نے کچھ عرصہ گزارا، لیکن اپنی وفات سے کچھ عرصہ قبل آپ دوبارہ مدینہ تشریف لے آئے۔ آپ نے 74 ہجری (یا بعض روایات کے مطابق 73 ہجری) میں تقریباً 80 یا 84 سال کی عمر میں مدینہ منورہ میں وفات پائی اور وہیں تدفین ہوئے۔

مستند حوالہ جات

  • صحیح بخاری
  • صحیح مسلم
  • سیرت ابن ہشام
  • الطبقات الکبریٰ لابن سعد
  • اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ لابن اثیر
  • الاصابہ فی تمییز الصحابہ لابن حجر عسقلانی
  • البدایہ والنہایہ لابن کثیر