سلمان فارسى رضی اللہ تعالی عنہ

خاندانی پس منظر اور لقب

حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالی عنہ کا اصل نام مختلف روایات میں روزبہ یا ماہ بہ (مابَہ بن بُوذَخشَان) بیان کیا جاتا ہے۔ آپ رضی اللہ تعالی عنہ ایران کے علاقے اصفہان کے ایک گاؤں جَی یا جیان سے تعلق رکھتے تھے۔ آپ کے والد وہاں کے ایک معزز دیہقان (زمیندار یا سردار) تھے اور آپ کا خاندان مجوسی مذہب کا پیروکار تھا، جو زرتشت مذہب بھی کہلاتا ہے۔ آپ کے والد کو اپنے بیٹے سے اتنی محبت تھی کہ وہ آپ کو ہر وقت گھر میں رکھتے تھے اور اس قدر لاڈ پیار کرتے تھے کہ آپ ایک قیدی کی طرح گھر میں رہتے تھے۔ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالی عنہ کو اس قدر اہمیت دی جاتی تھی کہ وہ اپنے خاندان کے آتش کدے کے محافظ تھے جہاں وہ آگ کو بجھنے نہیں دیتے تھے۔

اسلام قبول کرنے کے بعد آپ کا نام "سلمان” رسول اللہ ﷺ نے رکھا۔ آپ رضی اللہ تعالی عنہ کو "سلمان الخیر” (نیک سلمان) کے لقب سے بھی پکارا جاتا ہے۔ آپ رضی اللہ تعالی عنہ کا سب سے مشہور لقب "سلمان فارسی” ہے جو آپ کی ایرانی (فارسی) نسبت کی وجہ سے ہے۔ آپ اپنی قومیت پر فخر نہیں کرتے تھے بلکہ اسلام پر فخر کرتے تھے۔ جب آپ سے آپ کا نسب پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: "میں سلمان ہوں، ابنِ اسلام ہوں” (یعنی میں سلمان ہوں اور اسلام کا بیٹا ہوں)۔

ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام

حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالی عنہ کی ابتدائی زندگی اپنے آبائی علاقے اصفہان میں ایک خوشحال گھرانے میں گزری۔ آپ مجوسی مذہب کے پیروکار تھے اور اپنے آبائی آتش کدے کی دیکھ بھال کرتے تھے۔ ایک دن آپ کے والد نے آپ کو اپنی زمینوں کی دیکھ بھال کے لیے بھیجا۔ راستے میں آپ کا گزر ایک عیسائی گرجے سے ہوا جہاں سے عبادت کی آوازیں آ رہی تھیں۔ آپ اندر گئے اور وہاں کی عبادت سے متاثر ہوئے اور انہیں یہ مذہب اپنے آبائی مذہب سے زیادہ بہتر محسوس ہوا۔ آپ نے عیسائیوں سے ان کے مذہب کے بارے میں پوچھا اور وہیں رہنا چاہا۔ جب آپ کے والد کو اس بات کا علم ہوا تو انہوں نے آپ کو گھر میں قید کر دیا، لیکن آپ وہاں سے فرار ہو کر ایک عیسائی قافلے کے ساتھ شام چلے گئے۔

شام پہنچ کر آپ نے ایک عیسائی راہب کی خدمت میں پناہ لی اور ان سے دین کی تعلیم حاصل کی۔ آپ نے کئی راہبوں کی خدمت کی، ایک کے بعد دوسرے راہب کے انتقال کے بعد آپ دوسرے کے پاس چلے جاتے، یہاں تک کہ آپ ایک نیک اور سچے راہب کی خدمت میں پہنچے۔ اس راہب نے آپ کو یہ پیشین گوئی کی کہ ایک آخری نبی کے ظہور کا وقت قریب ہے جو سرزمین عرب میں مبعوث ہوں گے اور ہجرت کر کے ایسی جگہ جائیں گے جہاں کھجوروں کے باغات کثرت سے ہوں گے۔ اس نبی کی چند نشانیاں بھی بتائیں: وہ ہدیہ قبول فرمائیں گے لیکن صدقہ نہیں کھائیں گے، اور ان کے دونوں شانوں کے درمیان نبوت کی مہر ہو گی۔

اس راہب کی وفات کے بعد آپ نے اس نبی کی تلاش میں سفر شروع کیا۔ شام سے عرب کی طرف آتے ہوئے آپ کو کچھ بدویوں نے گرفتار کر لیا اور ایک یہودی کے ہاتھ وادی القریٰ میں فروخت کر دیا۔ بعد میں اس یہودی نے آپ کو مدینہ کے ایک اور یہودی کے ہاتھ فروخت کر دیا۔ مدینہ پہنچ کر آپ نے اس شہر کو پہچان لیا جس کی نشانیاں راہب نے بتائی تھیں۔

جب رسول اللہ ﷺ ہجرت فرما کر مدینہ تشریف لائے، تو حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالی عنہ کو آپ ﷺ کے بارے میں خبر ملی۔ آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ ﷺ کا امتحان لیا۔ سب سے پہلے آپ ﷺ کو کچھ کھجوریں صدقہ کے طور پر پیش کیں، تو آپ ﷺ نے خود نہیں کھائیں بلکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو کھلانے کا حکم دیا۔ دوسری بار آپ ﷺ کو وہی کھجوریں ہدیہ کے طور پر پیش کیں، تو آپ ﷺ نے خود بھی کھائیں اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بھی کھلائیں۔ اس کے بعد آپ ﷺ کی پشت مبارک پر مہر نبوت دیکھی۔ یہ سب نشانیاں پوری ہونے کے بعد آپ کو یقین ہو گیا کہ یہی وہ آخری نبی ہیں جن کی تلاش میں آپ نے اپنی زندگی وقف کر دی تھی۔ آپ نے فوراً اسلام قبول کر لیا۔

اس وقت آپ غلامی کی زندگی گزار رہے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے آپ کو آزادی دلانے میں مدد فرمائی۔ آپ ﷺ نے آپ کے مالک سے ایک معاہدہ کیا کہ آپ تین سو کھجور کے پودے لگائیں اور چالیس اوقیہ سونا (یا ایک خاص مقدار میں سونا) ادا کریں۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنے دست مبارک سے تمام کھجور کے پودے لگائے جو اللہ کے فضل سے فوراً پھل دینے لگے، اور سونے کی مقدار بھی اللہ تعالی کے حکم سے پوری ہو گئی۔ اس طرح حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالی عنہ کو غلامی سے آزادی نصیب ہوئی اور آپ رضی اللہ تعالی عنہ مکمل طور پر دینِ اسلام کی خدمت میں مصروف ہو گئے۔

نمایاں کارنامے اور خدمات

حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالی عنہ نے اسلام قبول کرنے کے بعد دین کی بے مثال خدمات انجام دیں۔ آپ رضی اللہ تعالی عنہ کی سب سے نمایاں خدمت غزوہ خندق (احزاب) میں تھی جو ہجرت کے پانچویں سال پیش آیا۔ جب قریش اور دیگر قبائل کے مشرکوں نے مدینہ پر چڑھائی کی تیاری کی تو مسلمانوں کی تعداد بہت کم تھی اور دفاعی پوزیشن کمزور تھی۔ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالی عنہ نے رسول اللہ ﷺ کو فارس میں رائج ایک جنگی حکمت عملی کا مشورہ دیا: مدینہ کے گرد ایک گہری اور چوڑی خندق کھودی جائے تاکہ دشمن شہر میں داخل نہ ہو سکے۔ یہ مشورہ رسول اللہ ﷺ نے قبول فرمایا اور مسلمانوں نے خندق کھودی، جس نے دشمن کی پیش قدمی کو روک دیا اور ان کی حکمت عملی ناکام کر دی۔ اس واقعہ میں حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالی عنہ کا مشورہ مسلمانوں کے لیے فتح کا سبب بنا۔

غزوہ خندق کے بعد آپ نے دیگر غزوات میں بھی حصہ لیا اور ہمیشہ رسول اللہ ﷺ اور خلفائے راشدین کے ساتھ وفاداری کا مظاہرہ کیا۔ رسول اللہ ﷺ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالی عنہ سے بہت محبت کرتے تھے اور ایک موقع پر فرمایا: "سلمان منا اہل البیت” (سلمان ہم اہل بیت میں سے ہیں)۔ یہ آپ رضی اللہ تعالی عنہ کی بلند مرتبت اور اسلام کے لیے ان کی قربانیوں کا اعتراف تھا۔

حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کے دور خلافت میں آپ کو مدائن کا والی (گورنر) مقرر کیا گیا۔ مدائن اس وقت عراق کا ایک بڑا اور اہم شہر تھا۔ آپ نے وہاں بھی اپنی سادگی اور زہد کا دامن نہیں چھوڑا۔ آپ رضی اللہ تعالی عنہ اپنی تنخواہ سے روٹی خرید کر کھاتے تھے اور باقی رقم صدقہ کر دیتے تھے۔ آپ رضی اللہ تعالی عنہ اپنے ہاتھ سے کھجور کے پتے بن کر یا دیگر دستی کام کر کے روزی کماتے تھے اور دنیاوی مال و دولت سے بے رغبتی کا مظاہرہ کرتے تھے۔

حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالی عنہ بہت عقل مند، علم والے اور فقیہ صحابی تھے۔ آپ کو تورات، انجیل اور دیگر آسمانی کتب کا بھی علم تھا جس سے آپ کو بہت زیادہ بصیرت حاصل تھی۔ آپ نے کئی احادیث بھی روایت کی ہیں۔

میراث اور وصال

حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنی ساری زندگی اسلام کی خدمت اور سنتِ نبوی پر عمل پیرا رہتے ہوئے گزاری۔ آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے زہد، تقویٰ، علم اور حکمت کی وجہ سے اسلامی تاریخ میں ایک بے مثال مقام حاصل کیا۔ آپ رضی اللہ تعالی عنہ کی زندگی کی سب سے بڑی میراث اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت، سچ کی تلاش میں بے پناہ جدوجہد، اور دنیاوی مال و متاع سے بے رغبتی ہے۔ آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے ہر حال میں سادگی اور قناعت کو اپنا شعار بنایا، یہاں تک کہ جب آپ مدائن کے گورنر تھے تب بھی ایک عام انسان کی طرح زندگی بسر کرتے تھے۔

آپ کا وصال حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کے دور خلافت میں 35 ہجری یا 36 ہجری میں مدائن میں ہوا۔ آپ رضی اللہ تعالی عنہ کی عمر کے بارے میں مختلف روایات ہیں، بعض کے مطابق آپ کی عمر 250 سال سے زیادہ تھی اور بعض دیگر روایات کے مطابق یہ کم تھی۔ آپ کی سادگی کا یہ عالم تھا کہ جب آپ کا وقتِ وصال آیا تو آپ کے پاس بستر کے علاوہ کوئی چیز نہ تھی اور آپ نے اپنی ساری جمع پونجی کو صدقہ کر دیا تھا۔ آپ کو مدائن ہی میں دفن کیا گیا، اور آج بھی آپ کا مزار وہاں مرجع خلائق ہے۔

حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالی عنہ کا یہ قول مشہور ہے کہ "جس نے صبح کی اور دنیا اس کی سب سے بڑی فکر تھی، اس کا اللہ سے کوئی تعلق نہ رہا۔” آپ رضی اللہ تعالی عنہ ہمیشہ آخرت کی فکر میں رہتے تھے اور امتِ مسلمہ کے لیے ایک ایسے نمونہ کی حیثیت رکھتے ہیں جس نے مادیت پر روحانیت کو، اور دنیا پر آخرت کو ترجیح دی۔

مستند حوالہ جات

  • صحیح بخاری
  • صحیح مسلم
  • سیرت ابن ہشام
  • البدایہ والنہایہ از ابن کثیر
  • تاریخ طبری
  • حلیۃ الاولیاء از ابونعیم اصفہانی
  • اسد الغابہ فی معرفتہ الصحابہ از ابن اثیر
  • الاستیعاب فی معرفتہ الاصحاب از ابن عبدالبر