سعد بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ
خاندانی پس منظر اور لقب
سعد بن مالک بن وہیب بن عبد مناف بن زہرہ، قریش کے بنو زہرہ قبیلے سے تعلق رکھتے تھے اور حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالی عنہ کے نام سے مشہور ہیں۔ ان کے والد کا نام مالک تھا اور والدہ کا نام حمنہ بنت سفیان تھا۔ انہیں عام طور پر ان کے والد کی کنیت "ابو وقاص” سے منسوب کیا جاتا ہے، اسی لیے وہ "سعد بن ابی وقاص” کے نام سے معروف ہوئے۔
حضرت سعد رضی اللہ تعالی عنہ کا شجرہ نسب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے شجرہ نسب سے عبد مناف پر جا کر ملتا ہے۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ننھیال کی طرف سے تھے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی والدہ ماجدہ حضرت آمنہ بنت وہب کا تعلق بھی بنو زہرہ سے تھا۔ اسی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بعض اوقات انہیں اپنا ماموں (خال) بھی کہا کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: "یہ میرے ماموں ہیں، کوئی مجھے اپنا ماموں دکھائے۔” یہ ان کے لیے ایک عظیم شرف اور عزت کا باعث تھا۔
حضرت سعد رضی اللہ تعالی عنہ کے القابات میں "فارس الاسلام” (اسلام کا شہسوار) اور "مجاب الدعوۃ” (وہ جن کی دعا قبول ہوتی ہے) بہت مشہور ہیں۔ انہیں عشرہ مبشرہ (وہ دس صحابہ جنہیں دنیا میں جنت کی بشارت دی گئی) میں بھی شمار کیا جاتا ہے۔ ان کی پیدائش مکہ مکرمہ میں عام الفیل کے تقریباً 23 سال بعد ہوئی، جس کا مطلب ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تقریباً 17 سال چھوٹے تھے۔
ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام
حضرت سعد بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنی ابتدائی زندگی مکہ مکرمہ میں گزاری۔ کم عمری ہی سے وہ اپنی تیر اندازی کی مہارت اور بہادری کے لیے مشہور تھے۔ جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان نبوت فرمایا اور اسلام کی دعوت پیش کی، تو حضرت سعد رضی اللہ تعالی عنہ ان ابتدائی افراد میں سے تھے جنہوں نے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے اس دعوت کو قبول کیا۔ وہ اسلام قبول کرنے والے ساتویں شخص تھے اور ان کی عمر اس وقت تقریباً 17 سے 19 سال تھی۔
ان کے اسلام قبول کرنے کا واقعہ بڑا ولولہ انگیز ہے۔ جب ان کی والدہ حمنہ بنت سفیان کو ان کے اسلام قبول کرنے کا علم ہوا، تو انہوں نے سخت ردعمل کا اظہار کیا۔ وہ حضرت سعد رضی اللہ تعالی عنہ کو اسلام سے برگشتہ کرنے کے لیے فاقہ کشی پر اتر آئیں اور قسم کھائی کہ جب تک سعد اسلام سے منہ نہیں موڑیں گے، وہ نہ کچھ کھائیں گی اور نہ پئیں گی، یہاں تک کہ ان کی جان چلی جائے۔ ان کا خیال تھا کہ اس طرح سعد ماں کی محبت میں آ کر اسلام ترک کر دیں گے۔ تاہم، حضرت سعد رضی اللہ تعالی عنہ ایمان پر ایسے پختہ تھے کہ انہوں نے والدہ کے اس اقدام کے باوجود اپنے ایمان سے ایک لمحے کے لیے بھی روگردانی نہ کی۔ انہوں نے اپنی والدہ سے کہا: "اے میری ماں! اگر آپ کی سو جانیں بھی ہوں اور وہ ایک ایک کر کے نکل جائیں، تب بھی میں اپنے دین سے دستبردار نہیں ہوں گا۔” جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس واقعے کی خبر ملی، تو آپ نے حضرت سعد رضی اللہ تعالی عنہ کے ایمان کی تعریف فرمائی۔ اسی موقع پر قرآن مجید کی یہ آیت نازل ہوئی: "اور اگر وہ دونوں تجھ پر زور ڈالیں کہ تو میرے ساتھ کسی ایسی چیز کو شریک کرے جس کا تجھے علم نہیں، تو تو ان کی اطاعت مت کر۔” (سورۃ لقمان: 15) اس آیت نے ثابت کر دیا کہ والدین کی اطاعت صرف معروف میں ہے، دین کے معاملے میں کوئی اطاعت نہیں۔ اس واقعے نے حضرت سعد رضی اللہ تعالی عنہ کے ایمان اور توکل کی گہرائی کو ظاہر کیا۔
نمایاں کارنامے اور خدمات
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالی عنہ کی زندگی جہاد اور فتوحات سے بھرپور ہے۔ وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تمام غزوات میں شریک ہوئے۔
- تیراکی اور میدانِ جنگ: وہ ایک ماہر تیر انداز تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی تیر اندازی پر بہت فخر تھا۔ غزوہ احد کے موقع پر جب مسلمانوں کے پاؤں اکھڑ گئے اور صحابہ کی ایک کثیر تعداد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد سے ہٹ گئی، تو چند ہی بہادر صحابہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دفاع میں ڈٹے رہے، ان میں حضرت سعد رضی اللہ تعالی عنہ پیش پیش تھے۔ اس موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: "ارم سعد! فداك أبي وأمي” (تیر چلاؤ سعد! میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں!) یہ فقرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف حضرت سعد رضی اللہ تعالی عنہ کے لیے استعمال فرمایا، جو ان کے مقام اور تیر اندازی کی مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اسلام میں اللہ کی راہ میں پہلا تیر چلانے والے بھی حضرت سعد رضی اللہ تعالی عنہ ہی ہیں۔
- غزوات میں شرکت: انہوں نے غزوہ بدر، احد، خندق، خیبر، فتح مکہ، حنین اور تبوک سمیت تمام بڑے غزوات میں بھرپور حصہ لیا اور اپنی شجاعت و بہادری کے جوہر دکھائے۔
- فارس کی فتوحات: خلیفہ ثانی حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کے دور خلافت میں، حضرت سعد رضی اللہ تعالی عنہ کو فارس (موجودہ ایران) کی عظیم سلطنت کے خلاف لشکر اسلام کی کمان سونپی گئی۔ یہ ایک انتہائی نازک اور اہم ذمہ داری تھی، کیونکہ فارسی سلطنت اپنی طاقت اور شوکت کے لیے مشہور تھی۔
- جنگ قادسیہ: سن 15 ہجری (636 عیسوی) میں لڑی جانے والی جنگ قادسیہ اسلامی تاریخ کی فیصلہ کن ترین جنگوں میں سے ایک ہے۔ حضرت سعد رضی اللہ تعالی عنہ اس جنگ میں بیماری (پھوڑے) کی وجہ سے میدان جنگ میں بنفس نفیس شریک نہیں ہو سکے، لیکن انہوں نے ایک اونچی جگہ سے بیٹھ کر لشکر کی قیادت کی اور اپنی بہترین حکمت عملی سے فارسی لشکر کو شکست فاش دی۔ فارسیوں کے عظیم سپہ سالار رستم فرخزاد اس جنگ میں مارے گئے۔ یہ فتح اسلامی سلطنت کی وسعت اور فارس کی فتح کا دروازہ ثابت ہوئی۔
- مدائن اور کوفہ کی فتح: جنگ قادسیہ کے بعد، حضرت سعد رضی اللہ تعالی عنہ نے فارسیوں کے دارالحکومت مدائن کو فتح کیا، جہاں انہوں نے قیصر کسریٰ کے عالیشان محلات میں اللہ کی عبادت کی۔ بعد ازاں، انہوں نے کوفہ شہر کی بنیاد رکھی، جو ایک اہم اسلامی چھاؤنی اور علمی مرکز بن گیا۔ انہیں کوفہ کا پہلا گورنر مقرر کیا گیا۔
- مجاب الدعوۃ کا لقب: ان کی دعائیں اللہ تعالی کے ہاں بہت مقبول تھیں۔ تاریخ میں کئی ایسے واقعات ملتے ہیں جب ان کی دعا کے اثرات فوری طور پر ظاہر ہوئے۔ ایک شخص نے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی خلافت کے دوران حضرت سعد رضی اللہ تعالی عنہ پر الزام لگایا کہ وہ جہاد نہیں کرتے۔ حضرت سعد رضی اللہ تعالی عنہ نے اس شخص کے لیے دعا کی اور کچھ ہی عرصے بعد وہ شخص رسوا ہوا اور ذلت کی موت مرا۔ اسی وجہ سے انہیں "مجاب الدعوۃ” کہا جاتا تھا۔
- شورٰی کے رکن: حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنی شہادت سے قبل جن چھ افراد کو اگلے خلیفہ کے انتخاب کے لیے شورٰی کا رکن مقرر کیا تھا، حضرت سعد رضی اللہ تعالی عنہ بھی ان میں شامل تھے۔
میراث اور وصال
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنی پوری زندگی تقویٰ، پرہیزگاری، زہد اور اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے وقف کر دی۔ فوجی فتوحات اور حکومتی مناصب پر فائز ہونے کے باوجود، وہ دنیاوی مال و دولت سے بے رغبت رہے۔ ان کا طرز زندگی سادگی اور قناعت پسندی کی عمدہ مثال تھا۔
وصال سے قبل، جب وہ بیماری کی حالت میں تھے، تو ان کی وصیت اور مال و دولت کے بارے میں سوال کیا گیا۔ انہوں نے اپنی وراثت کے ایک تہائی حصے کے بارے میں وصیت کی، اور فرمایا کہ باقی مال ان کے ورثاء کا ہے۔ انہوں نے یہ بھی تاکید کی کہ وہ صرف ایک عام مسلمان کی حیثیت سے دفنائے جائیں، اور ان کے کمالات یا عہدوں کا ذکر نہ کیا جائے۔
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالی عنہ کا انتقال سن 55 ہجری (675 عیسوی) میں حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کے دور خلافت میں مدینہ منورہ سے باہر مقام عقیق میں ہوا۔ وہ عشرہ مبشرہ میں سب سے آخر میں وفات پانے والے صحابی تھے۔ حضرت مروان بن حکم نے جو اس وقت مدینہ کے گورنر تھے، ان کی نماز جنازہ پڑھائی اور انہیں جنت البقیع میں سپرد خاک کیا گیا۔ ان کی وفات پر مسلمانوں نے شدید غم کا اظہار کیا، کیونکہ انہوں نے اسلام کے لیے غیر معمولی خدمات انجام دی تھیں اور امت مسلمہ کے لیے ایک روشن مثال چھوڑ گئے۔
ان کی میراث صرف ان کی فتوحات نہیں بلکہ ان کا مضبوط ایمان، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت، میدان جنگ میں بے مثال شجاعت، دعاؤں کی قبولیت، اور سادگی و قناعت کی زندگی ہے۔ وہ ان عظیم صحابہ میں سے ہیں جنہوں نے اسلام کی بنیادوں کو مضبوط کیا اور اس کے پیغام کو دنیا کے کونے کونے تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
مستند حوالہ جات
- سیرت ابن ہشام (Seerat Ibn Hisham)
- تاریخ طبری (Tarikh al-Tabari)
- البدایہ والنہایہ (Al-Bidayah wan Nihayah by Ibn Kathir)
- اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ (Usd al-Ghabah fi Ma’rifat al-Sahabah by Ibn al-Athir)
- الاصابہ فی تمییز الصحابہ (Al-Isabah fi Tamyiz al-Sahabah by Ibn Hajar al-Asqalani)
- صحیح بخاری (Sahih Bukhari) – کتاب المغازی، کتاب فضائل الصحابہ
- صحیح مسلم (Sahih Muslim) – کتاب فضائل الصحابہ
- حلیۃ الاولیاء وطبقات الاصفیاء (Hilyat al-Awliya wa Tabaqat al-Asfiya by Abu Nu’aym al-Isfahani)
