سراقہ بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ
خاندانی پس منظر اور لقب
حضرت سراقہ بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ کا پورا نام سراقہ بن مالک بن جعشم بن مالک بن عمرو بن قیسر بن عامر بن مدلج بن مرہ بن عبد مناۃ بن کنانہ تھا۔ آپ کا تعلق بنو مدلج قبیلے سے تھا جو بنو کنانہ کی ایک شاخ تھی۔ یہ قبیلہ اپنی سُراغ رسانی اور تیز رفتاری کے لیے مشہور تھا۔ سراقہ اپنی قوم کے نامور گھڑ سواروں اور سراغ رساں میں سے تھے اور اس فن میں انہیں غیر معمولی مہارت حاصل تھی۔ اپنی اسی مہارت اور شہرت کی وجہ سے وہ بعد ازاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کے دوران پیش آنے والے واقعے میں نمایاں ہوئے۔ ان کا کوئی مخصوص لقب تو کتبِ تاریخ میں مشہور نہیں، البتہ ان کی گھڑ سواری اور تیزی کی وجہ سے ان کی قوم میں ان کا بہت چرچا تھا۔
ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام
سراقہ بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ کی ابتدائی زندگی دیگر قریشی سرداروں کی طرح اسلام کی مخالفت میں گزری۔ وہ مکہ کے ماحول میں پلے بڑھے جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوتِ حق کو شدید مزاحمت کا سامنا تھا۔ تاہم، ان کی زندگی کا سب سے یادگار اور اہم موڑ ہجرتِ مدینہ کے موقع پر پیش آیا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت فرما رہے تھے تو قریش نے ان کو پکڑنے والے کے لیے سو اونٹوں کا انعام مقرر کیا۔ سراقہ بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ، جو اپنی گھڑ سواری اور سراغ رسانی میں لاثانی تھے، انعام کی لالچ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تعاقب کرنے نکلے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کا سراغ لگاتے ہوئے وہ ان کے قریب پہنچ گئے، لیکن جب بھی وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب آتے، ان کا گھوڑا ٹھوکر کھا کر گر جاتا یا اس کے پاؤں زمین میں دھنس جاتے۔ یہ واقعہ ایک نہیں بلکہ کئی بار دہرایا گیا۔ سراقہ کو یقین ہو گیا کہ یہ کوئی مافوق الفطرت قوت ہے جو انہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچنے سے روک رہی ہے۔ انہوں نے اس واقعے کو ایک معجزہ اور الٰہی نشان سمجھا۔ اس دوران، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ ایک وقت آئے گا جب تم کسریٰ کے کنگن پہنو گے۔ اس پیش گوئی نے سراقہ کو مزید حیرت زدہ کر دیا۔
اس واقعے کے بعد سراقہ کا دل بدل گیا، اور انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے امان طلب کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں امان دی اور انہیں ایک تحریری پروانہ عنایت فرمایا۔ سراقہ نے وعدہ کیا کہ وہ واپس جا کر دیگر تعاقب کرنے والوں کو بھی روکیں گے۔ اگرچہ سراقہ بن مالک اس وقت باضابطہ طور پر اسلام نہیں لائے تھے، لیکن اس واقعے نے ان کے دل میں حق کی گواہی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کا بیج بو دیا تھا۔ بعد ازاں، فتح مکہ کے بعد آپ ایمان لائے اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر کلمہ شہادت پڑھا اور مکمل طور پر دائرہ اسلام میں داخل ہو گئے۔
نمایاں کارنامے اور خدمات
حضرت سراقہ بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ کی نمایاں خدمات میں سب سے پہلے تو ہجرت کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا پیچھا کرنے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر واپس پلٹنا اور دیگر تعاقب کرنے والوں کو گمراہ کرنا شامل ہے، جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کے سفر میں مزید آسانی پیدا ہوئی۔ یہ اگرچہ اس وقت ایمان کی حالت میں نہیں تھا، لیکن نبوی معجزے کا نتیجہ تھا۔
تاہم، ان کی زندگی کا سب سے بڑا اور تاریخ ساز کارنامہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئی کا پورا ہونا ہے، جو ان کی صداقت کا ایک بین ثبوت بنی۔ یہ واقعہ امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کے دورِ خلافت میں پیش آیا۔ جب اسلامی لشکر نے فارس کو فتح کیا اور کسریٰ (شہنشاہِ فارس) کا تخت و تاج اور دیگر مالِ غنیمت مدینہ لایا گیا، تو حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ پیش گوئی یاد آئی جو آپ نے ہجرت کے سفر میں سراقہ بن مالک کے بارے میں فرمائی تھی۔
حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے سراقہ بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ کو بلایا اور انہیں کسریٰ کے قیمتی تاج، کمربند اور وہ سونے کے کنگن پہنائے، جو اس وقت کی سب سے بڑی سلطنت کے بادشاہ کی عظمت کی نشانی تھے۔ حضرت سراقہ رضی اللہ تعالی عنہ نے یہ کنگن اپنے ہاتھوں میں پہنے اور اس وقت مسلمانوں نے اللہ اکبر کے نعرے بلند کیے، کیونکہ یہ نبوت کی صداقت کا ایک کھلا معجزہ تھا۔ اس واقعہ نے نہ صرف سراقہ کے لیے بلکہ پوری امتِ مسلمہ کے لیے ایک گہری روحانی اہمیت رکھی۔ یہ ایک ایسا واقعہ تھا جس نے ثابت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر بات سچ تھی اور اللہ تعالی نے اپنے نبی کے ذریعے جو وعدے کیے وہ ضرور پورے ہوتے ہیں۔
میراث اور وصال
حضرت سراقہ بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ نے ایک طویل عمر پائی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی صداقت کے عظیم گواہ بن کر رہے۔ ان کی زندگی ایک ایسا سبق ہے کہ کیسے اللہ کی تقدیر اور رسول کی صداقت انسان کے دل اور ارادوں کو بدل سکتی ہے۔ ہجرت کے دوران پیش آنے والا واقعہ، جب وہ انعام کے لالچ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا تعاقب کر رہے تھے اور پھر کسریٰ کے کنگن پہننے کا واقعہ، یہ دونوں ان کی حیات کے وہ یادگار لمحات ہیں جو ہمیشہ اسلامی تاریخ کا حصہ رہیں گے۔
وہ ایک ایسے صحابی تھے جنہوں نے اپنی آنکھوں سے نبوت کی سچائی کو دیکھا اور اس کے عظیم الشان معجزات میں سے ایک کا عملی تجربہ کیا۔ ان کی وفات کے بارے میں کوئی قطعی تاریخ تو نہیں ملتی، لیکن مورخین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ انہوں نے حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ کے دورِ خلافت تک زندگی بسر کی اور اپنی وفات تک مدینہ منورہ میں مقیم رہے۔ ان کی وفات غالباً 24 ہجری کے بعد کسی سال میں ہوئی۔ ان کی میراث سچے ایمان، نبوی پیش گوئی کی تصدیق اور اللہ کی قدرت کا ایک روشن باب ہے۔
مستند حوالہ جات
- صحیح بخاری (کتاب فضائل الصحابہ، باب علامات النبوة فی الإسلام)
- صحیح مسلم (کتاب الزہد والرقائق، باب حدیث الهجرة)
- سیرت ابن ہشام (ذکر ہجرة النبی صلی اللہ علیہ وسلم وابی بکر)
- البدایہ و النہایہ لابن کثیر (الجزء الثالث، ذکر ہجرة النبی صلی اللہ علیہ وسلم)
- تاریخ الطبری (جلد 4، فتح العراق وفارس)
- اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ لابن الأثیر (جلد 2، ترجمہ سراقہ بن مالک)
- الاستیعاب فی معرفۃ الأصحاب لابن عبد البر (جلد 2، ترجمہ سراقہ بن مالک)
