زید بن دثنہ رضی اللہ تعالی عنہ

خاندانی پس منظر اور لقب

حضرت زید بن دثنہ رضی اللہ تعالی عنہ کا پورا نام زید بن دثنہ بن معاویہ بن عبید بن عدی بن کعب بن لوی القشیری تھا۔ آپ کا تعلق قریش کے معزز قبیلے بنو عدی بن کعب سے تھا، جو قریش کے اُن چند قبیلوں میں سے تھا جن کی عرب میں خاص عزت و توقیر تھی۔ آپ کے والد کا نام دثنہ تھا، اور اسی نسبت سے آپ "ابن دثنہ” کہلائے۔ اگرچہ آپ کا کوئی مخصوص لقب تاریخ میں زیادہ مشہور نہیں، مگر صحابیت کا شرف اور آپ کی شہادت عظمیٰ ہی آپ کا سب سے بڑا اعزاز اور تعارف ہے۔ آپ کا شمار اُن جلیل القدر صحابہ کرام میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے اسلام کی حقانیت کا عملی ثبوت دیا۔

ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام

حضرت زید بن دثنہ رضی اللہ تعالی عنہ کی ابتدائی زندگی کے بارے میں تفصیلات زیادہ میسر نہیں، لیکن یہ بات مستند ذرائع سے ثابت ہے کہ آپ مکہ مکرمہ کے اُن خوش نصیب افراد میں سے تھے جنہوں نے دعوتِ اسلام کے ابتدائی ایام میں ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت پر لبیک کہا۔ آپ اُن السابقون الاولون (سب سے پہلے ایمان لانے والوں) میں شامل تھے اور ایمان لانے کے بعد ہی آپ نے اپنی زندگی کو اسلام کے لیے وقف کر دیا۔ آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قربت اور صحبت کا شرف حاصل ہوا اور آپ نے دین کی تعلیمات کو براہِ راست آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سیکھا۔ ہجرتِ مدینہ کے بعد آپ نے دوسرے مسلمانوں کے ساتھ مل کر مدینہ منورہ میں اسلامی معاشرے کی بنیادوں کو مستحکم کرنے میں اپنا کردار ادا کیا۔

نمایاں کارنامے اور خدمات

حضرت زید بن دثنہ رضی اللہ تعالی عنہ کی سب سے نمایاں خدمت اور کارنامہ وہ عظیم الشان قربانی ہے جو آپ نے غزوۂ رجیع کے موقع پر پیش کی، جس کی یاد اسلام کی تاریخ میں ہمیشہ باقی رہے گی۔ یہ واقعہ ہجرت کے چوتھے سال پیش آیا۔ ہوا یوں کہ نجد کے قبائل عضل اور قارہ کے کچھ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور درخواست کی کہ اُن کے قبائل کو اسلام کی تعلیم دینے کے لیے چند افراد بھیجے جائیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دس صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم پر مشتمل ایک وفد روانہ فرمایا، جس کی قیادت حضرت مرثد بن ابی مرثد غنوی رضی اللہ تعالی عنہ فرما رہے تھے (بعض روایات میں حضرت عاصم بن ثابت رضی اللہ تعالی عنہ کا نام آتا ہے)۔ اس وفد میں حضرت زید بن دثنہ رضی اللہ تعالی عنہ بھی شامل تھے۔

یہ وفد مقام رجیع پہنچا تو غدار قبائل نے انہیں گھیر لیا۔ صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم نے بہادری سے مقابلہ کیا، مگر اکثر شہید ہو گئے، جبکہ حضرت زید بن دثنہ رضی اللہ تعالی عنہ اور حضرت خبیب بن عدی رضی اللہ تعالی عنہ سمیت چند کو گرفتار کر لیا گیا۔ انہیں مکہ لے جایا گیا اور کفار کے ہاتھوں فروخت کر دیا گیا تاکہ وہ بدر میں مارے جانے والے اپنے سرداروں کا بدلہ لے سکیں۔ حضرت زید بن دثنہ رضی اللہ تعالی عنہ کو صفوان بن امیہ نے خریدا، جس کے باپ امیہ بن خلف کو غزوہ بدر میں مسلمانوں نے واصلِ جہنم کیا تھا۔

شہادت سے قبل، جب حضرت زید بن دثنہ رضی اللہ تعالی عنہ کو تنعیم کے مقام پر سولی کے لیے لے جایا جا رہا تھا، تو ابوسفیان (جو اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے) نے آپ سے پوچھا: "زید! کیا تم یہ پسند کرو گے کہ اس وقت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) تمہاری جگہ ہوں اور ہم انہیں قتل کر دیں، اور تم اپنے گھر میں آرام سے ہو؟” تو حضرت زید رضی اللہ تعالی عنہ نے وہ تاریخی جواب دیا جو ایمان کی پختگی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بے مثال محبت کا عکاس ہے: "اللہ کی قسم! میں یہ بھی گوارا نہیں کرتا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی جگہ پر ایک کانٹا بھی چبھے اور میں اپنے گھر میں اپنے اہل و عیال کے ساتھ آرام سے رہوں!” یہ جواب سن کر ابوسفیان نے کہا: "میں نے کسی کو کسی سے اتنی محبت کرتے نہیں دیکھا جتنی محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے صحابہ ان سے کرتے ہیں۔” کفارِ مکہ نے اسی بے مثال جرات اور ایمان کی حالت میں آپ کو شہید کر دیا۔

میراث اور وصال

حضرت زید بن دثنہ رضی اللہ تعالی عنہ نے ہجرت کے چوتھے سال (4ھ) میں مکہ کے قریب تنعیم کے مقام پر کفارِ قریش کے ہاتھوں جامِ شہادت نوش فرمایا۔ آپ کی شہادت کا واقعہ، جسے غزوۂ رجیع کے ضمن میں یاد کیا جاتا ہے، اسلامی تاریخ کے صفحات میں ایمان کی پختگی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے والہانہ محبت اور راہِ حق میں بے مثال قربانی کی ایک سنہری مثال ہے۔ آپ کا یہ قول کہ "میں یہ بھی گوارا نہیں کرتا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی جگہ پر ایک کانٹا بھی چبھے اور میں اپنے گھر میں اپنے اہل و عیال کے ساتھ آرام سے رہوں” قیامت تک آنے والے ہر مسلمان کے لیے عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک روشن مینار ہے۔ آپ کی زندگی اور شہادت نے ثابت کیا کہ ابتدائی مسلمانوں کا ایمان کتنا مضبوط اور ان کا دین سے تعلق کتنا گہرا تھا۔ آپ کی میراث محض ایک شہید کی کہانی نہیں، بلکہ وہ لازوال سبق ہے جو ہر دور کے مسلمانوں کو اپنے ایمان اور اپنے نبی سے محبت پر مضبوطی سے قائم رہنے کی ترغیب دیتا ہے۔

مستند حوالہ جات

  • سیرت ابن ہشام: جلد 1، باب غزوۂ رجیع
  • صحیح بخاری: کتاب المغازی، باب غزوۂ رجیع
  • طبقات ابن سعد: جلد 3، ذکر زید بن دثنہ
  • تاریخ الطبری: ذکر غزوۂ رجیع
  • البدایہ والنہایہ از ابن کثیر: جلد 4، ذکر غزوۂ رجیع