زید بن حارثہ رضی اللہ تعالی عنہ

خاندانی پس منظر اور لقب

حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ تعالی عنہ کا پورا نام زید بن حارثہ بن شراحیل (یا شرجیل) بن کعب بن عبد العزیٰ بن امرؤ القیس الکلبی تھا۔ آپ کا تعلق قبیلہ کلب کی بنو عبد الوُد شاخ سے تھا۔ بعض روایات میں آپ کا نسب قُضاعہ سے بھی جوڑا گیا ہے۔ آپ کی والدہ کا نام سعدیٰ بنت ثعلبہ تھا جو قبیلہ بنی مَعن سے تھیں۔ آپ کا خاندان یمن کے علاقے سے تعلق رکھتا تھا اور آپ اپنی والدہ کے ساتھ اپنے نھیال کی زیارت کے دوران دشمنوں کے ہاتھوں قید ہو گئے اور بازارِ عکاظ میں غلام کے طور پر فروخت کر دیے گئے۔

آپ کے سب سے مشہور لقب ‘حِب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم’ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا محبوب) ہے۔ یہ لقب آپ کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کی بے مثال محبت، قربت اور وفاداری کی وجہ سے ملا۔ آپ ان چند خوش نصیب افراد میں سے تھے جن کا نام قرآن مجید میں صراحتاً لیا گیا (سورۃ الاحزاب، آیت 37)۔

ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام

حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ تعالی عنہ بچپن میں اپنی والدہ کے ہمراہ اپنے ننھیال سے ملاقات کے لیے گئے ہوئے تھے جب ایک ڈاکو گروہ نے ان پر حملہ کیا اور آپ کو دیگر لوگوں کے ساتھ قید کر لیا۔ ڈاکوؤں نے آپ کو بازارِ عکاظ میں فروخت کر دیا۔ حکیم بن حزام رضی اللہ تعالی عنہ (حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہا کے بھتیجے) نے آپ کو چار سو درہم میں خریدا اور اپنی پھوپھی حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہا کو پیش کر دیا۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہا نے پھر آپ کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کر دیا، اس وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر شریف تقریباً پینتیس برس تھی اور ابھی نبوت کا اعلان نہیں ہوا تھا۔

جب حضرت زید رضی اللہ تعالی عنہ کے والد، حارثہ بن شراحیل، اور چچا کو بیٹے کی گمشدگی کا علم ہوا تو وہ غم سے نڈھال ہو گئے اور بیٹے کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے۔ آخر کار انہیں معلوم ہوا کہ زید مکہ میں موجود ہیں اور محمد بن عبداللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے پاس ہیں۔ وہ فوراً مکہ پہنچے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر درخواست کی کہ وہ ان کا بیٹا زید انہیں واپس کر دیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ زید کو بلا کر پوچھ لو، اگر وہ تمہارے ساتھ جانا چاہے تو لے جاؤ، اور اگر میرے ساتھ رہنا چاہے تو میں کسی کے آنے والے کو اپنے پاس رہنے سے نہیں روکوں گا۔ جب حضرت زید رضی اللہ تعالی عنہ کو بلایا گیا تو آپ نے اپنے والدین اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ترجیح دی۔ آپ نے فرمایا: "میں اس ذات پر کسی کو ترجیح نہیں دے سکتا جو میرے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ہے۔” اس بات سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بے حد متاثر ہوئے اور آپ کو اتنی محبت بھری وفاداری پر فخر ہوا۔

اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجرِ اسود کے پاس قریش کے مجمع میں اعلان فرمایا: "گواہ رہو کہ زید میرا بیٹا ہے، یہ میرا وارث ہو گا اور میں اس کا وارث ہوں گا۔” اس دن سے حضرت زید رضی اللہ تعالی عنہ کو ‘زید بن محمد’ کے نام سے پکارا جانے لگا۔ یہ رواج اسلام سے پہلے عربوں میں رائج تھا کہ لے پالک بیٹوں کو حقیقی بیٹوں کا درجہ دیا جاتا تھا۔

جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نبوت کا اعلان فرمایا تو حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ تعالی عنہ نے بلا جھجک اور بغیر کسی ہچکچاہٹ کے اسلام قبول کر لیا۔ آپ حضرت خدیجہ، حضرت ابوبکر اور حضرت علی رضی اللہ عنہم کے بعد پہلے لوگوں میں سے تھے جنہوں نے اسلام قبول کیا، اور مردوں میں حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ کے بعد آپ ہی اسلام لانے والے تھے۔

نمایاں کارنامے اور خدمات

حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ تعالی عنہ کا شمار ان صحابہ کرام میں ہوتا ہے جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بے پناہ قرب حاصل تھا۔ آپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے راز داروں اور قابلِ اعتماد ساتھیوں میں سے تھے۔ آپ کی زندگی کے نمایاں کارنامے اور خدمات درج ذیل ہیں:

  • قرآن میں ذکر: آپ واحد صحابی ہیں جن کا نام قرآن مجید میں صراحتاً لیا گیا ہے۔ سورۃ الاحزاب کی آیت نمبر 37 میں آپ کے اور حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے نکاح اور طلاق کا ذکر ہے۔ یہ آیت لے پالک بیٹوں کو حقیقی بیٹوں کا درجہ دینے کے قدیم عربی رواج کو ختم کرنے کے لیے نازل ہوئی اور یہ واضح کر دیا کہ منہ بولے بیٹے حقیقی بیٹے نہیں ہوتے اور ان کی ازواجِ مطہرات سے نکاح کرنا جائز ہے۔ اسی آیت کے نزول کے بعد آپ دوبارہ اپنے حقیقی والد حارثہ کے نام سے ‘زید بن حارثہ’ کہلانے لگے۔
  • رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبوبیت: آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بے انتہا محبت حاصل تھی، اسی وجہ سے آپ کو ‘حِب رسول اللہ’ کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔ حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما آپ ہی کے بیٹے تھے۔
  • شادی: آپ کی پہلی شادی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رضاعی بہن اور اپنی چچازاد، حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے ہوئی۔ تاہم، یہ شادی زیادہ دیر نہ چل سکی اور اللہ تعالی کے حکم کے تحت طلاق کے بعد حضرت زینب رضی اللہ عنہا کا نکاح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوا تاکہ جاہلی رسوم کا خاتمہ کیا جا سکے۔ بعد ازاں، آپ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خادمہ اور آپ کے بیٹے اسامہ کی والدہ حضرت ام ایمن (برکہ) رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا۔
  • اہم جنگوں میں شرکت: آپ نے غزوہ بدر، احد، خندق، خیبر اور دیگر تمام اہم غزوات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے شانہ بشانہ شرکت فرمائی۔ آپ ہمیشہ جہاد فی سبیل اللہ کے لیے پیش پیش رہے۔
  • سَرايا (فوجی دستوں کی قیادت): رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کی صلاحیتوں، شجاعت اور وفاداری پر مکمل اعتماد کرتے ہوئے کئی فوجی دستوں (سَرايا) کی قیادت آپ کو سونپی۔ آپ نے کامیابی کے ساتھ ان مہمات کو سرانجام دیا، جن میں سے چند مشہور یہ ہیں:
    • سریہ قَرَدَة (جموم)
    • سریہ عیص
    • سریہ طرف
    • سریہ حسمی
    • سریہ وادی القریٰ
    • سریہ مدین
    • اور سب سے مشہور سریہ مؤتہ۔
  • سریۂ مؤتہ کی قیادت: 8 ہجری میں رومیوں کے خلاف بھیجے گئے لشکرِ اسلام کی قیادت کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ تعالی عنہ کو پہلا امیر مقرر فرمایا اور یہ حکم دیا کہ اگر زید شہید ہو جائیں تو جعفر بن ابی طالب امیر ہوں گے اور اگر وہ بھی شہید ہو جائیں تو عبداللہ بن رواحہ امیر ہوں گے۔ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا آپ پر غیر معمولی اعتماد اور بھروسہ تھا کہ اتنے بڑے اور طاقتور دشمن کے خلاف پہلی فوج کی قیادت آپ کو سونپی۔

میراث اور وصال

حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ تعالی عنہ نے جمادی الاولیٰ 8 ہجری میں مؤتہ کے میدان میں جامِ شہادت نوش فرمایا۔ مؤتہ (موجودہ اردن) میں رومیوں کے ایک لاکھ سے زائد کے لشکر کے مقابلے میں مسلمانوں کا لشکر صرف تین ہزار کا تھا۔ جب جنگ شروع ہوئی تو حضرت زید رضی اللہ تعالی عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے مطابق پرچمِ اسلام تھاما اور بے مثال شجاعت کا مظاہرہ کرتے ہوئے دشمن کی صفوں میں گھس گئے۔ آپ بے جگری سے لڑے اور بالآخر نیزوں اور تلواروں کی ضربوں سے زخمی ہو کر گر پڑے اور شہادت کا رتبہ پایا۔ اس طرح آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بتائی ہوئی ترتیب میں سب سے پہلے شہادت حاصل کی۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وحی کے ذریعے مؤتہ میں ہونے والی صورتحال اور شہداء کی شہادت کی خبر ملی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو مؤتہ کے میدان کی خبریں سنائیں اور حضرت زید، حضرت جعفر اور حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہم کی شہادت کا ذکر کرتے ہوئے آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے، جس سے آپ کے دل میں ان عظیم صحابہ کے لیے موجود گہری محبت ظاہر ہوئی۔

حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ تعالی عنہ کی میراث اسلام کے لیے ان کی بے لوث قربانیوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے والہانہ محبت اور وفاداری کی مثالوں سے بھری پڑی ہے۔ آپ کی زندگی کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ ایک غلام سے لے کر لے پالک بیٹے اور پھر ایک عظیم جرنیل اور قرآن میں مذکور شخصیت تک کا سفر طے کیا۔ آپ نے اسلام میں عدل، مساوات اور توحید کے اصولوں کو اپنی زندگی سے واضح کیا۔ آپ نے نبوت کے ابتدائی اور کٹھن دور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ دیا اور ہر مشکل میں آپ کے معاون و مددگار رہے۔ آپ کی شہادت نے ایک عظیم فدائی کا نقش چھوڑا جو قیامت تک مسلمانوں کے لیے مشعلِ راہ رہے گا۔ آپ کے فرزند حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے بھی اسلام کی عظیم خدمات انجام دیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی وفات سے قبل انہیں ایک لشکر کا سالار مقرر فرمایا جس میں بڑے بڑے صحابہ شامل تھے۔

مستند حوالہ جات

  • قرآن مجید (سورۃ الاحزاب، آیت 37)
  • سیرت ابن ہشام از عبد الملک بن ہشام
  • الطبقات الکبریٰ از ابن سعد
  • تاریخ الرسل والملوک از محمد بن جریر طبری
  • البدایۃ والنہایۃ از ابن کثیر
  • صحیح بخاری (کتاب المغازی، کتاب فضائل الصحابہ)
  • صحیح مسلم (کتاب فضائل الصحابہ)