زید الخیر رضی اللہ تعالی عنہ

خاندانی پس منظر اور لقب

زید الخیر رضی اللہ تعالی عنہ کا اصل نام زید بن مہلہل الطائی تھا۔ وہ قبیلہ طَے (بنو نَبہان) سے تعلق رکھتے تھے، جو اپنے شجاعت، سخاوت اور قیادت کے لیے مشہور تھا۔ اسلام قبول کرنے سے قبل وہ زید الخیل کے نام سے جانے جاتے تھے، جس کا مطلب "گھوڑوں کا زید” یا "شہسواروں کا زید” تھا، جو ان کی بہادری، جرات مندی اور گھڑ سواری میں مہارت کی طرف اشارہ کرتا تھا۔ اپنی قوم میں وہ ایک معزز سردار، شجاع جنگجو اور بے پناہ سخی سمجھے جاتے تھے۔ عرب میں ان کی نیک نامی اور بہادری کا شہرہ دور دور تک پھیلا ہوا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب انہیں دیکھا اور ان کے اسلام کو قبول کرنے کے بعد، ان کے سابقہ لقب "زید الخیل” کو بدل کر "زید الخیر” (نیکی کرنے والا زید) عطا فرمایا۔ یہ لقب ان کے نئے اسلامی کردار اور کمالِ اخلاق کا مظہر تھا۔

ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام

زید الخیر رضی اللہ تعالی عنہ کی ابتدائی زندگی نجد کے صحرائی علاقوں میں گزری، جہاں وہ اپنی قوم کی قیادت کرتے اور بہادری کے جوہر دکھاتے تھے۔ نویں ہجری، جسے "عام الوفود” (وفود کا سال) کہا جاتا ہے، جب دور دراز کے قبائل اسلام قبول کرنے کے لیے مدینہ کا رخ کر رہے تھے، تو زید الخیر رضی اللہ تعالی عنہ بھی اپنی قوم کے ایک وفد کے ساتھ مدینہ منورہ پہنچے۔ ان کے ساتھ ان کے قبیلے کے کئی معزز افراد بھی تھے۔ مدینہ پہنچ کر انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا رعب، آپ کی سادگی، آپ کی گفتار اور آپ کے چہرے کی نورانیت دیکھ کر زید الخیر رضی اللہ تعالی عنہ اس قدر متاثر ہوئے کہ بغیر کسی تامل کے فوراً اسلام قبول کر لیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب زید الخیل (اس وقت ان کا یہی نام تھا) کو دیکھا تو فرمایا: "مجھے کسی عربی نے جس کے بارے میں بتایا گیا، اسے کبھی اس سے زیادہ نہ پایا، جتنا کہ مجھے بتایا گیا تھا، سوائے زید الخیل کے۔” یعنی ان کی تعریف جس قدر بھی کی گئی تھی، وہ اس سے بھی بڑھ کر پائے گئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام زید الخیل سے بدل کر زید الخیر رکھ دیا۔ یہ ان کے لیے ایک عظیم شرف تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان کے حق میں گواہی تھی۔

نمایاں کارنامے اور خدمات

زید الخیر رضی اللہ تعالی عنہ کا اسلام قبول کرنا انتہائی اخلاص اور پختگی پر مبنی تھا۔ اسلام قبول کرنے کے فوراً بعد ہی ان میں جہاد کا جذبہ بیدار ہو گیا۔ جب انہوں نے مسیلمہ کذاب کے دعویٰ نبوت کے بارے میں سنا تو اس کے فتنے کو کچلنے کا ارادہ کر لیا۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت طلب کی کہ وہ واپس جا کر مسیلمہ کذاب سے قتال کریں۔ یہ ان کے ایمان کی مضبوطی اور دین کی نصرت کے لیے ان کی بے پناہ تڑپ کا واضح ثبوت تھا۔ اگرچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت انہیں جانے کی اجازت نہیں دی تھی، مگر ان کا یہ ارادہ ہی ان کے عظیم کارناموں میں سے ایک ہے۔ انہوں نے اپنی قوم میں واپس جا کر اسلام کی دعوت دینے اور اس کی تعلیمات پھیلانے کا بھی عزم کیا۔ ان کی خواہش تھی کہ وہ اپنی قوم کو بھی اس نورِ ہدایت سے منور کریں جس سے وہ خود فیض یاب ہوئے تھے۔ ان کا قلیل عرصہ کا اسلامی سفر، لیکن ان کے ارادے اور ایمانی جذبہ نے انہیں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں ایک نمایاں مقام دلایا۔

میراث اور وصال

زید الخیر رضی اللہ تعالی عنہ کی زندگی میں قبولِ اسلام کے بعد زیادہ وقت نہیں گزرا۔ مدینہ سے اپنی قوم کی طرف واپسی کے سفر پر، وہ مدینہ اور ان کے وطن کے درمیان ایک مقام پر بیماری کا شکار ہو گئے۔ مورخین کے مطابق، انہیں بخار یا طاعون جیسی وبائی بیماری لاحق ہو گئی جو اس وقت عام تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے دعا فرمائی تھی کہ وہ اپنی قوم تک پہنچنے سے پہلے ہی فوت نہ ہو جائیں، مگر اللہ تعالی کی مشیت کچھ اور تھی۔ وہ اپنے علاقے پہنچنے سے قبل ہی راستے میں، بعض روایات کے مطابق، نَبق یا جحفہ کے مقام پر وفات پا گئے۔ ان کا وصال سن 9 ہجری میں، مسیلمہ کذاب سے قتال کرنے اور اپنی قوم تک پہنچنے سے پہلے ہی ہو گیا۔ ان کے جلد وصال پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اظہارِ افسوس فرمایا۔ اگرچہ ان کا زمانہ اسلام بہت مختصر تھا، لیکن ان کا اخلاص، جہاد کا جذبہ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے عطا کردہ "الخیر” کا لقب ان کے بلند مقام اور عظیم میراث کی دلیل ہے۔ انہوں نے یہ ثابت کیا کہ ایمان کی صداقت، مدتِ حیات سے نہیں بلکہ نیت کی پاکیزگی اور عمل کی پختگی سے پرکھی جاتی ہے۔ وہ اسلام کے ابتدائی دور کے ان عظیم صحابہ میں سے تھے جنہوں نے ایمان لاتے ہی اپنی پوری زندگی اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کر دی تھی۔

مستند حوالہ جات

  • سیرت ابن ہشام
  • تاریخ الطبری
  • البدایہ والنہایہ از ابن کثیر
  • اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ از ابن الاثیر
  • الاصابہ فی تمییز الصحابہ از ابن حجر عسقلانی