زبرقان إبن بدر رضی اللہ تعالی عنہ
خاندانی پس منظر اور لقب
حضرت زبرقان بن بدر رضی اللہ تعالی عنہ کا پورا نام زبرقان بن بدر بن امرئ القیس بن خلف بن بہدلہ بن عوف بن کعب بن سعد بن زید مناۃ بن تمیم تھا۔ آپ کا تعلق بنو تمیم کے ایک معزز اور طاقتور قبیلے بنو سعد سے تھا، جو عرب کے مشہور قبائل میں سے ایک تھا۔ قبل از اسلام آپ اپنی قوم کے سرداروں، اشراف اور ممتاز شعراء میں سے تھے۔ آپ کی شاعری کو عرب میں بہت عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا اور آپ اپنی فصاحت و بلاغت میں بھی مشہور تھے۔ آپ کو کوئی خاص لقب تو عطا نہیں ہوا، البتہ "شاعرِ رسول” یا اپنی قوم کے "سردار” کی حیثیت سے آپ کی پہچان قائم تھی۔ آپ کا قبیلہ بنو تمیم اپنی کثیر تعداد، شجاعت اور فصاحت و بلاغت کے لیے مشہور تھا۔
ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام
حضرت زبرقان بن بدر رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنی ابتدائی زندگی اپنی قوم بنو تمیم کے ایک معزز سردار اور مشہور شاعر کی حیثیت سے گزاری۔ عربی شاعری اور قبائلی فخر ان کی شخصیت کا اہم حصہ تھا۔ آپ نے اپنی قوم کے دیگر سرداروں کے ہمراہ 9 ہجری میں "عام الوفود” (وفود کا سال) کے موقع پر مدینہ منورہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضری دی۔ اس وفد میں اقرع بن حابس، عیینہ بن حصن جیسے دیگر سردارانِ عرب بھی شامل تھے۔
یہ وفد جب مدینہ پہنچا تو رسول اللہ ﷺ اپنے حجرہ مبارک میں تشریف فرما تھے۔ وفد کے بعض اراکین نے، جن میں حضرت زبرقان بھی شامل تھے، آداب و احترام کا خیال نہ رکھتے ہوئے حجروں کے باہر سے ہی بلند آواز میں آپ ﷺ کو پکارنا شروع کر دیا: "اے محمد! باہر آؤ!” اس واقعے کے تناظر میں اللہ تعالی نے سورہ الحجرات کی آیت نمبر 4 نازل فرمائی: "اے ایمان والو! اپنی آوازوں کو نبی کی آواز پر بلند نہ کرو، اور نہ ان سے اس طرح بات کرو جس طرح تم آپس میں ایک دوسرے سے اونچی آواز میں بات کرتے ہو، کہیں (ایسا نہ ہو کہ) تمہارے اعمال ضائع ہو جائیں اور تمہیں خبر بھی نہ ہو!” اس آیت نے مسلمانوں کو نبی اکرم ﷺ کے ساتھ گفتگو کے آداب سکھائے۔
بعد ازاں، اس وفد نے رسول اللہ ﷺ کی مجلس میں اپنی قوم کے اوصاف اور مفاخر بیان کرنے کے لیے اپنے شعراء اور خطباء کو پیش کیا، جن میں حضرت زبرقان بن بدر رضی اللہ تعالی عنہ بھی شامل تھے۔ انہوں نے اپنی قوم کی عظمت اور بڑائی پر فخر کرتے ہوئے اشعار پڑھے۔ رسول اللہ ﷺ نے یہ سب سننے کے بعد حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ تعالی عنہ کو حکم دیا کہ وہ مسلمانوں کی طرف سے جواب دیں۔ حضرت ثابت بن قیس نے نہایت فصیح و بلیغ انداز میں اسلام کی سچائی، رسول اللہ ﷺ کی نبوت اور صحابہ کرام کے فضائل بیان کیے۔ حضرت زبرقان اور ان کے ساتھیوں نے جب اسلامی فخر کو سنا تو اس سے متاثر ہوئے اور آپ ﷺ کے دستِ مبارک پر بیعت کرکے اسلام قبول کر لیا۔ آپ کا اسلام قبول کرنا بنو تمیم قبیلے کے لیے ایک اہم واقعہ تھا اور اس سے ان کے بہت سے لوگوں نے اسلام قبول کیا۔
نمایاں کارنامے اور خدمات
اسلام قبول کرنے کے بعد حضرت زبرقان بن بدر رضی اللہ تعالی عنہ ایک مخلص اور وفادار صحابی ثابت ہوئے۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کی قبائلی حیثیت اور قیادت کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں اپنی قوم بنو سعد بن تمیم کے صدقات (زکوٰۃ) جمع کرنے پر مامور فرمایا۔ یہ رسول اللہ ﷺ کا ان پر مکمل اعتماد تھا کہ انہیں ایک اہم مالی ذمہ داری سونپی گئی۔
رسول اللہ ﷺ کے وصال کے بعد جب عرب کے مختلف قبائل میں ارتداد کی تحریکیں اٹھیں اور بعض نے زکوٰۃ ادا کرنے سے انکار کیا، تو حضرت زبرقان بن بدر رضی اللہ تعالی عنہ اپنی قوم کے بہت سے افراد کے برعکس اسلام پر ثابت قدم رہے۔ آپ نے خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کی مکمل حمایت کی اور مرتدین کے خلاف جنگوں (جنگهای ردہ) میں اہم کردار ادا کیا۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ نے انہیں خالد بن ولید رضی اللہ تعالی عنہ کے لشکر میں شامل کیا اور انہیں اپنی ہی قوم کے بعض مرتدین کے خلاف جنگ میں بھیجا۔ آپ نے نہ صرف خود اسلام سے وفاداری نبھائی بلکہ اپنی شاعری اور خطابت کے ذریعے اپنی قوم کے لوگوں کو بھی ارتداد سے باز رکھنے اور اسلام پر قائم رہنے کی ترغیب دی۔ آپ نے مرتدین کی ہجو میں اور اسلام کی مدح سرائی میں اشعار کہے، جو اسلامی تاریخ کا حصہ ہیں۔ آپ اپنی فصاحت و بلاغت اور قائدانہ صلاحیتوں کو اسلام کی خدمت میں استعمال کرتے رہے۔
میراث اور وصال
حضرت زبرقان بن بدر رضی اللہ تعالی عنہ نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کے دور خلافت میں بھی اپنی زندگی کا زیادہ تر حصہ گزارا۔ آپ کی وفات کی کوئی حتمی تاریخ مستند طور پر معلوم نہیں، لیکن غالب گمان ہے کہ آپ نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کے عہدِ خلافت یا اس کے بعد وفات پائی۔ آپ کو ایک شاعر صحابی، اپنی قوم کے سردار، اور اسلام کے ایک مخلص و ثابت قدم سپاہی کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ قرآن کریم کی ایک اہم آیت (سورہ الحجرات، آیت 4) کے نزول کا سبب بننا بھی آپ کے لیے ایک منفرد اعزاز ہے، جس نے امت مسلمہ کو نبی کریم ﷺ کے آداب محفل سکھائے۔ آپ کی زندگی یہ سبق دیتی ہے کہ اسلام قبول کرنے کے بعد سابقہ حیثیتیں اسلام کے تابع ہو جاتی ہیں اور حقیقی عزت اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت میں ہے۔
مستند حوالہ جات
- سیرت ابن ہشام
- تاریخ طبری
- البدایہ والنہایہ از ابن کثیر
- اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ از ابن الاثیر
- الاصابہ فی تمییز الصحابہ از ابن حجر عسقلانی
