رافع إبن رافى رضی اللہ تعالی عنہ

خاندانی پس منظر اور لقب

حضرت رافع ابن رافع رضی اللہ تعالی عنہ کا شمار ان عظیم المرتبت صحابہ کرام میں ہوتا ہے جنہوں نے اسلام کے ابتدائی ایام میں ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کو قبول کیا اور دین کی خدمت کے لیے اپنی زندگیاں وقف کر دیں۔ آپ کا مکمل نام رافع بن رافع بن مالک بن العجلان بن عمرو بن عامر بن زریق تھا۔ آپ کا تعلق مدینہ منورہ کے قبیلہ خزرج کی شاخ بنو زریق سے تھا، اس نسبت سے آپ کو زرقی بھی کہا جاتا ہے۔ آپ انصار کے باہمت اور جلیل القدر سرداروں میں سے تھے۔ آپ رضی اللہ تعالی عنہ کو "بدری صحابی” ہونے کا شرف بھی حاصل ہے، یعنی آپ ان خوش نصیب صحابہ میں سے تھے جنہوں نے غزوہ بدر میں شرکت کی۔

ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام

حضرت رافع ابن رافع رضی اللہ تعالی عنہ مدینہ منورہ (اس وقت یثرب) میں پیدا ہوئے اور وہیں پلے بڑھے۔ آپ ایک سمجھدار اور دور اندیش نوجوان تھے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ مکرمہ میں توحید کی دعوت کا آغاز کیا تو یہ خبر یثرب تک بھی پہنچی۔ نبوت کے گیارہویں سال (620ء) میں یثرب کے چھ خوش نصیب افراد حج کے لیے مکہ آئے اور مقام عقبہ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کی۔ ان چھ افراد میں حضرت رافع ابن رافع رضی اللہ تعالی عنہ بھی شامل تھے۔ یہ پہلا موقع تھا جب اہل یثرب کو براہ راست رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مخاطب ہونے اور آپ کی دعوت کو سننے کا شرف حاصل ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سامنے اسلام پیش کیا اور انہیں قرآن پاک کی تلاوت فرمائی۔ حضرت رافع ابن رافع رضی اللہ تعالی عنہ نے اور ان کے ساتھیوں نے فوراً اسلام قبول کر لیا اور اسلام کی اس دعوت کو یثرب میں پھیلانے کا وعدہ کیا۔ یہ "بیعت عقبہ اولیٰ” کہلائی، جس نے اسلام کی تاریخ میں ایک نئے باب کا آغاز کیا۔

اگلے سال (نبوت کے بارہویں سال)، مزید بارہ افراد یثرب سے مکہ آئے، جن میں سے پانچ وہ تھے جو پچھلے سال اسلام قبول کر چکے تھے۔ ان میں حضرت رافع ابن رافع رضی اللہ تعالی عنہ بھی شامل تھے۔ یہ "بیعت عقبہ ثانیہ” کا پیش خیمہ بنی، جس میں یثرب کے ستر سے زائد افراد نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یثرب ہجرت کی دعوت دی۔ حضرت رافع ابن رافع رضی اللہ تعالی عنہ نے اس بیعت میں بھی فعال کردار ادا کیا اور ہجرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی بنیاد رکھنے والوں میں شامل ہوئے۔ اس طرح، آپ مدینہ منورہ میں اسلام کی ابتدائی بنیادوں کو مضبوط کرنے والے اہم ترین افراد میں سے تھے۔

نمایاں کارنامے اور خدمات

حضرت رافع ابن رافع رضی اللہ تعالی عنہ کی زندگی دین اسلام کے لیے بے پناہ خدمات سے عبارت ہے۔

  • بیعت عقبہ میں کلیدی کردار: آپ کی سب سے بڑی خدمت یہ ہے کہ آپ ان اولین افراد میں شامل تھے جنہوں نے عقبہ کے مقام پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کو لبیک کہا۔ آپ کی یہ شمولیت مدینہ میں اسلام کی اشاعت اور ہجرت مدینہ کی راہ ہموار کرنے کا بنیادی پتھر ثابت ہوئی۔
  • غزوہ بدر میں شرکت: آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ بدر میں شرکت فرمائی۔ غزوہ بدر اسلام کی تاریخ کا پہلا اور سب سے اہم معرکہ تھا، اور اس میں شرکت کرنے والے صحابہ کرام کو اللہ تعالی نے خاص فضیلت عطا فرمائی ہے۔ حضرت رافع ابن رافع رضی اللہ تعالی عنہ نے اس جنگ میں شجاعت و بہادری کے جوہر دکھائے اور اسلام کی فتح کے لیے اپنی جان و مال سے قربانی دی۔
  • دیگر غزوات میں شمولیت: غزوہ بدر کے علاوہ، آپ نے غزوہ احد، غزوہ خندق اور دیگر تمام غزوات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے شانہ بشانہ جہاد کیا اور دین حق کی سربلندی کے لیے ہر ممکن کوشش کی۔ آپ نے اسلام کے دفاع اور اس کی توسیع میں اہم کردار ادا کیا۔
  • تعلیم و تربیت: آپ نے اپنے قبیلے اور اہل یثرب کو اسلام کی تعلیمات سے روشناس کرایا اور لوگوں کو دین کے اصولوں پر عمل پیرا ہونے کی ترغیب دی۔

میراث اور وصال

حضرت رافع ابن رافع رضی اللہ تعالی عنہ نے ایک ایسی میراث چھوڑی جو ایمان، استقامت اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے بے پناہ محبت کی مثال ہے۔ آپ کا شمار ان عظیم صحابہ میں ہوتا ہے جن کی خدمات کے بغیر مدینہ منورہ میں اسلامی ریاست کا قیام ممکن نہ تھا۔ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد بھی دین کی خدمت جاری رکھی اور خلفائے راشدین کے دور میں بھی اسلام کے فروغ میں اپنا کردار ادا کیا۔

آپ کا وصال امیر المومنین حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ کے دور خلافت میں ہوا۔ آپ نے ایک بابرکت زندگی گزاری اور دین اسلام کے لیے جو قربانیاں دیں، وہ قیامت تک آنے والے مسلمانوں کے لیے مشعل راہ ہیں۔ اللہ تعالی آپ کو اپنی رحمتوں سے نوازے اور آپ کے درجات کو بلند فرمائے۔

مستند حوالہ جات

  • سیرت ابن ہشام
  • تاریخ طبری
  • البدایہ والنہایہ (ابن کثیر)
  • اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ (ابن الاثیر)
  • الاصابہ فی تمییز الصحابہ (ابن حجر عسقلانی)
  • الطبقات الکبریٰ (ابن سعد)