ذو الخویصرہ یمانی رضی اللہ تعالی عنہ
خاندانی پس منظر اور لقب
ذو الخویصرہ، جن کا اصل نام حرقوص بن زہیر التمیمی تھا، ایک ایسا شخص ہے جس کا ذکر اسلامی تاریخ میں خاص طور پر اس کے ایک متنازعہ کردار کی وجہ سے ملتا ہے۔ آپ کا تعلق بنو تمیم قبیلے سے تھا، اور اسی وجہ سے انہیں ‘التمیمی’ کہا جاتا ہے۔ آپ کے نام کے ساتھ ‘یمانی’ کی نسبت کسی مستند تاریخی حوالے سے ثابت نہیں ہوتی، بلکہ معروف تاریخی روایات میں انہیں "ذو الخویصرة التميمي” ہی لکھا گیا ہے۔ ‘ذو الخویصرہ’ کا لقب آپ کو یا تو آپ کی چھوٹی جسامت، یا کسی خاص جسمانی ساخت، یا پھر آپ کی ملکیت میں موجود ایک چھوٹی تھیلی (خویصرہ) کی وجہ سے دیا گیا تھا۔
واضح رہے کہ ذو الخویصرہ کو اسلامی تاریخ میں ایک متنازعہ شخصیت سمجھا جاتا ہے۔ آپ کے نام کے ساتھ "رضی اللہ تعالی عنہ” کی دعا استعمال کرنا اسلامی علمی اور تاریخی اجماع کے خلاف ہے، کیونکہ یہ لقب صرف صحابہ کرام کے لیے مخصوص ہے جنہوں نے ایمان کی حالت میں نبی اکرم ﷺ کی صحبت اختیار کی اور اسی حالت میں دنیا سے رخصت ہوئے۔ ذو الخویصرہ کے اعمال اور نبی اکرم ﷺ کے ان کے بارے میں کیے گئے ارشادات کی روشنی میں، مسلم علماء انہیں خوارج کے اولین پیش روؤں میں سے سمجھتے ہیں اور ان کے لیے یہ اعزازی لقب استعمال نہیں کرتے۔
ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام
ذو الخویصرہ کی ابتدائی زندگی کے بارے میں بہت کم تفصیلات دستیاب ہیں۔ آپ نبی اکرم ﷺ کے زمانے میں موجود تھے اور بظاہر اسلام قبول کر چکے تھے۔ آپ کا ذکر سب سے پہلے غزوہ حنین کے بعد مال غنیمت کی تقسیم کے موقع پر آتا ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ آپ اس وقت تک دائرہ اسلام میں داخل ہو چکے تھے۔ اسلام قبول کرنے کے باوجود، آپ کے اندر وہ فکری انحراف اور روحانی کجی پائی جاتی تھی جس کی نشاندہی نبی اکرم ﷺ نے کی۔
نمایاں کارنامے اور خدمات
ذو الخویصرہ کا "کارنامہ” درحقیقت ایک ایسا واقعہ ہے جو اسلامی تاریخ میں ان کی بدنامی کا سبب بنا۔ غزوہ حنین کے بعد جب نبی اکرم ﷺ مال غنیمت تقسیم فرما رہے تھے، تو ذو الخویصرہ آگے بڑھے اور نہایت گستاخانہ انداز میں عرض کیا: "اے محمد! عدل کیجیے!” (اِعْدِلْ یَا مُحَمَّدُ!) یہ جملہ نبی اکرم ﷺ جیسے عادل اور صادق ہستی پر ایک صریح الزام تھا۔
نبی اکرم ﷺ نے اس پر فرمایا: "افسوس تم پر! اگر میں عدل نہیں کروں گا تو اور کون عدل کرے گا؟ اگر میں نے عدل نہیں کیا تو تم خسارے اور نقصان میں مبتلا ہو جاؤ گے۔” (وَیْلَکَ! وَمَنْ یَعْدِلُ إِذَا لَمْ أَعْدِلْ؟ قَدْ خِبْتَ وَخَسِرْتَ إِنْ لَمْ أَکُنْ أَعْدِلُ) اس کے بعد نبی اکرم ﷺ نے ان کے بارے میں اور ان کی نسل کے بارے میں ایک اہم پیشین گوئی فرمائی: "اس شخص کی نسل سے ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو قرآن پڑھیں گے لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا۔ وہ اسلام سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر کمان سے نکل جاتا ہے۔ تم میں سے کوئی اپنی نمازوں کو ان کی نمازوں کے مقابلے میں حقیر سمجھے گا اور اپنے روزوں کو ان کے روزوں کے مقابلے میں۔” (یَخْرُجُ مِنْ ضِئْضِئِ هَذَا قَوْمٌ یَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا یُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ، یَمْرُقُونَ مِنَ الْإِسْلَامِ مُرُوقَ السَّهْمِ مِنَ الرَّمِیَّةِ. تَحْقِرُونَ صَلَاتَکُمْ مَعَ صَلَاتِهِمْ، وَصِیَامَکُمْ مَعَ صِیَامِهِمْ)
یہ پیشین گوئی خوارج کے ظہور کے بارے میں تھی، جنہوں نے بعد ازاں سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ کے دور خلافت میں فتنہ برپا کیا اور کئی بے گناہوں کے قتل کے مرتکب ہوئے۔ ذو الخویصرہ کا یہ واقعہ انہیں خوارج کے فکری پیشوا اور انحراف کے پہلے مظہر کے طور پر پیش کرتا ہے۔
میراث اور وصال
ذو الخویصرہ کا انتقال کب اور کیسے ہوا، اس بارے میں مستند تاریخی تفصیلات بہت کم ہیں۔ بعض روایات انہیں حرقوص بن زہیر التمیمی ہی قرار دیتی ہیں جو بعد میں خوارج کا حصہ بنے اور جنگ نہروان میں سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ کے خلاف لڑتے ہوئے مارے گئے، یا کم از کم ان کے نظریاتی اثرات خوارج کی تحریک میں شامل ہوئے۔ آپ کی میراث ایک انتباہ کے طور پر ہے کہ ظاہری عبادت اور قرآن خوانی کے باوجود اگر دل میں تکبر، بدگمانی، اور اطاعت رسول ﷺ کا فقدان ہو تو انسان ہدایت سے بھٹک کر شدید گمراہی کا شکار ہو سکتا ہے۔ آپ کا واقعہ مسلمانوں کو دین کے ظاہری پہلوؤں کے ساتھ ساتھ اس کے باطنی آداب اور فہم کی اہمیت بھی سکھاتا ہے۔
مستند حوالہ جات
- صحیح بخاری، کتاب الأدب، باب: قول الرجل ويلك أو ثكلتك أمك
- صحیح مسلم، کتاب الزکوٰۃ، باب: ذکر الخوارج وصفاتہم
- تفسیر ابن کثیر، سورہ توبہ کی بعض آیات کے ذیل میں خوارج کا ذکر
- تاریخ طبری (تاریخ الرسل والملوک)
- البدایہ والنہایہ از ابن کثیر، خوارج کے ذکر میں
