خیثمہ بن الحارث رضی اللہ تعالی عنہ

خاندانی پس منظر اور لقب

حضرت خیثمہ بن الحارث رضی اللہ تعالی عنہ کا تعلق مدینہ منورہ کے معروف قبیلے خزرج کی شاخ بنو غنم سے تھا، جو انصار کے عظیم قبائل میں سے ایک ہے۔ آپ کا مکمل نام خیثمہ بن الحارث بن مالک بن کعب بن عامر بن غنم بن عدی بن النجار الأنصاري الخزرجي تھا۔ آپ رضی اللہ تعالی عنہ کا شمار مدینہ کے ان چند خوش نصیب افراد میں ہوتا ہے جنہوں نے اسلام کو اس کے ابتدائی دور میں قبول کیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نصرت اور حمایت کا بیڑا اٹھایا۔ آپ کی کنیت ابو سعد بھی بیان کی جاتی ہے، جو آپ کے بیٹے سعد بن خیثمہ کے نام پر تھی۔ آپ کا خاندان اسلام کی فداکاری اور جہاد فی سبیل اللہ کے لیے اپنی جانوں کو قربان کرنے میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔

ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام

حضرت خیثمہ رضی اللہ تعالی عنہ اپنی قوم کے معزز افراد میں سے تھے۔ مدینہ منورہ میں آپ کی زندگی اسلام سے قبل عام عربوں کی سی تھی، لیکن فطری طور پر حق کی تلاش ان کے دل میں موجود تھی۔ جب مکہ مکرمہ سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مبلغ حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ تعالی عنہ مدینہ تشریف لائے اور اسلام کی دعوت پیش کی تو حضرت خیثمہ رضی اللہ تعالی عنہ ان ابتدائی افراد میں شامل تھے جنہوں نے اس دعوت کو خندہ پیشانی سے قبول کیا۔
آپ ان 70 خوش نصیب انصار صحابہ کرام میں سے تھے جنہوں نے ہجرت سے قبل مدینہ کے مقام عقبہ میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دستِ مبارک پر دوسری بیعتِ عقبہ کی، جسے بیعتِ کبریٰ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ بیعت تاریخِ اسلام کا ایک اہم موڑ ثابت ہوئی جس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کے لیے مدینہ کی طرف ہجرت کا راستہ ہموار کیا۔ اس بیعت کے ذریعے انصار نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور مہاجرین کو مکمل تحفظ اور مدد فراہم کرنے کا عہد کیا۔ اس وقت سے ہی حضرت خیثمہ رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنی زندگی اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت میں گزارنے کا عزم کر لیا تھا۔

نمایاں کارنامے اور خدمات

حضرت خیثمہ بن الحارث رضی اللہ تعالی عنہ کی سب سے نمایاں خدمت اور قربانی غزوہ بدر اور غزوہ احد سے وابستہ ہے۔

**غزوہ بدر میں فداکاری کا جذبہ:**
غزوہ بدر کے موقع پر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو جہاد کے لیے پکارا تو حضرت خیثمہ رضی اللہ تعالی عنہ اور ان کے نوجوان بیٹے حضرت سعد بن خیثمہ رضی اللہ تعالی عنہ دونوں نے میدانِ کارزار میں جانے کی خواہش ظاہر کی۔ چونکہ ان کے پاس ایک ہی اونٹ تھا اور دونوں کا جہاد پر جانا ممکن نہ تھا، تو دونوں نے قرعہ اندازی کا فیصلہ کیا تاکہ طے ہو سکے کہ کون جہاد پر جائے۔ قرعہ حضرت سعد رضی اللہ تعالی عنہ کے نام نکلا۔ حضرت خیثمہ رضی اللہ تعالی عنہ اس وقت اپنی عمر رسیدگی اور بیٹے کی شدید خواہش کو دیکھتے ہوئے رک گئے اور بیٹے کو جہاد پر جانے کی اجازت دے دی۔ حضرت سعد بن خیثمہ رضی اللہ تعالی عنہ نے بدر میں جامِ شہادت نوش فرمایا اور انصار کے پہلے شہداء میں سے ایک بنے۔
حضرت خیثمہ رضی اللہ تعالی عنہ کے دل میں اپنے بیٹے کی شہادت کے بعد یہ شدید آرزو پیدا ہوئی کہ کاش میں خود بدر میں شہادت پا جاتا اور اپنے بیٹے کے ساتھ جنت میں شریک ہوتا۔ آپ نے یہ دعا بارہا کی کہ اللہ تعالی مجھے بھی شہادت نصیب فرمائے تاکہ میں جنت میں اپنے بیٹے کے ساتھ رہ سکوں۔

**غزوہ احد میں شہادت:**
اللہ تعالی نے حضرت خیثمہ رضی اللہ تعالی عنہ کی دعا قبول فرمائی۔ غزوہ احد میں آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور بے مثال شجاعت کا مظاہرہ کیا۔ اس غزوہ میں آپ اپنے بیٹے کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے، اللہ کی راہ میں لڑتے ہوئے شہید ہوئے۔ آپ کی شہادت اس بات کا بین ثبوت تھی کہ اللہ کے راستے میں قربانی دینے کا جذبہ ایک مومن کو کس طرح اپنے اہل و عیال سے بھی آگے بڑھ کر میدانِ عمل میں لا کھڑا کرتا ہے۔ آپ رضی اللہ تعالی عنہ کی شہادت اس دعا کی قبولیت تھی جو آپ نے اپنے بیٹے کی شہادت کے بعد کی تھی۔

میراث اور وصال

حضرت خیثمہ بن الحارث رضی اللہ تعالی عنہ کا وصال غزوہ احد کے دن ہوا، جب آپ نے جامِ شہادت نوش فرمایا۔ آپ کی زندگی اور شہادت اسلام کے لیے بے مثال قربانی اور سچے ایمان کی علامت ہے۔ آپ نے یہ ثابت کیا کہ حبِ الٰہی اور حبِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہر رشتے اور ہر مصلحت پر مقدم ہے۔ آپ کی یہ آرزو کہ وہ اپنے شہید بیٹے حضرت سعد بن خیثمہ رضی اللہ تعالی عنہ سے جنت میں ملیں، اللہ تعالی نے قبول فرمائی اور دونوں باپ بیٹے ایک ہی میدانِ جنگ، یعنی احد میں (اگرچہ مختلف مواقع پر، بدر اور احد) یا بالآخر ایک ہی مقصد کی خاطر شہید ہوئے، اور امید ہے کہ جنت میں ان کا مقام بھی رفیع ہوگا۔
آپ کی میراث ایک ایسے صحابی کی ہے جس نے اپنی ذات اور اپنے خاندان کو اللہ کی رضا کے لیے مکمل طور پر وقف کر دیا تھا۔ آپ کا کردار مسلمانوں کے لیے ایک مثالی نمونہ ہے کہ دین کے راستے میں ہر قسم کی قربانی دینے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ آپ کو ان خوش نصیب صحابہ میں شمار کیا جاتا ہے جن کے بارے میں قرآن میں اللہ تعالی نے فرمایا کہ انہوں نے اللہ سے کیے گئے عہد کو سچ کر دکھایا۔ آپ کا تذکرہ سیرت کی کتابوں میں انتہائی عقیدت اور احترام سے کیا جاتا ہے۔

مستند حوالہ جات

  • صحیح بخاری، کتاب المغازی، باب قتل ابی جہل
  • صحیح مسلم، کتاب الفضائل، باب فضائل اصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم
  • سیرت ابن ہشام، جلد 1، ذکر بیعۃ العقبۃ الثانیہ
  • البدایہ والنہایہ از ابن کثیر، جلد 3، ذکر غزوہ بدر، ذکر غزوہ احد
  • تاریخ طبری، ذکر غزوہ بدر، ذکر غزوہ احد
  • اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ از ابن الاثیر، جلد 2
  • الاصابہ فی تمییز الصحابہ از ابن حجر عسقلانی، جلد 2