خویلد بن عمرو السلمی رضی اللہ تعالی عنہ

خاندانی پس منظر اور لقب

خویلد بن عمرو السلمی رضی اللہ تعالی عنہ ایک جلیل القدر صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔ آپ کا تعلق عرب کے معروف قبیلے بنو سلیم کی شاخ بنو ذکوان سے تھا۔ آپ کا پورا نام خویلد بن عمرو بن صخر بن حارث بن حارث بن مالک بن حطیط بن جشم بن معاویہ بن بکر بن ہوزان تھا۔ بعض روایات میں آپ کا نسب کچھ مختلف بھی ملتا ہے، مگر آپ کا تعلق بنو سلیم سے ہونا مستند ہے۔ آپ "ابو شراحیل” کی کنیت سے معروف تھے اور یہ کنیت اکثر و بیشتر آپ کی شناخت کا ذریعہ بنی۔ آپ ان خوش نصیب صحابہ میں سے تھے جنہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت اور دین اسلام کی خدمت میں گزارا۔

ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام

حضرت خویلد بن عمرو رضی اللہ تعالی عنہ کی ابتدائی زندگی کے بارے میں بہت زیادہ تفصیلی معلومات دستیاب نہیں ہیں، جو کہ کئی جلیل القدر صحابہ کرام کے لیے ایک عام بات ہے۔ البتہ یہ امر مسلم ہے کہ آپ نے مکہ مکرمہ میں ہی یا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت مدینہ سے قبل جلد ہی اسلام قبول کر لیا تھا۔ آپ نے ہجرت مدینہ کے بعد مدینہ منورہ کا رخ کیا اور اپنی غیر معمولی فقر اور دین کے لیے لگن کی وجہ سے اصحاب صفہ میں شامل ہو گئے۔ اصحاب صفہ وہ صحابہ کرام تھے جن کا نہ کوئی گھر بار تھا اور نہ ہی کوئی ذریعہ معاش، بلکہ وہ مسجد نبوی کے ایک چبوترے پر رہائش پذیر تھے اور اپنی زندگی کا ہر لمحہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دین سیکھنے اور عبادت میں گزارتے تھے۔ حضرت خویلد بن عمرو رضی اللہ تعالی عنہ کا شمار ان مخلص اور پرہیزگار صحابہ میں ہوتا ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے براہ راست شاگردوں اور ہم نشینوں میں سے تھے، اور شب و روز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت سے فیض یاب ہوتے تھے۔

نمایاں کارنامے اور خدمات

حضرت خویلد بن عمرو السلمی رضی اللہ تعالی عنہ کی زندگی کی سب سے بڑی نمایاں خصوصیت اور خدمت آپ کا اصحاب صفہ میں شمولیت ہے۔ آپ نے مسجد نبوی میں رہ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کو براہ راست سنا، سمجھا اور ان پر عمل کیا۔ یہ ان کے علم، تقویٰ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے والہانہ عقیدت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اصحاب صفہ کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصی توجہ اور شفقت رہی، اور ان کا شمار امت کے سب سے پہلے علمی طلبہ اور مجاہدین میں ہوتا ہے۔
آپ ان خوش نصیب صحابہ میں بھی شامل تھے جنہوں نے سنہ 6 ہجری میں حدیبیہ کے مقام پر "بیعت رضوان” میں حصہ لیا۔ اس بیعت میں صحابہ کرام نے ایک درخت کے نیچے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر موت تک لڑنے کی بیعت کی تھی، اور اس بیعت کرنے والوں کے بارے میں قرآن مجید میں اللہ تعالی نے اپنی رضا کا اعلان فرمایا ہے: "لَقَدْ رَضِيَ اللّٰهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ اِذْ يُبَايِعُوْنَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ” (سورہ الفتح، آیت 18)۔ یہ آپ کے بلند مقام کی ایک عظیم دلیل ہے۔
آپ نے دیگر غزوات اور سرایا میں بھی حصہ لیا، جہاں آپ نے اپنی شجاعت اور ایمانی جذبے کا مظاہرہ کیا۔ اگرچہ آپ نے بہت زیادہ احادیث روایت نہیں کیں، لیکن آپ کی چند روایات محدثین کی کتب میں موجود ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ آپ نے براہ راست رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فیض حاصل کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کو محفوظ کیا۔

میراث اور وصال

حضرت خویلد بن عمرو السلمی رضی اللہ تعالی عنہ کی میراث ان کی وہ زندگی ہے جو انہوں نے دین اسلام کی خدمت، علم کے حصول اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت میں گزاری۔ آپ اصحاب صفہ کے ایک روشن ستارے تھے، جو اس بات کی علامت ہیں کہ سچی لگن اور تقویٰ کی بنیاد پر ہی عظیم مقامات حاصل ہوتے ہیں۔ آپ کی زندگی سادگی، فقر، دین سے محبت اور استقامت کا ایک بہترین نمونہ ہے۔
آپ کے وصال کے بارے میں کوئی متعین تاریخ یا مقام دستیاب نہیں ہے، تاہم یہ واضح ہے کہ آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی زندگی گزاری اور اسلامی فتوحات کے دور میں اپنی زندگی کے آخری ایام گزارے۔ آپ کی وفات مدینہ منورہ میں ہوئی یا کسی اسلامی محاذ پر، اس بارے میں کوئی ٹھوس روایت موجود نہیں۔ اللہ تعالی آپ سے راضی ہو۔

مستند حوالہ جات

  • ابن حجر عسقلانی، *الإصابة في تمييز الصحابة*، جلد 2، صفحہ 249۔
  • ابن عبد البر، *الاستيعاب في معرفة الأصحاب*، جلد 2، صفحہ 449۔
  • ابن اثیر جزری، *أسد الغابة في معرفة الصحابة*، جلد 2، صفحہ 132۔
  • ذہبی، *سير أعلام النبلاء*، جلد 3، صفحہ 525۔
  • ابن کثیر، *البداية والنهاية*، جلد 3، صفحہ 211 (باب: أصحاب الصفة)۔