خوات بن جبیر رضی اللہ تعالی عنہ
خاندانی پس منظر اور لقب
خوات بن جبیر رضی اللہ تعالی عنہ کا تعلق مدینہ منورہ کے معروف قبیلہ اوس کی شاخ بنو ثعلبہ سے تھا۔ آپ کا پورا نام خوات بن جبیر بن النعمان بن أمية بن امرئ القيس بن ثعلبة بن عمرو بن عوف بن مالک بن اوس الانصاری الاوسی تھا۔ آپ انصار میں سے تھے، جو مدینہ کے مقامی باشندے تھے اور جنہوں نے ہجرت کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مہاجرین کی بھرپور مدد کی تھی۔ آپ کی کنیت ابو عبد اللہ تھی۔ آپ اپنی حاضر جوابی اور لطیف طبع کے لیے مشہور تھے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین میں آپ کا شمار خوش طبع افراد میں ہوتا تھا۔
ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام
خوات بن جبیر رضی اللہ تعالی عنہ کی ابتدائی زندگی مدینہ منورہ میں گزری۔ آپ ان معدودے چند خوش نصیب انصاریوں میں سے تھے جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ ہجرت سے قبل ہی اسلام قبول کر لیا تھا یا ہجرت کے فوراً بعد اسلام قبول کر کے نبی کریم ﷺ کا ساتھ دینے والوں میں شامل ہو گئے۔ مدینہ میں اسلام کی دعوت تیزی سے پھیل رہی تھی اور خوات بن جبیر رضی اللہ عنہ نے بھی اس دعوت کو لبیک کہا اور اسلام کی نورانیت کو قبول کیا۔ آپ ان عظیم صحابہ کرام میں سے ہیں جنہوں نے اسلام کی خاطر اپنی جان و مال اور وقت کو وقف کر دیا۔ آپ کی اسلام سے والہانہ عقیدت اور اطاعتِ رسول ﷺ ابتدائی دور سے ہی نمایاں تھی۔ آپ کی زندگی جہاد فی سبیل اللہ، نبی کریم ﷺ کی صحبت اور دین کی خدمت میں گزری۔
نمایاں کارنامے اور خدمات
خوات بن جبیر رضی اللہ تعالی عنہ کی زندگی جہاد اور خدمت دین سے عبارت تھی۔ آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تمام غزوات میں شریک ہوئے۔ ان میں سب سے نمایاں غزوہ بدر، غزوہ احد، غزوہ خندق، اور صلح حدیبیہ سمیت تمام اہم مہمات شامل ہیں۔ آپ کی شجاعت اور بہادری مثالی تھی۔
غزوہ بدر کے موقع پر آپ کی ایک خاص صورتحال احادیث میں بیان کی گئی ہے۔ جب نبی کریم ﷺ غزوہ بدر کے لیے نکلے، تو خوات بن جبیر رضی اللہ عنہ کسی ضرورت کے تحت باہر گئے ہوئے تھے اور آپ نے اپنی تلوار ایک عورت کے گھر چھوڑ دی تھی۔ جب آپ واپس آئے تو دیکھا کہ لشکرِ اسلام کوچ کر چکا ہے۔ آپ نے فوراً اپنی تلوار لی اور نبی کریم ﷺ کے پیچھے روانہ ہو گئے اور راستے میں آپ سے جا ملے۔ بعد ازاں، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس واقعے کو یاد کرتے ہوئے آپ سے فرمایا: "اے خوات! اس دن تم نے کتنی خوبصورت آواز میں ہنسی اڑائی تھی!” آپ نے جواب دیا: "اے امیر المومنین! اللہ تعالیٰ کی راہ میں ہنسی بھی بری نہیں ہوتی۔” رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس پر مسکرا دیے۔ یہ واقعہ آپ کی حاضر جوابی اور لطیف طبع کا ثبوت ہے، جس سے نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام محظوظ ہوتے تھے۔
آپ رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے انتہائی مقرب صحابہ میں سے تھے اور آپ ﷺ کو ان سے انسیت تھی۔ ایک سفر کے دوران نبی کریم ﷺ نے آپ سے فرمایا کہ گانا گا کر سناؤ۔ آپ نے جواباً حنظلہ بن الربیع کی طرف اشارہ کیا کہ ان کی آواز زیادہ اچھی ہے۔ آپ نے کچھ احادیث بھی روایت کی ہیں، جن میں مسند احمد میں موزوں پر مسح سے متعلق ایک حدیث بھی شامل ہے۔
میراث اور وصال
خوات بن جبیر رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنی تمام زندگی دین اسلام کی خدمت اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت میں گزاری۔ آپ نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں وفات پائی۔ مؤرخین میں آپ کی وفات کی تاریخ کے بارے میں کچھ اختلاف پایا جاتا ہے؛ بعض روایات 33 ہجری کا ذکر کرتی ہیں جبکہ دیگر 40 ہجری میں آپ کے وصال کا بتاتی ہیں۔ آپ کو مدینہ منورہ کے مشہور قبرستان جنت البقیع میں دفن کیا گیا، جہاں آپ آج بھی ہزاروں دیگر صحابہ کرام اور اہلِ بیت اطہار کے ساتھ محوِ آرام ہیں۔ آپ کی میراث آپ کی شجاعت، اسلام سے محبت، نبی کریم ﷺ سے والہانہ تعلق اور آپ کی حاضر جوابی اور خوش طبعی کی صورت میں آج بھی تاریخ اسلام میں روشن ہے۔
مستند حوالہ جات
- ابن سعد، الطبقات الکبریٰ
- ابن حجر عسقلانی، الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ
- ابن عبد البر، الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب
- ابن کثیر، البدایۃ والنھایۃ
- امام بخاری، الادب المفرد (غزوہ بدر کے واقعے کے حوالے سے)
- امام احمد بن حنبل، المسند (روایت کردہ احادیث کے حوالے سے)
