خنیس بن حذافہ رضی اللہ تعالی عنہ
خاندانی پس منظر اور لقب
حضرت خنیس بن حذافہ سہمی رضی اللہ تعالی عنہ کا تعلق قریش کے معزز قبیلہ بنو سہم سے تھا۔ آپ کے والد کا نام حذافہ بن قیس تھا۔ آپ نسباً قریشی تھے اور مکہ مکرمہ کے بااثر خاندانوں میں شمار کیے جاتے تھے۔ خنیس رضی اللہ تعالی عنہ اُن خوش نصیب افراد میں سے تھے جنہیں ‘السابقون الاولون’ یعنی سب سے پہلے اسلام قبول کرنے والوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ آپ امیر المؤمنین حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے داماد تھے، کیونکہ آپ کی شادی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی حضرت حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہا سے ہوئی تھی، جو بعد میں اُم المؤمنین بن کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ کے شرف سے سرفراز ہوئیں۔ آپ کا کوئی خاص لقب اگرچہ تاریخ میں بہت زیادہ نمایاں نہیں ملتا، تاہم آپ کی سب سے بڑی پہچان یہ ہے کہ آپ جلیل القدر صحابی، مہاجر اور بدری صحابہ میں سے تھے۔
ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام
حضرت خنیس بن حذافہ رضی اللہ تعالی عنہ نے اسلام کے ابتدائی دور ہی میں ایمان کی دولت سے سرفراز ہو گئے۔ آپ نے دار ارقم میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے تشریف لے جانے سے قبل ہی اسلام قبول کر لیا تھا۔ مکہ مکرمہ میں مشرکین کے مظالم اور ایذا رسانیوں کے سبب آپ نے اپنے دین کی حفاظت کی خاطر حبشہ کی جانب ہجرت فرمائی۔ یہ ہجرت حبشہ اولٰی کہلاتی ہے جس میں آپ نے دیگر مسلمانوں کے ساتھ پناہ لی۔ بعد ازاں جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو مدینہ منورہ کی جانب ہجرت کا حکم دیا تو آپ نے حبشہ سے واپسی اختیار کی اور مکہ سے مدینہ کی جانب ہجرت فرمائی۔ مدینہ منورہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیگر مہاجرین و انصار کے درمیان مؤاخات قائم فرمائی اور آپ کو ایک انصاری صحابی کے ساتھ بھائی چارے کے رشتے میں منسلک فرمایا، جس سے مدینہ کی زندگی میں آپ کو پختگی اور سہارا ملا۔
نمایاں کارنامے اور خدمات
حضرت خنیس بن حذافہ رضی اللہ تعالی عنہ کی زندگی اسلام کی خدمت اور دفاع میں گزری۔ آپ نے کئی اہم غزوات میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے شانہ بشانہ شرکت فرمائی۔ آپ نے غزوہ بدر میں شرکت کا شرف حاصل کیا، جو اسلام کا پہلا فیصلہ کن معرکہ تھا۔ اس غزوہ میں آپ نے نہایت بہادری سے جنگ لڑی اور اسلام کے لیے گراں قدر خدمات انجام دیں۔ غزوہ بدر میں آپ کو شدید زخم آئے جس کی وجہ سے آپ شدید علیل ہو گئے تھے۔ آپ کی علالت نے طول پکڑا اور بالآخر یہی زخم آپ کی شہادت کا سبب بنے۔ بعض روایات میں غزوہ احد میں شرکت کا بھی ذکر ملتا ہے، تاہم آپ کی وفات کا اصل سبب غزوہ بدر کے زخموں کو ہی قرار دیا جاتا ہے۔ آپ کی اہم ترین نسبتوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ آپ کی شادی حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے ہوئی تھی۔
میراث اور وصال
حضرت خنیس بن حذافہ رضی اللہ تعالی عنہ غزوہ بدر کے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے سن 2 ہجری کے اواخر یا سن 3 ہجری کے اوائل میں مدینہ منورہ میں وفات پا گئے۔ آپ کی وفات پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت رنج ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ان کی نماز جنازہ پڑھائی اور انہیں جنت البقیع میں سپرد خاک کیا۔ حضرت خنیس رضی اللہ تعالی عنہ جنت البقیع میں دفن ہونے والے ابتدائی صحابہ میں سے تھے، آپ حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کے بعد بقیع میں دفن ہونے والے دوسرے صحابی تھے۔ آپ کی وفات کے بعد آپ کی زوجہ محترمہ حضرت حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہا عدت مکمل ہونے پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح میں آئیں اور ام المؤمنین ہونے کا شرف حاصل کیا۔ حضرت خنیس بن حذافہ رضی اللہ تعالی عنہ ایک نہایت بہادر، فدائی اور جلیل القدر صحابی تھے جنہوں نے اپنی جوانی اور قیمتی جان راہِ خدا میں قربان کر کے اسلام کی تاریخ میں اپنا نام سنہری حروف سے رقم کروایا۔ آپ کی زندگی مسلمانوں کے لیے دین پر استقامت اور فداکاری کی روشن مثال ہے۔
مستند حوالہ جات
- ابن ہشام، السیرۃ النبویہ
- ابن سعد، الطبقات الکبریٰ
- ابن الاثیر، اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ
- ابن حجر عسقلانی، الاصابہ فی تمییز الصحابہ
- ابن کثیر، البدایہ والنہایہ
- امام بخاری، صحیح بخاری
