خزیمہ بن اوس رضی اللہ تعالی عنہ
خاندانی پس منظر اور لقب
حضرت خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ، جن کا مکمل نسب خزیمہ بن ثابت بن الفاکہ بن ثعلبہ بن سعد بن اوس الانصاری ہے، مدینہ منورہ کے معزز قبیلہ اوس سے تعلق رکھتے تھے۔ اسی نسبت سے انہیں ‘خزیمہ بن اوس’ بھی کہا جاتا ہے، کیونکہ وہ قبیلہ اوس کے ایک معتبر فرد تھے۔ وہ ان عظیم انصار صحابہ کرام میں سے تھے جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ ہجرت سے قبل ہی اسلام قبول کیا اور دین کی نصرت کا بیڑا اٹھایا۔ آپ رضی اللہ عنہ کو ‘ذو الشہادتین’ کے لقب سے جانا جاتا ہے، جس کا مطلب ہے ‘دو گواہیوں والا’۔ یہ لقب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو ایک خاص واقعے کے بعد عطا فرمایا تھا، جب آپ کی اکیلی گواہی کو دو گواہیوں کے برابر قرار دیا گیا تھا۔
ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام
حضرت خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے اور وہیں پلے بڑھے۔ آپ ان خوش نصیب انصار میں شامل تھے جنہوں نے اسلام کی ابتدائی دعوت پر لبیک کہا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے بیعت عقبہ میں شرکت فرمائی یا ہجرت مدینہ سے قبل ہی نورِ ایمان سے منور ہو چکے تھے۔ مدینہ منورہ میں اسلام کی بڑھتی ہوئی روشنی نے آپ کے دل کو منور کیا اور آپ نے اخلاص کے ساتھ دینِ حق کو اپنایا۔ ہجرت نبوی کے بعد، آپ نے مدینہ میں مہاجرین کی بھرپور مدد کی اور انصار کی مثالی اخوت اور ایثار کی عملی تصویر پیش کی۔ آپ رضی اللہ عنہ کی ابتدائی زندگی تقویٰ، سادگی اور سچائی پر مبنی تھی، جو بعد میں آپ کے نمایاں اوصاف کے طور پر ابھرے۔
نمایاں کارنامے اور خدمات
حضرت خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ کی زندگی متعدد فضائل اور نمایاں کارناموں سے مزین ہے۔ آپ کو ‘ذو الشہادتین’ کا لقب ملنے کا واقعہ بہت مشہور ہے:
- ذو الشہادتین کا لقب: ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اعرابی سے گھوڑا خریدا۔ جب گھوڑے کی قیمت ادا کرنے کا وقت آیا تو اعرابی مُکر گیا اور کہا کہ میں نے گھوڑا بیچا ہی نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گواہ طلب کیے۔ اس موقع پر حضرت خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ نے آگے بڑھ کر گواہی دی کہ "ہاں! میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ نے گھوڑا خریدا ہے۔” رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حیرانی سے پوچھا: "تم نے تو یہ بیع دیکھی نہیں، پھر گواہی کیسے دے رہے ہو؟” حضرت خزیمہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: "یا رسول اللہ! ہم آپ کی رسالت کی تصدیق کرتے ہیں اور آسمانی خبروں پر ایمان لاتے ہیں، کیا ہم ایک معمولی خرید و فروخت پر آپ کی تصدیق نہیں کر سکتے؟” اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بے حد خوش ہوئے اور فرمایا: "من شهد له خزیمة، فحسبه” (جس کے لیے خزیمہ گواہی دے، اس کے لیے وہی کافی ہے)۔ اور آپ کی اکیلی گواہی کو دو گواہیوں کے برابر قرار دے دیا۔
- غزوات میں شرکت: آپ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تمام بڑے غزوات، بشمول غزوہ بدر، احد، خندق، اور دیگر میں شرکت فرمائی۔ آپ ایک بہادر اور جانباز سپاہی تھے اور میدانِ جنگ میں ثابت قدم رہتے تھے۔
- جمع قرآن میں کردار: حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں جب قرآن مجید کو ایک مصحف میں جمع کیا جا رہا تھا، تو سورۃ التوبہ کی آخری دو آیات (لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِّنْ أَنفُسِكُمْ…) صرف حضرت خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس لکھی ہوئی ملی تھیں اور کسی دوسرے کے پاس مکمل طور پر موجود نہیں تھیں۔ زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی موجودگی میں حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے ان آیات کو حضرت خزیمہ رضی اللہ عنہ سے لے کر مصحف میں شامل کیا، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی گواہی کو دو گواہیوں کے برابر قرار دیا تھا۔ یہ آپ کا ایک عظیم علمی و دینی کارنامہ ہے جس نے قرآن کی حفاظت میں کلیدی کردار ادا کیا۔
میراث اور وصال
حضرت خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ نے اپنی پوری زندگی دینِ اسلام کی خدمت میں گزاری۔ وہ سچے، ایماندار اور شجاع تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد، آپ نے خلفائے راشدین کی امامت کو قبول کیا اور ان کی سرپرستی میں اسلامی ریاست کے استحکام کے لیے کام کرتے رہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فتنے کے دور میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا ساتھ دیا اور جنگِ صفین میں اُن کی فوج میں شامل ہو کر دادِ شجاعت دی۔ بالاخر، آپ نے اسی جنگ میں شہادت کا رتبہ پایا۔ آپ سن 37 ہجری میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ جنگ کرتے ہوئے شہید ہوئے۔ آپ کی شہادت حق پرستی اور سچائی پر قائم رہنے کی ایک زندہ مثال ہے۔ آپ کی میراث سچائی، امانت، شجاعت اور دینِ حق کے لیے بے لوث خدمت پر مشتمل ہے، جسے امت مسلمہ ہمیشہ یاد رکھے گی۔
مستند حوالہ جات
- صحیح بخاری، کتاب الشہادات، باب شهادة الزور.
- سنن ابی داؤد، کتاب الاقضية، باب كيف تقام الشهادة.
- تاریخ طبری (Tarikh al-Tabari)، جلد 3 و 4.
- البدایہ و النہایہ (Al-Bidayah wa al-Nihayah) از ابن کثیر، جلد 7 و 8.
- اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ (Usd al-Ghabah fi Ma’rifat al-Sahabah) از ابن الاثیر، جلد 2.
- سیر اعلام النبلاء (Siyar A’lam al-Nubala) از علامہ ذہبی، جلد 2.
