خریم بن فاتک رضی اللہ تعالی عنہ

خاندانی پس منظر اور لقب

حضرت خریم بن فاتک رضی اللہ تعالی عنہ کا پورا نام خریم بن فاتک بن اخرم بن شداد بن عمر بن فاتک بن قلع بن عامر بن اسد بن خزیمہ تھا۔ آپ کا تعلق عرب کے مشہور قبیلے بنو اسد بن خزیمہ سے تھا۔ یہ قبیلہ زمانۂ جاہلیت اور اسلام دونوں میں ایک معزز اور اہم قبیلہ سمجھا جاتا تھا۔ آپ کی کنیت ابو یحییٰ تھی، لیکن آپ اپنے اسم گرامی خریم بن فاتک سے ہی زیادہ مشہور ہیں۔ آپ کو تاریخِ اسلام میں جلیل القدر صحابہ کرام میں شمار کیا جاتا ہے۔

ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام

حضرت خریم بن فاتک رضی اللہ تعالی عنہ کی ابتدائی زندگی کے بارے میں تفصیلی معلومات اگرچہ بہت زیادہ دستیاب نہیں ہیں، لیکن یہ واضح ہے کہ آپ نے زمانۂ جاہلیت سے نکل کر اسلام کی روشنی کو بہت جلد قبول فرما لیا تھا۔ آپ ان خوش نصیب صحابہ کرام میں سے تھے جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ طیبہ میں ہی اسلام قبول کیا اور آپ ﷺ کی صحبت کا شرف حاصل کیا۔ آپ رضی اللہ عنہ کا اسلام قبول کرنا فتح مکہ سے قبل ہوا تھا اور آپ ان صحابہ میں سے تھے جنہوں نے 6 ہجری میں حدیبیہ کے مقام پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دستِ مبارک پر "بیعت رضوان” کی تھی، جس کا ذکر قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے بڑے فخر سے فرمایا ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ آپ اسلام کے ابتدائی اور مخلص پیروکاروں میں سے تھے۔

نمایاں کارنامے اور خدمات

حضرت خریم بن فاتک رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنی تمام زندگی دینِ اسلام کی خدمت اور فروغ کے لیے وقف کر دی۔ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ متعدد غزوات اور جہادی مہمات میں شرکت فرمائی اور اپنی شجاعت و بہادری کے جوہر دکھائے۔
ان غزوات میں بیعت رضوان کے بعد فتح مکہ، غزوۂ حنین اور غزوۂ تبوک شامل ہیں۔ آپ ان مٹھی بھر جانثار صحابہ میں سے تھے جنہوں نے غزوۂ حنین میں جب ابتدائی طور پر مسلمانوں کے پاؤں اکھڑ گئے تھے، اس وقت بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ نہیں چھوڑا اور ثابت قدمی سے لڑتے رہے۔
آپ رضی اللہ عنہ کو میدانِ جہاد میں آپ کی خاص وضع قطع کے حوالے سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ ایک روایت کے مطابق، آپ رضی اللہ عنہ اپنے بالوں کو باندھ کر رکھتے تھے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں جنگ میں بال کھلے رکھنے کی تلقین فرمائی تاکہ وہ زیادہ ہیبت ناک اور باوقار دکھائی دیں۔
علم حدیث کے میدان میں بھی آپ کا اہم مقام ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کئی احادیث روایت کیں، جن میں سے ایک بہت مشہور حدیث حیا اور پردے کے بارے میں ہے، جسے سنن ابی داؤد اور جامع ترمذی میں روایت کیا گیا ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: "اللہ تعالیٰ اس بات کا زیادہ حق دار ہے کہ اس سے حیا کی جائے بنسبت لوگوں سے۔” (اللہ تعالی احق ان يستحيى منه الناس) یہ حدیث آپ کی فہم دین اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کو محفوظ رکھنے کی شہادت ہے۔
آپ نے بعد ازاں عراق کی فتوحات میں بھی حصہ لیا اور کوفہ کے علاقے میں سکونت اختیار کی، جہاں آپ نے علم و دین کی نشر و اشاعت میں بھی اپنا کردار ادا کیا۔

میراث اور وصال

حضرت خریم بن فاتک رضی اللہ تعالی عنہ نے ایک طویل عمر پائی اور دینِ اسلام کی خدمت میں زندگی بسر کرتے رہے۔ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد بھی اسلامی ریاست کی خدمت کرتے رہے اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کے دورِ خلافت تک بقیدِ حیات رہے۔ آپ نے تقریباً 60 ہجری کے لگ بھگ عراق کے شہر کوفہ میں وفات پائی۔ آپ کی وفات کے بعد آپ کو وہیں دفن کیا گیا۔
آپ کی میراث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کا علم، اسلامی فتوحات میں عملی شرکت، اور آپ کی سادگی، دین داری، اور تقویٰ شامل ہیں۔ آپ نے امتِ مسلمہ کو حیا اور تقویٰ کے اسباق دیے اور اپنی زندگی سے یہ ثابت کیا کہ ایک مؤمن کو ہر حال میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت اور رضا میں رہنا چاہیے۔ آپ کا نام ان صحابہ کرام میں ہمیشہ روشن رہے گا جنہوں نے اسلام کی بنیادوں کو اپنے خون اور کردار سے مستحکم کیا۔

مستند حوالہ جات

  • ابن ہشام، السیرۃ النبویہ
  • طبری، تاریخ الامم والملوک
  • ابن کثیر، البدایہ والنہایہ
  • ابن اثیر جزری، اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ
  • ابن عبدالبر، الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب
  • ابن حجر عسقلانی، الاصابہ فی تمییز الصحابہ
  • امام ترمذی، سنن الترمذی
  • امام ابو داؤد، سنن ابی داؤد