خراش بن الصمہ رضی اللہ تعالی عنہ
خاندانی پس منظر اور لقب
حضرت خراش بن الصمہ رضی اللہ تعالی عنہ کا مکمل نام خراش بن الصمہ بن عمرو بن عدی بن نابی بن عمرو بن سواد بن غنم بن کعب بن سلمہ تھا۔ آپ کا تعلق مدینہ منورہ کے معروف قبیلہ خزرج کی شاخ بنو سلمہ سے تھا، جو انصار کے عظیم قبائل میں سے ایک تھا۔ آپ کا قبیلہ بنو سلمہ اپنی بہادری اور سرفروشی کے لیے مشہور تھا۔ مدینہ منورہ میں اسلام کی آمد سے قبل بھی اس قبیلے کی ایک نمایاں حیثیت تھی۔ حضرت خراش رضی اللہ تعالی عنہ کو "الأنصاری السلمی” کے لقب سے بھی یاد کیا جاتا ہے، جو آپ کی انصاری اور بنو سلمہ سے نسبت کو ظاہر کرتا ہے۔ آپ کی سب سے بڑی شناخت یہ ہے کہ آپ نے غزوۂ بدر اور بیعتِ عقبہ ثانیہ میں شرکت کی، جس کی وجہ سے آپ کو "بدری” اور "عقبوی” بھی کہا جاتا ہے۔
ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام
حضرت خراش بن الصمہ رضی اللہ تعالی عنہ کی ابتدائی زندگی مدینہ منورہ (اس وقت یثرب) میں گزری۔ آپ اپنی قوم کے بہادر اور باوقار نوجوانوں میں شمار ہوتے تھے۔ جب اسلام کی دعوت مدینہ منورہ پہنچی، تو آپ ان خوش نصیب افراد میں سے تھے جنہوں نے حق کو پہچانا اور بلا جھجھک اسلام قبول کیا۔ آپ کی قبولیت اسلام کا ایک اہم سنگ میل بیعتِ عقبہ ثانیہ ہے، جو نبوت کے تیرہویں سال (622ء) میں منیٰ کے مقام پر ہوئی۔ اس بیعت میں مدینہ منورہ سے تقریباً 70 انصاری مردوں اور 2 خواتین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دستِ مبارک پر بیعت کی، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یثرب ہجرت کی دعوت دی۔ حضرت خراش بن الصمہ رضی اللہ تعالی عنہ اس باوقار وفد میں شامل تھے جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہجرت کے بعد آپ کی مکمل حفاظت، اطاعت اور نصرت کا عہد کیا۔ یہ بیعت اسلامی تاریخ میں ایک انتہائی فیصلہ کن موڑ کی حیثیت رکھتی ہے جس نے ہجرت مدینہ کی راہ ہموار کی۔
نمایاں کارنامے اور خدمات
حضرت خراش بن الصمہ رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنی زندگی میں اسلام اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بے شمار خدمات انجام دیں۔ آپ کے چند نمایاں کارنامے درج ذیل ہیں:
- بیعتِ عقبہ ثانیہ میں شرکت: جیسا کہ ذکر کیا گیا، آپ ان 70 انصار میں سے تھے جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ آنے کی دعوت دی اور ہر حال میں آپ کی مدد و حمایت کا عہد کیا۔ یہ ایک عظیم اعزاز ہے جس نے ہجرتِ نبوی اور اسلامی ریاست کے قیام کی بنیاد رکھی۔
- غزوہ بدر میں شمولیت: آپ ان مبارک صحابہ کرام میں سے ہیں جنہوں نے غزوۂ بدر میں شرکت کی، جو اسلام کا پہلا فیصلہ کن معرکہ تھا۔ غزوۂ بدر کے شرکاء کو اسلام میں ایک خاص مقام حاصل ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدری صحابہ کے لیے اللہ سے مغفرت اور جنت کی بشارت دی تھی۔ حضرت خراش رضی اللہ تعالی عنہ نے اس غزوہ میں شجاعت اور جانثاری کا مظاہرہ کیا۔
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت: ہجرت مدینہ کے دوران جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبا میں قیام فرما تھے، آپ نے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کو مکہ سے اپنے اہل خانہ کو لانے کا حکم دیا۔ اس انتظار کے دوران، حضرت خراش بن الصمہ رضی اللہ تعالی عنہ ان چند انصاری صحابہ میں شامل تھے جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت پر مامور رہ کر آپ کو ہر قسم کے خطرے سے بچائے رکھا۔
- دیگر غزوات میں شرکت: غزوۂ بدر کے علاوہ، آپ نے غزوۂ احد، غزوۂ خندق اور دیگر تمام غزوات و سرایا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے شانہ بشانہ حصہ لیا۔ آپ نے ہمیشہ میدانِ جنگ میں ثابت قدمی، بہادری اور اطاعت کا عملی نمونہ پیش کیا۔
- فیاضی اور ایثار: انصار مدینہ کی طرح، حضرت خراش رضی اللہ تعالی عنہ بھی فیاضی اور ایثار کے اوصاف سے متصف تھے۔ انہوں نے مہاجرین کی مدینہ آمد پر ان کی بھرپور مدد کی اور انہیں اپنے گھروں اور مال و متاع میں شریک کیا۔
میراث اور وصال
حضرت خراش بن الصمہ رضی اللہ تعالی عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی اسلامی ریاست کی خدمات جاری رکھیں۔ آپ نے خلفائے راشدین کے دور میں بھی اپنی ایمانی قوت اور عسکری صلاحیتوں کو اسلام کی سربلندی کے لیے استعمال کیا۔
آپ کے وصال کے بارے میں تاریخ میں مختلف روایات ملتی ہیں۔ بعض مؤرخین کے مطابق، آپ نے حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے دورِ خلافت میں وفات پائی۔ تاہم، زیادہ مستند روایات کے مطابق، حضرت خراش بن الصمہ رضی اللہ تعالی عنہ نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالی عنہ کے دورِ خلافت میں 37 ہجری کو جنگِ صفین میں جامِ شہادت نوش فرمایا۔ آپ نے حق کی راہ میں لڑتے ہوئے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا اور اللہ کی راہ میں شہادت کا عظیم رتبہ حاصل کیا۔
حضرت خراش بن الصمہ رضی اللہ تعالی عنہ کی زندگی انصارِ مدینہ کی عظمت، قربانی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے والہانہ محبت کی عکاس ہے۔ آپ کی بیعتِ عقبہ میں شرکت اور غزوۂ بدر میں شمولیت، آپ کے لیے ایک دائمی اعزاز ہے۔ آپ نے امتِ مسلمہ کے لیے شجاعت، وفاداری اور اخلاص کی لازوال مثالیں قائم کیں۔ اللہ تعالیٰ آپ سے راضی ہو اور آپ کے درجات بلند فرمائے۔
مستند حوالہ جات
- سیرت ابن ہشام (Sirat Ibn Hisham) – جلد اول و دوم
- طبقات ابن سعد (Tabaqat Ibn Sa’d) – جلد سوم
- الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب لابن عبدالبر (Al-Isti’ab fi Ma’rifat al-Ashab by Ibn Abd al-Barr) – جلد اول
- اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ لابن اثیر (Usd al-Ghabah fi Ma’rifat al-Sahabah by Ibn al-Athir) – جلد دوم
- الاصابۃ فی تمییز الصحابہ لابن حجر عسقلانی (Al-Isabah fi Tamyiz al-Sahabah by Ibn Hajar al-Asqalani) – جلد دوم
- تاريخ الطبري (Tarikh al-Tabari) – جلد دوم و سوم
