خبیب بن الاسود انصاری رضی اللہ تعالی عنہ
خاندانی پس منظر اور لقب
حضرت خبیب بن عدی بن مالک بن عوف الانصاری الاوسی رضی اللہ تعالی عنہ کا شمار مدینہ منورہ کے جلیل القدر صحابہ کرام میں ہوتا ہے۔ آپ کا تعلق قبیلہ اوس کی شاخ بنو عوف سے تھا جو انصار مدینہ کے معزز قبائل میں سے ایک تھا۔ آپ کا لقب عام طور پر ‘شہید الرجیع’ کے نام سے معروف ہے، جو آپ کی شہادت کے دلخراش اور یادگار واقعے کی نسبت سے ہے۔ آپ ان خوش نصیب اصحاب میں سے تھے جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کی تشریف آوری سے قبل ہی اسلام قبول کر لیا تھا اور آپ کے مدینہ تشریف لانے پر آپ کی بھرپور نصرت کا بیڑا اٹھایا۔
ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام
حضرت خبیب بن عدی رضی اللہ تعالی عنہ کی ابتدائی زندگی کے بارے میں بہت زیادہ تفصیلی معلومات دستیاب نہیں، تاہم اس قدر یقینی ہے کہ آپ مدینہ میں اسلام کی دعوت پہنچنے کے بعد ان اولین افراد میں سے تھے جنہوں نے حق کی پکار پر لبیک کہا۔ آپ نے عقبہ کی بیعت ثانی میں شرکت کی اور اہل مدینہ کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کی ہجرت کے بعد آپ کی مکمل حمایت اور نصرت کا عہد کیا۔ آپ انصار کے اس مقدس گروہ کا حصہ بنے جنہیں رسول اللہ ﷺ نے اپنے بھائی قرار دیا اور ان کی فداکاری اور مہمان نوازی کی مثال قیامت تک کے لیے قائم ہو گئی۔ قبولِ اسلام کے بعد، آپ نے اپنی زندگی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت اور خدمت کے لیے وقف کر دی۔
نمایاں کارنامے اور خدمات
حضرت خبیب بن عدی رضی اللہ تعالی عنہ نے اسلام کی سربلندی کے لیے نمایاں کارنامے سرانجام دیے۔ آپ نے غزوہ بدر اور غزوہ احد جیسے اہم معرکوں میں حصہ لیا اور اپنی شجاعت و بہادری کا مظاہرہ کیا۔ آپ کی سب سے بڑی خدمت اور پہچان سن 4 ہجری میں پیش آنے والا واقعہ "سریۃ الرجیع” ہے، جس میں آپ نے ایمان و استقامت کی ایسی مثال قائم کی جو رہتی دنیا تک مسلمانوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔
- سریۃ الرجیع اور گرفتاری: قبیلہ عضل اور قارہ کے کچھ لوگ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اسلام سیکھنے کے لیے اساتذہ کی درخواست کی۔ آپ ﷺ نے دس صحابہ کرام کا ایک وفد حضرت عاصم بن ثابت رضی اللہ عنہ کی قیادت میں روانہ فرمایا، جس میں حضرت خبیب بن عدی رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے۔ جب یہ وفد "رجیع” نامی مقام پر پہنچا تو ان قبیلوں نے غداری کی اور انہیں قبیلہ بنو لحیان کے حوالے کر دیا۔ بنو لحیان نے مسلح ہو کر صحابہ کرام کو گھیر لیا۔ آٹھ صحابہ کرام نے مزاحمت کی اور جامِ شہادت نوش فرمایا۔ حضرت خبیب بن عدی اور حضرت زید بن دثنہ رضی اللہ عنہما کو زندہ گرفتار کر لیا گیا۔
- مکہ میں قید اور کرامت: ان دونوں صحابہ کرام کو مکہ لے جایا گیا اور قریش کے سرداروں کے ہاتھ فروخت کر دیا گیا۔ قریش کو یہ موقع ملا تھا کہ وہ غزوہ بدر میں اپنے مقتولین کا بدلہ لے سکیں۔ حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کو حارث بن عامر کے خاندان نے خریدا، جس کا باپ غزوہ بدر میں حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں مارا گیا تھا۔ قید کے دوران، حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کے ساتھ ایک حیرت انگیز کرامت ظاہر ہوئی۔ انہیں قید کرنے والی خاتون (جو حارث کی بیٹی تھی) نے دیکھا کہ وہ بے موسم انگور کھا رہے ہیں، حالانکہ مکہ میں اس وقت کسی پھل کا وجود نہ تھا۔ یہ اللہ تعالی کی طرف سے آپ کی پذیرائی اور عزت افزائی تھی۔
- شہادت کا واقعہ: بالآخر، کفارِ مکہ نے آپ کی شہادت کا فیصلہ کیا۔ آپ کو مقام تنعیم لے جایا گیا جہاں انہیں سولی دی جانی تھی۔ سولی پر چڑھانے سے پہلے، حضرت خبیب رضی اللہ عنہ نے دو رکعت نماز ادا کرنے کی اجازت طلب کی۔ یہ اسلام میں رسمِ شہادت سے قبل دو رکعت نماز پڑھنے کی سنت بن گئی، اور آج بھی اس پر عمل کیا جاتا ہے۔ نماز کے بعد آپ نے فرمایا: "اگر مجھے یہ ڈر نہ ہوتا کہ تم یہ کہو گے کہ یہ موت سے گھبرا رہا ہے، تو میں اور لمبی نماز پڑھتا۔”
سولی پر چڑھائے جانے کے بعد، آپ نے ایک جامع دعا فرمائی: "اللهم احصهم عددا، واقتلهم بددا، ولا تبق منهم أحدا” (اے اللہ! ان (کفار) کو ایک ایک کر کے گن لے، انہیں ٹکڑے ٹکڑے کر دے اور ان میں سے کسی کو باقی نہ چھوڑ)۔ اس موقع پر جب ابو سفیان نے پوچھا کہ کیا تم یہ پسند کرتے ہو کہ تمہاری جگہ محمد (ﷺ) تمہارے اہل و عیال کے پاس ہوں اور تم یہاں ہو؟ تو آپ نے جواب دیا: "اللہ کی قسم! مجھے یہ بھی گوارا نہیں کہ میرے اہل و عیال کے پاس ہونے کے بدلے، رسول اللہ ﷺ کو ایک کانٹا بھی چبھے۔” آپ کو عقبہ بن حارث نے سولی دی۔ آپ کی دعا کو اللہ تعالی نے قبول فرمایا اور آپ کے قاتلوں کو بعد میں ہلاک کر دیا گیا۔ بعد ازاں، حضرت زبیر بن العوام یا حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ عنہما نے رات کی تاریکی میں آپ کے جسدِ مبارک کو سولی سے اتار کر دفن کر دیا۔
میراث اور وصال
حضرت خبیب بن عدی رضی اللہ تعالی عنہ کی شہادت ایمان، صبر، ثباتِ قدمی اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے غیر مشروط محبت کی ایک لازوال داستان ہے۔ آپ کی زندگی اور خاص طور پر آپ کی شہادت کا واقعہ مسلمانوں کے لیے ہر دور میں استقامت اور فداکاری کی علامت رہا ہے۔ آپ نے سولی پر چڑھنے سے قبل دو رکعت نماز ادا کر کے ایک ایسی سنت قائم کی جو رہتی دنیا تک شہادت کے متمنی مسلمانوں کے لیے راہنمائی کا سبب بنی۔ رسول اللہ ﷺ نے آپ کی شہادت پر گہرا غم کا اظہار کیا اور آپ کے ایمان اور قربانی کی تعریف فرمائی۔ آپ نے سن 4 ہجری (تقریباً 625 عیسوی) میں مکہ کے قریب مقام تنعیم میں جامِ شہادت نوش فرمایا۔ آپ کی زندگی یہ سکھاتی ہے کہ ایمان کی پختگی اور اللہ کی رضا کے لیے ہر قربانی قبول ہے۔
مستند حوالہ جات
- صحیح بخاری، کتاب المغازی، باب غزوہ رجیع۔
- صحیح مسلم، کتاب الامارۃ۔
- سیرت ابن ہشام (الروض الانف)۔
- الطبقات الکبریٰ لابن سعد۔
- اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ لابن اثیر۔
- الاصابہ فی تمییز الصحابہ لابن حجر عسقلانی۔
- البدایہ والنہایہ لابن کثیر۔
