خباب بن ارت رضی اللہ تعالی عنہ

خاندانی پس منظر اور لقب

حضرت خباب بن ارت رضی اللہ تعالی عنہ کا پورا نام خباب بن ارت بن معبد التمیمی تھا۔ آپ کا تعلق بنو تمیم کے قبیلہ بنو سعد سے تھا، جو ایک قدیم اور معزز عرب قبیلہ تھا۔ آپ کو بچپن میں ہی ایک جنگی مہم کے دوران قیدی بنا لیا گیا اور مکہ مکرمہ لایا گیا۔ مکہ میں آپ کو بنو خزاعہ کی ایک خاتون ام انمار (بعض روایات میں ام سباع) کو فروخت کر دیا گیا، جو آپ کی مالکہ بن گئیں۔ مکہ میں آپ نے لوہار (تلوار اور دیگر لوہے کا سامان بنانے والے) کا پیشہ اختیار کیا، جس کی وجہ سے آپ مکہ کے اہم کاریگروں میں شمار ہونے لگے۔ آپ کی پیدائش کے بارے میں زیادہ تفصیلات دستیاب نہیں، تاہم یہ واضح ہے کہ آپ قبولِ اسلام سے قبل ایک عام مکی زندگی گزار رہے تھے، لیکن غلامی کی وجہ سے بہت مشکلات میں تھے۔

ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام

حضرت خباب بن ارت رضی اللہ تعالی عنہ ان ابتدائی ہستیوں میں سے تھے جنہوں نے دعوتِ اسلام کے آغاز میں ہی رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کو تسلیم کیا اور ایمان لے آئے۔ آپ چھٹے یا دسویں اولین مسلمانوں میں سے شمار کیے جاتے ہیں، جنہوں نے دارِ ارقم میں علانیہ دعوت سے قبل ہی اسلام قبول کر لیا تھا۔ آپ کا قبولِ اسلام ایک انتہائی مشکل دور میں ہوا جب مکہ میں مسلمانوں پر ظلم و ستم کا بازار گرم تھا۔
آپ کی مالکہ ام انمار اور اس کا بھائی سباع بن عبد العزی آپ کے اسلام قبول کرنے کی وجہ سے آپ پر بے پناہ ظلم ڈھاتے تھے۔ آپ کو دھکتی ہوئی آگ پر لٹایا جاتا، گرم لوہے سے داغا جاتا اور طرح طرح کی اذیتیں دی جاتیں تاکہ آپ اسلام سے پھر جائیں، لیکن آپ نے ہر قسم کے تشدد کا جوانمردی سے مقابلہ کیا اور اپنے ایمان پر ثابت قدم رہے۔ جب بھی آپ پر ظلم کیا جاتا تو آپ "احد احد” کہتے، یعنی اللہ ایک ہے، اللہ ایک ہے۔ آپ کی ثابت قدمی اور صبر کا واقعہ اسلامی تاریخ میں بے مثال ہے اور استقامت کی علامت بن گیا۔
آپ قرآن مجید کی تعلیمات سے گہرا شغف رکھتے تھے اور بعض صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو خفیہ طور پر قرآن پڑھایا کرتے تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے اسلام قبول کرنے سے قبل وہ ان بہن بھائیوں (فاطمہ بنت الخطاب اور سعید بن زید) کو قرآن سکھا رہے تھے جن کے گھر حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ غصے میں داخل ہوئے اور وہ واقعہ مشہور ہے۔

نمایاں کارنامے اور خدمات

حضرت خباب بن ارت رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنی پوری زندگی اسلام کی خدمت کے لیے وقف کر دی۔ آپ نے مکہ مکرمہ میں مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کو صبر و استقامت کے ساتھ برداشت کیا اور اس مشکل دور میں دعوتِ اسلام کے ستونوں میں سے ایک تھے۔ جب مکہ میں مسلمانوں کے لیے رہنا دشوار ہو گیا تو آپ نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی۔
مدینہ منورہ پہنچنے کے بعد آپ نے تمام اہم اسلامی غزوات اور سرایا میں فعال حصہ لیا۔ آپ غزوہ بدر، غزوہ احد، غزوہ خندق سمیت کئی دیگر معرکوں میں شریک ہوئے۔ آپ کی بہادری اور قربانیوں کو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔
حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے قبولِ اسلام کے واقعے میں آپ کا کردار انتہائی اہم ہے۔ جب حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ غصے کی حالت میں اپنی بہن کے گھر پہنچے تو خباب رضی اللہ تعالی عنہ وہاں موجود تھے اور انہیں قرآن پڑھا رہے تھے۔ آپ نے صورتحال کو بھانپتے ہوئے خود کو چھپا لیا، لیکن جب حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنی بہن اور بہنوئی کو زد و کوب کیا اور ان کے پاس موجود صحیفوں (سورہ طہٰ کی آیات) کو دیکھا تو خباب رضی اللہ تعالی عنہ سامنے آئے اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اسلام قبول کرنے کی ترغیب دی، جس سے بالآخر حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے دل میں اسلام کی حقانیت بیٹھ گئی اور وہ مسلمان ہو گئے۔ یہ آپ کی حکمت اور بصیرت کا ایک بڑا ثبوت تھا۔
آپ قرآن مجید کے ایک قاری بھی تھے اور حدیث نبوی کو بھی محفوظ رکھنے والوں میں سے تھے۔

میراث اور وصال

حضرت خباب بن ارت رضی اللہ تعالی عنہ نے ایک طویل عمر پائی اور اپنی زندگی کے آخری ایام عراق کے شہر کوفہ میں گزارے۔ آپ کا وصال حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے دورِ خلافت میں، تقریباً 37 ہجری میں ہوا، اور آپ کو کوفہ میں ہی دفن کیا گیا۔ بعض روایات کے مطابق، آپ کوفہ میں دفن ہونے والے پہلے صحابی تھے، جو اس شہر سے باہر دفن ہوئے۔ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے آپ کی نمازِ جنازہ پڑھائی۔
آپ نے زندگی میں بہت سی سختیاں جھیلیں، لیکن اسلام کے پھیلاؤ کے بعد جب فتوحات کا دور آیا اور مسلمانوں کو مالی خوشحالی نصیب ہوئی تو آپ کے پاس بھی مال و دولت آ گئی۔ تاہم، آپ دنیاوی مال و متاع سے بہت محتاط رہتے تھے اور اکثر فرمایا کرتے تھے کہ "ہمارے بہت سے بھائی اس دنیا سے ایسے چلے گئے کہ انہیں دنیا میں اپنی نیکیوں کا کوئی بدلہ نہیں ملا اور ان کا اجر مکمل طور پر اللہ کے پاس محفوظ ہے۔ مجھے ڈر ہے کہ کہیں ہمیں ہماری نیکیوں کا بدلہ دنیا ہی میں نہ دے دیا گیا ہو۔” یہ جملہ آپ کی زہد و تقویٰ اور آخرت کی فکر کا عکاس ہے۔ آپ خاص طور پر مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کا تذکرہ کرتے تھے جن کے کفن کے لیے بھی صرف ایک چادر میسر تھی۔
آپ کی میراث صبر، استقامت، جہدِ مسلسل اور ایمان پر کامل یقین کی لازوال داستان ہے۔ آپ کی زندگی ابتدائی اسلام کے تاریک ترین دور میں مسلمانوں کے لیے روشنی کا مینار تھی اور آج بھی تمام مسلمانوں کے لیے ثابت قدمی کی بہترین مثال ہے۔

مستند حوالہ جات

  • سیرت ابن ہشام
  • طبقات ابن سعد
  • تاریخ الطبری
  • البدایہ والنہایہ از ابن کثیر
  • صحیح بخاری (واقعہ اسلام عمر رضی اللہ عنہ کے ضمن میں بالواسطہ ذکر)
  • مسند احمد بن حنبل