خارجہ بن حمیر رضی اللہ تعالی عنہ

خاندانی پس منظر اور لقب

حضرت خارجہ بن حمیر رضی اللہ تعالی عنہ ایک جلیل القدر صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔ آپ کا پورا نام خارجہ بن حمیر بن مالک بن عوف تھا۔ آپ کا تعلق بنو غفار قبیلے سے تھا، جو قبیلہ کنانہ کی ایک شاخ تھی۔ بنو غفار ان قبائل میں سے تھا جنہوں نے اسلام کا آغاز میں ہی خیر مقدم کیا اور جن میں سے کئی عظیم صحابہ نے فیض پایا، جن میں حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ تعالی عنہ نمایاں ہیں۔ خارجہ بن حمیر رضی اللہ تعالی عنہ کا شمار بھی انہی فضیلت والے صحابہ میں ہوتا ہے۔ اگرچہ آپ کے لیے کوئی مخصوص لقب تاریخ میں زیادہ مشہور نہیں، لیکن آپ کا قضا کے منصب پر فائز ہونا آپ کی علمی اور اخلاقی برتری کی دلیل ہے۔

ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام

حضرت خارجہ بن حمیر رضی اللہ تعالی عنہ کی ابتدائی زندگی کے بارے میں تفصیلات زیادہ میسر نہیں، تاہم آپ نے بعثت نبوی کے ابتدائی ایام میں ہی اسلام قبول کر لیا تھا۔ آپ ان خوش نصیب افراد میں سے تھے جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت بابرکت میسر آئی اور آپ نے براہ راست آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دین کا علم حاصل کیا۔ آپ کی قبول اسلام کی کیفیت اور اس وقت کے مخصوص واقعات تاریخ کی کتابوں میں زیادہ تفصیل سے بیان نہیں کیے گئے، لیکن آپ کے صحابی ہونے کا شرف اور پھر آپ کی بعد کی زندگی کے کارنامے اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ آپ سچے ایمان اور گہری بصیرت کے مالک تھے۔ آپ نے اپنا اوائل وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کو سمجھنے اور ان پر عمل کرنے میں گزارا۔

نمایاں کارنامے اور خدمات

حضرت خارجہ بن حمیر رضی اللہ تعالی عنہ کے نمایاں کارناموں میں سے سب سے اہم آپ کی اسلامی فتوحات میں شرکت اور بعد ازاں مصر میں قضا کے منصب پر فائز ہونا ہے۔

  • فتوحاتِ اسلامی میں شرکت: آپ نے دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ساتھ اسلامی فتوحات میں بھرپور حصہ لیا۔ آپ بالخصوص حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ تعالی عنہ کے ہمراہ مصر کی فتوحات میں شریک تھے، جہاں مسلمانوں نے عدل و انصاف کا پرچم بلند کیا۔
  • قاضی مصر کا منصب: مصر کی فتح کے بعد، جب حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ تعالی عنہ نے وہاں اسلامی حکومت قائم کی، تو انہوں نے حضرت خارجہ بن حمیر رضی اللہ تعالی عنہ کو مصر کا قاضی مقرر کیا۔ یہ ایک انتہائی اہم اور باوقار منصب تھا جو آپ کی فقہی بصیرت، عدل پسندی اور ایمانداری کا ثبوت تھا۔ آپ نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کے دور خلافت میں اس عہدے پر فائز ہو کر عدل و انصاف کے تقاضے پورے کیے اور اسلامی شریعت کے مطابق فیصلے صادر کیے۔ آپ کا یہ تقرر اس بات کا مظہر تھا کہ آپ نہ صرف علم میں گہری دسترس رکھتے تھے بلکہ عملی طور پر بھی عدل و انصاف قائم کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتے تھے۔

میراث اور وصال

حضرت خارجہ بن حمیر رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنی زندگی اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی رضا جوئی میں گزاری۔ آپ نے اسلامی فتوحات میں حصہ لے کر دین کی سربلندی کے لیے جدوجہد کی اور پھر مصر میں قاضی کے طور پر خدمات انجام دے کر اسلامی عدالتی نظام کی بنیادیں مضبوط کیں۔ آپ کی سیرت عدل، تقویٰ اور علم کی بہترین مثال تھی۔

آپ نے مصر میں ہی اپنی زندگی کے آخری ایام گزارے اور وہیں وصال فرمایا۔ اکثر مورخین کے مطابق، آپ کا وصال خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کے دورِ خلافت میں، اسکندریہ، مصر میں ہوا۔ آپ کی وفات اسلامی عدالتی تاریخ کے ایک اہم باب کا اختتام تھی۔ آپ نے اپنے پیچھے ایک ایسی میراث چھوڑی جو عدل و انصاف کی بالا دستی اور اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کی ترغیب دیتی ہے۔

مستند حوالہ جات

  • ابن الأثير، عز الدين أبو الحسن علي بن محمد الجزري. أسد الغابة في معرفة الصحابة.
  • ابن عبد البر، أبو عمر يوسف بن عبد الله بن محمد. الاستيعاب في معرفة الأصحاب.
  • ابن حجر العسقلاني، شهاب الدين أبو الفضل أحمد بن علي. الإصابة في تمييز الصحابة.
  • الذهبي، شمس الدين أبو عبد الله محمد بن أحمد. سير أعلام النبلاء.
  • الطبري، أبو جعفر محمد بن جرير. تاريخ الأمم والملوک.
  • ابن کثیر، أبو الفداء إسماعيل بن عمر الدمشقي. البداية والنهاية.