خارجہ بن حذافہ سہمی رضی اللہ تعالی عنہ
خاندانی پس منظر اور لقب
حضرت خارجہ بن حذافہ سہمی رضی اللہ تعالی عنہ کا تعلق قریش کے معزز قبیلے بنو سہم سے تھا، جو قریش کی ایک اہم شاخ تھی۔ آپ کا مکمل نام خارجہ بن حذافہ بن غانم بن عامر بن عبد اللہ بن عبید بن عویج بن عدی بن سہم القرشی السہمی تھا۔ آپ قریش کے معزز اور نامور افراد میں شمار ہوتے تھے۔ آپ کو اس بات کا شرف حاصل ہے کہ آپ ان جلیل القدر صحابہ کرام میں سے تھے جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں اسلام قبول کیا اور دینِ حق کی سربلندی کے لیے گرانقدر خدمات انجام دیں۔ آپ کی شناخت خاص طور پر مصر کی فتح اور وہاں کے انتظامی امور میں حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے دست راست کی حیثیت سے ہوتی ہے۔
ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام
حضرت خارجہ بن حذافہ رضی اللہ تعالی عنہ مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئے اور آپ نے اپنی ابتدائی زندگی اسی مقدس شہر میں گزاری۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دین اسلام کی دعوت کا آغاز فرمایا تو آپ ان اولین سعادت مند افراد میں شامل تھے جنہوں نے اس دعوت کو لبیک کہا۔ آپ کی زندگی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی رہنمائی میں ڈھلی اور آپ نے ہجرتِ مدینہ کے بعد مکمل طور پر اپنے آپ کو دین کی خدمت کے لیے وقف کر دیا۔ آپ نے نہایت خلوص اور ایمانداری سے اسلامی تعلیمات کو اپنایا اور عملی زندگی میں ان کا مظاہرہ کیا۔
نمایاں کارنامے اور خدمات
حضرت خارجہ بن حذافہ رضی اللہ تعالی عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تمام اہم غزوات میں شرکت کی اور اپنی بہادری اور جانثاری کا ثبوت دیا۔ آپ اسلامی فتوحات میں ایک فعال رکن کے طور پر شامل رہے۔ خاص طور پر حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کے دورِ خلافت میں، جب مصر کو اسلامی سلطنت میں شامل کیا گیا، تو حضرت خارجہ بن حذافہ رضی اللہ تعالی عنہ نے حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ تعالی عنہ کی قیادت میں نمایاں کردار ادا کیا۔
مصر کی فتح کے بعد، حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ تعالی عنہ نے آپ کی انتظامی صلاحیتوں اور دیانت داری کو دیکھتے ہوئے آپ کو اسلامی شہر فسطاط (قدیم قاہرہ) کا "صاحب الشرطة” یعنی پولیس کا سربراہ مقرر کیا۔ یہ عہدہ اس دور میں امن و امان کے قیام اور عدل و انصاف کی فراہمی کے لحاظ سے انتہائی اہمیت کا حامل تھا۔ آپ نے اس ذمہ داری کو بخوبی نبھایا اور مصر میں اسلامی نظام کو مضبوط کرنے اور امن و استحکام قائم کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ آپ کی قیادت میں فسطاط کا انتظامی ڈھانچہ مستحکم ہوا اور شہریوں کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا گیا۔ آپ فوجی کمانڈ کے ساتھ ساتھ انتظامی امور میں بھی غیر معمولی بصیرت رکھتے تھے۔
میراث اور وصال
حضرت خارجہ بن حذافہ رضی اللہ تعالی عنہ کی شہادت اسلامی تاریخ کے ایک انتہائی المناک اور اہم واقعے سے جڑی ہوئی ہے۔ 40 ہجری میں، حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے دورِ خلافت کے اواخر میں، خوارج کے ایک گروہ نے اسلامی دنیا کے تین بڑے رہنماؤں: حضرت علی بن ابی طالب، حضرت امیر معاویہ اور حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہم کو ایک ہی دن، 17 رمضان المبارک کو شہید کرنے کا ایک خوفناک منصوبہ بنایا۔
اس سازش کے تحت، عبد الرحمن بن ملجم کے ساتھیوں میں سے برک بن عبد اللہ التمیمی (یا بعض روایات کے مطابق اسامہ بن مراد) کو حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کو شہید کرنے کے لیے مصر بھیجا گیا۔ تقدیر الٰہی کہ اس دن حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بیمار تھے اور فجر کی نماز کے لیے مسجد نہ آ سکے تھے۔ ان کی جگہ حضرت خارجہ بن حذافہ رضی اللہ تعالی عنہ امامت کے فرائض انجام دے رہے تھے۔ جیسے ہی حضرت خارجہ رضی اللہ تعالی عنہ نے نماز کی امامت کے لیے مصلیٰ پر قدم رکھا، حملہ آور نے یہ سمجھتے ہوئے کہ یہ حضرت عمرو بن العاص ہیں، آپ پر تلوار کا جان لیوا وار کیا جس سے آپ موقع پر ہی شہید ہو گئے۔
حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ تعالی عنہ کو جب اس واقعے کی خبر ملی تو آپ نے انتہائی رنجیدہ ہو کر فرمایا: "اللہ کی قسم! خارجہ کو قتل کرنے والے نے خارجہ کو عمرو سے بہتر جانا!” یہ الفاظ آپ کی فضیلت اور عظمت کی گواہی تھے۔ حضرت خارجہ بن حذافہ رضی اللہ تعالی عنہ کی شہادت ایک عظیم قربانی تھی جس نے اسلامی تاریخ پر گہرے نقوش چھوڑے۔ آپ کی بہادری، ایمانداری، انتظامی صلاحیتیں اور دینِ اسلام کے لیے خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔
مستند حوالہ جات
- الاصابہ فی تمییز الصحابہ، امام ابن حجر عسقلانی
- اسد الغابہ فی معرفتہ الصحابہ، امام ابن الاثیر
- سیر اعلام النبلاء، امام شمس الدین ذہبی
- تاریخ طبری، امام ابن جریر طبری
- البدایہ والنہایہ، حافظ ابن کثیر
- طبقات الکبریٰ، محمد بن سعد
- تاریخ دمشق، ابن عساکر
