حکیم بن معاویہ رضی اللہ عنہ
خاندانی پس منظر اور لقب
حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ قریش کے بنو اسد قبیلے سے تعلق رکھتے تھے۔ آپ کا مکمل نام حکیم بن حزام بن خویلد بن اسد بن عبدالعزیٰ بن قصی تھا۔ آپ کی والدہ کا نام فاختہ بنت زہیر تھا۔ آپ کی کنیت ابو خالد تھی۔ آپ رسول اللہ ﷺ کی زوجہ مطہرہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے بھتیجے تھے، یعنی حضرت خدیجہؓ آپ کی پھوپھی تھیں۔ آپ کا شجرہ نسب رسول اللہ ﷺ سے قصی بن کلاب پر جا ملتا ہے، جس سے آپ ﷺ کے چچا زاد بھائیوں میں سے تھے۔ ایک اور منفرد اعزاز یہ ہے کہ آپ خانہ کعبہ کے اندر پیدا ہونے والے واحد صحابی ہیں۔ آپ کی پیدائش عام الفیل سے 13 سال پہلے ہوئی۔
ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام
قبولِ اسلام سے قبل بھی حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ اپنی قوم میں شرافت، عقل مندی اور سخاوت کے لیے مشہور تھے۔ آپ قریش کے سرداروں میں سے تھے اور کئی اہم معاملات میں آپ کی رائے کو اہمیت دی جاتی تھی۔ آپ نے زمانہ جاہلیت میں "حلف الفضول” (ایک ایسا معاہدہ جو مظلوموں کی مدد کے لیے کیا گیا تھا) میں بھی حصہ لیا تھا، جسے رسول اللہ ﷺ نے بعد میں سراہا تھا۔ آپ کی رسول اللہ ﷺ اور حضرت خدیجہؓ سے بہت گہری قرابت داری تھی۔ آپ نے حضرت خدیجہؓ کے ساتھ تجارت بھی کی تھی۔
باوجود اس کے کہ آپ رسول اللہ ﷺ کے انتہائی قریب تھے، آپ کو اسلام قبول کرنے میں دیر ہوئی۔ آپ نے مکہ فتح ہونے کے دن، سن 8 ہجری میں اسلام قبول فرمایا۔ اسلام لانے سے قبل آپ جنگ بدر اور احد میں قریش کے ساتھ مسلمانوں کے خلاف بھی شامل تھے۔ آپ کی اسلام قبول کرنے میں تاخیر پر رسول اللہ ﷺ کو بھی افسوس تھا۔ تاہم، جب آپ اسلام لائے تو نہایت پختہ ایمان کے ساتھ آئے۔ آپ کی عمر اسلام قبول کرتے وقت تقریباً 60 سال تھی۔ اسلام قبول کرنے کے بعد آپ کو اپنی سابقہ زندگی کے ان تمام اعمال پر بہت ندامت ہوئی جو آپ نے اسلام کے خلاف کیے تھے۔ ایک مرتبہ آپ نے فرمایا: "میں نے اسلام لانے کے بعد قسم کھائی کہ جاہلیت میں جو کچھ بھی میں نے خرچ کیا، اس پر مجھے اتنا پچھتاوا ہے کہ اگر وہ مال اسلام کی راہ میں خرچ ہوتا تو کتنا اچھا ہوتا۔” رسول اللہ ﷺ نے آپ کو تسلی دی کہ "آپ نے جو نیک کام جاہلیت میں کیے، ان کا ثواب آپ کو اسلام میں مل چکا ہے۔”
نمایاں کارنامے اور خدمات
حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کرنے کے بعد اپنی تمام زندگی اللہ کی رضا اور مسلمانوں کی بھلائی کے لیے وقف کر دی۔ آپ اپنی سخاوت، تقویٰ اور ایمان کی پختگی کے لیے مشہور تھے۔
- سخاوت اور صدقہ: آپ نے اپنی زندگی میں بے شمار غلام آزاد کیے۔ یہ روایت ہے کہ آپ نے کم از کم 100 غلام آزاد کیے۔ آپ ہمیشہ محتاجوں اور فقراء کی مدد کرتے تھے۔ رسول اللہ ﷺ سے حدیث روایت کی ہے: "اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے” (یعنی دینے والا ہاتھ لینے والے ہاتھ سے بہتر ہے)، اور آپ نے اس پر خود بھی عمل کیا۔
- اسلامی فوج میں شمولیت: اسلام لانے کے بعد آپ نے کئی غزوات میں شرکت کی، جن میں غزوہ حنین سر فہرست ہے۔ ابتداء میں آپ کو کچھ تردد تھا، لیکن آپ نے ثابت قدمی دکھائی اور آخر کار جنگ میں حصہ لیا۔
- حکمت اور مشورہ: آپ کو رسول اللہ ﷺ اور بعد میں خلفائے راشدین کے دور میں بھی آپ کی حکمت اور تجربے کی وجہ سے قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ آپ معاملات کو سمجھنے اور صحیح رائے دینے کی صلاحیت رکھتے تھے۔
- احادیث کی روایت: آپ نے چند احادیث بھی روایت کی ہیں جو صحیح بخاری اور صحیح مسلم سمیت دیگر کتب احادیث میں موجود ہیں۔ آپ نے ایک مشہور حدیث روایت کی ہے کہ "کوئی شخص مجھ سے کوئی چیز مانگتا ہے تو میں اسے دے دیتا ہوں، مگر حکیم بن حزام نے مجھ سے کچھ نہیں مانگا اور نہ ہی انہوں نے کسی سے کچھ لیا۔” (اس سے ان کی خودداری کا اندازہ ہوتا ہے)۔
- تزکیہ نفس: آپ اسلام لانے کے بعد اس قدر خود دار اور پرہیزگار ہو گئے تھے کہ آپ نے کبھی بھی کسی سے کوئی چیز نہیں مانگی۔ ایک روایت کے مطابق، حضرت عمرؓ نے آپ کو بیت المال سے حصہ دینا چاہا، لیکن آپ نے انکار کر دیا۔ جب حضرت عمرؓ نے کہا کہ "اے مسلمانوں کے لوگو! میں حکیم کو اس کا حق دے رہا ہوں، مگر وہ لینے سے انکار کر رہے ہیں،” تو حکیم بن حزامؓ نے فرمایا: "میں نے اسلام لانے کے بعد یہ عہد کر لیا تھا کہ میں کبھی کسی سے کوئی چیز نہیں لوں گا۔”
میراث اور وصال
حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کی زندگی اسلام قبول کرنے کے بعد تقویٰ، سخاوت اور استقامت کا ایک روشن نمونہ تھی۔ آپ نے 120 سال کی طویل عمر پائی، جس میں سے 60 سال آپ نے زمانہ جاہلیت میں گزارے اور 60 سال اسلام میں۔ آپ کا وصال مدینہ منورہ میں سن 54 ہجری یا بعض روایات کے مطابق 58 ہجری میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں ہوا۔ آپ کو جنت البقیع میں دفن کیا گیا۔ آپ کی زندگی کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ سچی توبہ اور اخلاص کے ساتھ اگر کوئی شخص دین حق کو اپنا لے تو اس کی سابقہ تمام کوتاہیاں معاف کر دی جاتی ہیں اور وہ بہترین انسانوں میں سے ہو جاتا ہے۔ آپ کی سخاوت، خودداری اور دین سے والہانہ لگاؤ کی مثالیں رہتی دنیا تک مسلمانوں کے لیے مشعل راہ ہیں۔
مستند حوالہ جات
- صحیح بخاری
- صحیح مسلم
- ابن حجر عسقلانی، الاصابہ فی تمییز الصحابہ
- ابن عبدالبر، الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب
- ابن اثیر، اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ
- ابن کثیر، البدایہ والنہایہ
- طبری، تاریخ الرسل والملوک
