حکیم بن حزام رضی اللہ تعالی عنہ
خاندانی پس منظر اور لقب
حکیم بن حزام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا پورا نام حکیم بن حزام بن خویلد بن اسد بن عبدالعزی بن قصی تھا۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا تعلق قریش کے بنو اسد قبیلے سے تھا، جو مکہ کے معزز ترین قبائل میں سے ایک تھا۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی والدہ کا نام صفیہ بنت حزن تھا۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ تعالیٰ عنہا، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پہلی زوجہ مطہرہ تھیں، کے بھتیجے تھے، یعنی ان کے بھائی حزام بن خویلد کے صاحبزادے تھے۔ اس طرح آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریبی رشتہ داروں میں شامل تھے۔
آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی پیدائش ایک انتہائی منفرد اور قابل فخر حیثیت رکھتی ہے؛ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ولادت خانہ کعبہ کے اندر ہوئی تھی۔ یہ واقعہ عام الفیل سے تیرہ سال قبل پیش آیا، جس کا مطلب ہے کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے تقریباً پانچ سال عمر میں بڑے تھے۔ دور جاہلیت میں آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ قریش کے سرکردہ اور معزز افراد میں سے تھے اور "دار الندوہ” کے ایک اہم رکن کے طور پر جانے جاتے تھے، جہاں قریش کے بڑے فیصلے ہوتے تھے۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنی سخاوت، دانشمندی اور اخلاق حمیدہ کی وجہ سے اپنے قبیلے میں بہت قدر و منزلت رکھتے تھے۔
ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام
حکیم بن حزام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی ابتدائی زندگی دور جاہلیت میں گزاری، جہاں آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو تجارت میں بڑا کمال حاصل تھا اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک کامیاب اور مالدار تاجر کی حیثیت سے جانے جاتے تھے۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنی سخاوت کے لیے بھی مشہور تھے؛ بیان کیا جاتا ہے کہ دور جاہلیت میں بھی آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سو غلام آزاد کیے تھے۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اہل مکہ کے ساتھ تجارت کے لیے شام و یمن کا سفر کیا کرتے تھے۔
جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نبوت کا اعلان فرمایا اور اسلام کی دعوت پیش کی، تو حکیم بن حزام رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان لوگوں میں شامل تھے جنہوں نے ابتدا میں اسلام قبول کرنے میں تاخیر کی۔ اگرچہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کا بخوبی علم تھا اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ دل میں اسلام کی جانب مائل تھے، مگر قریش کے سرداروں کے دباؤ اور خاندانی رواج کے باعث آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فوراً اسلام نہ لا سکے۔ جنگ بدر کے موقع پر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ قریش کے ساتھ تھے اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے قریش کو جنگ سے باز رکھنے کی کوشش بھی کی تھی، لیکن وہ نہ مانے۔ اس وقت آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ بھی کہا تھا کہ "مجھ پر اللہ کی قسم ہے، آج اس وادی کو چھوڑ دو کیونکہ اگر اس کی قیادت محمد کے ہاتھ میں ہے تو ہم اسے شکست نہیں دے سکتے۔”
آخرکار، فتح مکہ کے موقع پر، سن 8 ہجری میں، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسلام قبول فرمایا۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنی سابقہ زندگی اور اسلام قبول کرنے میں تاخیر پر شدید افسوس تھا اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اکثر فرمایا کرتے تھے: "کاش میں اسلام میں جلدی آ جاتا۔” رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عزت و تکریم کے پیش نظر یہ اعلان فرمایا کہ جو شخص حکیم بن حزام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے گھر میں پناہ لے گا، اسے بھی امان حاصل ہوگی، بالکل اسی طرح جیسے ابو سفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے گھر میں پناہ لینے والوں کو امان دی گئی تھی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر میں آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا کیا مقام تھا۔
نمایاں کارنامے اور خدمات
اسلام قبول کرنے کے بعد، حکیم بن حزام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی تمام زندگی اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت اور اسلام کی خدمت کے لیے وقف کر دی۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی دولت کو بھی اسلام کی راہ میں خوب خرچ کیا۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دور جاہلیت میں سو غلام آزاد کیے تھے اور اسلام لانے کے بعد بھی آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک سو غلام اور آزاد کیے، اور اس کے ساتھ سو اونٹ بھی اللہ کی راہ میں صدقہ کیے۔
آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک مشہور حدیث کے راوی بھی ہیں جو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زندگی کے ایک اہم پہلو کو اجاگر کرتی ہے۔ ایک دفعہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ طلب کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اے حکیم! یہ مال سبز اور میٹھا ہے، جو اسے سخاوت نفس کے ساتھ لے، اس کے لیے اس میں برکت دی جائے گی، اور جو اسے حرص کے ساتھ لے، اس کے لیے اس میں برکت نہیں دی جائے گی، اور وہ ایسے شخص کی طرح ہے جو کھاتا ہے اور پیٹ نہیں بھرتا۔ اور اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔” (صحیح بخاری، صحیح مسلم) اس نصیحت کو حکیم بن حزام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس قدر اپنایا کہ زندگی بھر پھر کبھی کسی سے کچھ نہیں مانگا، حتیٰ کہ جنگوں میں مال غنیمت کا حصہ بھی اگر ان کے ہاتھ سے گر جاتا تو کسی کو اٹھانے کے لیے نہیں کہتے تھے۔
آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے غزوہ حنین میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شرکت کی اور ثابت قدم رہے۔ بعد ازاں آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسلامی فتوحات میں بھی حصہ لیا اور اپنا وقت علم حاصل کرنے اور حدیثیں روایت کرنے میں گزارا۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے متعدد احادیث مبارکہ بھی روایت کی ہیں۔
میراث اور وصال
حکیم بن حزام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک طویل عمر پائی۔ مشہور قول کے مطابق آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے 120 سال کی عمر پائی، جس میں سے 60 سال دور جاہلیت میں اور 60 سال اسلام میں گزارے۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زندگی جاہلیت سے اسلام تک کی تبدیلی کا ایک مکمل عکس تھی۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا انتقال سن 54 ہجری یا بعض روایات کے مطابق سن 58 ہجری میں حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور خلافت میں مدینہ منورہ میں ہوا۔
حکیم بن حزام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زندگی سخاوت، دانش مندی، اور قبول اسلام کے بعد پختہ ایمانی کی بہترین مثال ہے۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وصیت پر عمل پیرا ہونے کی داستان کہ کبھی کسی سے کچھ نہیں مانگا، ہر دور کے مسلمانوں کے لیے ایک رہنما اصول ہے۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی پوری زندگی میں مال و دولت کو اللہ کی راہ میں خرچ کیا اور خود سادگی کو اپنایا۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی سیرت ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ دولت کا صحیح استعمال اللہ کی رضا اور خلق خدا کی خدمت میں ہے۔
مستند حوالہ جات
- صحیح بخاری
- صحیح مسلم
- سير أعلام النبلاء از امام ذهبی
- الاصابة في تمييز الصحابة از ابن حجر عسقلانی
- اسد الغابہ فی معرفة الصحابہ از ابن اثیر جزری
- البداية والنهاية از ابن کثیر
- تاریخ طبری
