حویطب رضی اللہ عنہ

خاندانی پس منظر اور لقب

حضرت حویطب بن عبدالعزّٰی رضی اللہ عنہ کا پورا نام حویطب بن عبدالعزّٰی بن ابی قیس بن عبد وُد بن نصر بن مالک بن حِسل بن عامر بن لؤی القرشی العامری تھا۔ آپ کا تعلق قریش کے معزز قبیلے بنو عامر بن لؤی سے تھا جو قریش کے اہم اور بااثر قبائل میں سے ایک تھا۔ آپ مکہ کے ان بزرگوں اور تجربہ کار افراد میں سے تھے جن کی رائے کو قریش میں اہمیت دی جاتی تھی اور انہیں اپنی قوم کے سرداروں میں شمار کیا جاتا تھا۔ آپ کی کنیت ابو محمد یا ابو صالح بیان کی جاتی ہے، تاہم آپ اپنے نام حویطب بن عبدالعزّٰی سے زیادہ معروف ہیں۔ آپ کی پیدائش فتح مکہ سے تقریباً 80 سال قبل ہوئی تھی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ قبولِ اسلام کے وقت آپ کی عمر کافی زیادہ تھی۔ آپ نے اپنی زندگی کا ایک طویل حصہ قبل از اسلام کے دور میں گزارا، اور اس دور کے حالات و واقعات، انساب اور تاریخ سے گہری واقفیت رکھتے تھے۔

ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام

قبولِ اسلام سے قبل حضرت حویطب رضی اللہ عنہ مکہ کے معززین میں سے تھے اور قریش کے سرداروں میں ان کا شمار ہوتا تھا۔ آپ کو تدبر، رائے کی پختگی اور کاروباری معاملات میں سمجھ بوجھ کے لیے جانا جاتا تھا۔ ابتدائی طور پر آپ اسلام کی مخالفت کرنے والوں میں شامل تھے اور قریش کے دیگر سرداروں کی طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مشن کو شک کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ فتح مکہ کے موقع پر جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ میں داخل ہو کر عام معافی کا اعلان فرمایا تو کچھ لوگ جن میں حویطب بھی شامل تھے، ابھی تک اسلام قبول کرنے میں پس و پیش کر رہے تھے۔ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حکمت اور اعلیٰ اخلاق کا ثبوت تھا کہ آپ نے ایسے افراد کو بھی کھلے دل سے دعوت دی۔ بعض روایات کے مطابق، آپ کو حضرت ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کرنے کی ترغیب دی تھی۔ فتح مکہ کے بعد آپ نے اس وقت اسلام قبول فرمایا جب آپ کی عمر تقریباً 80 برس ہو چکی تھی۔ آپ کا قبولِ اسلام اس بات کی دلیل ہے کہ اسلام کی دعوت کسی خاص عمر یا طبقے تک محدود نہیں، بلکہ یہ ہر اس شخص کے لیے ہے جو حق کو پہچان لے۔ آپ کی ذہانت اور وسیع تجربہ آپ کے قبولِ اسلام کے بعد امت کے لیے ایک قیمتی اثاثہ بن گیا۔

نمایاں کارنامے اور خدمات

دیر سے اسلام قبول کرنے کے باوجود، حضرت حویطب رضی اللہ عنہ نے اپنی طویل عمر اور تجربے کو اسلام کی خدمت میں صرف کیا۔ آپ نے فتح مکہ کے بعد غزوۂ حنین اور محاصرۂ طائف میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شرکت کی اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا۔ آپ اپنی طویل العمری اور جاہلی دور کے واقعات، انسابِ قریش اور عرب قبائل کے حالات سے گہری واقفیت کی وجہ سے مشہور تھے۔ اسی علم اور تجربے کی بنا پر آپ کو بعد کے خلفائے راشدین کے ادوار میں بھی اہمیت دی گئی۔ امیرالمومنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے آپ کو مصر میں حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے پاس وہاں کے حالات کا جائزہ لینے اور مشورہ دینے کے لیے بھیجا تھا، جو آپ پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے اعتماد کا واضح ثبوت ہے۔ آپ نے یہ ذمہ داری بخوبی نبھائی۔ آپ نے حضرت ابوبکر، حضرت عمر اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہم کے ادوارِ خلافت کو پایا اور مدینہ منورہ میں ہی قیام پذیر رہے۔ آپ کی روایات کی تعداد زیادہ نہیں ہے لیکن آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ فرامین کو محفوظ کیا اور صحابہ و تابعین کو منتقل کیا۔ آپ کا شمار ان معمر صحابہ کرام میں ہوتا ہے جنہوں نے سو سال سے زیادہ کی عمر پائی اور دین کی خدمت میں حصہ لیا۔

میراث اور وصال

حضرت حویطب بن عبدالعزّٰی رضی اللہ عنہ نے ایک طویل اور بھرپور زندگی گزاری۔ آپ نے قبل از اسلام کے دور کی گہرائیوں اور اسلامی تاریخ کے ابتدائی مراحل کا مشاہدہ کیا۔ آپ کی وفات 40 ہجری (یا بعض روایات کے مطابق 42 ہجری) میں امیرالمومنین حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں مدینہ منورہ میں ہوئی۔ آپ نے 100 سال سے زائد (بعض روایات میں 120 سال تک) کی عمر پائی۔ آپ کی وفات کے وقت مدینہ منورہ میں موجود معدودے چند ان صحابہ کرام میں سے تھے جنہوں نے لمبی عمر پائی تھی۔ آپ کی میراث میں یہ پیغام پنہاں ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہر وقت اپنے بندوں پر سایہ فگن رہتی ہے، اور کوئی شخص بھی حق کو قبول کرنے کے لیے بہت بوڑھا نہیں ہوتا۔ آپ کا وسیع تجربہ، دانشمندی اور اسلام کے لیے بعد از قبولِ اسلام کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ آپ کا ذکر سیرت کی کتب اور صحابہ کے تذکروں میں ایک باوقار اور تجربہ کار صحابی کے طور پر ملتا ہے۔

مستند حوالہ جات

  • ابن حجر عسقلانی، الإصابة في تمييز الصحابة
  • ابن عبدالبر، الاستيعاب في معرفة الأصحاب
  • ابن الاثیر، أسد الغابة في معرفة الصحابة
  • ابن کثیر، البداية والنهاية
  • طبری، تاریخ الرسل والملوک
  • امام ذہبی، سير أعلام النبلاء