حمران بن جابر رضی اللہ عنہ

خاندانی پس منظر اور لقب

حمران بن جابر رضی اللہ عنہ کا تعلق مشہور عرب قبیلے بنو اسد سے تھا۔ ان کا پورا نام حمران بن جابر الاسدی تھا۔ انہیں "رضی اللہ عنہ” کے شرف سے یاد کیا جاتا ہے، کیونکہ وہ صحابہ کرام کی فہرست میں شامل ہیں، جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کا زمانہ پایا اور اسلام قبول کیا۔ ان کے قبیلے کی نسبت سے انہیں الاسدی کہا جاتا ہے۔

ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام

حمران بن جابر رضی اللہ عنہ کی ابتدائی زندگی کے بارے میں بہت زیادہ تفصیلی معلومات تاریخ کی کتب میں نہیں ملتیں۔ تاہم، یہ مسلم ہے کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کے عہد میں اسلام قبول کیا اور آپ ﷺ کی زیارت کا شرف حاصل کیا۔ ان کے قبولِ اسلام کے مخصوص حالات یا وقت کے بارے میں واضح روایات موجود نہیں ہیں، لیکن ان کا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے جو رسول اللہ ﷺ کے اصحاب میں شامل ہوئے۔

نمایاں کارنامے اور خدمات

رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد، حمران بن جابر رضی اللہ عنہ نے اسلامی فتوحات اور خلفائے راشدین کے دور میں فعال کردار ادا کیا۔ وہ امیر المومنین علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ابتدائی ساتھیوں میں سے تھے اور ان کی صفوں میں شامل ہو کر جنگ صفین میں حصہ لیا۔

تاہم، جنگ صفین کے بعد جب تحکیم (ثالثی) کا معاملہ پیش آیا تو حمران بن جابر رضی اللہ عنہ ان لوگوں میں شامل تھے جنہوں نے اس تحکیم کی مخالفت کی اور حضرت علی رضی اللہ عنہ سے علیحدگی اختیار کر لی۔ وہ اس گروہ کے سرکردہ رہنماؤں میں سے بن گئے جسے تاریخ میں خوارج کے نام سے جانا جاتا ہے۔ خوارج نے تحکیم کو قرآن کے خلاف قرار دیا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خلاف بغاوت کر دی۔ حمران بن جابر رضی اللہ عنہ نہروان کی جنگ میں خوارج کے لشکر میں موجود تھے، جہاں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی افواج نے خوارج کو شکست دی۔

میراث اور وصال

حمران بن جابر رضی اللہ عنہ کا انتقال غالباً نہروان کی جنگ (38 ہجری بمطابق 658 عیسوی) میں یا اس کے فورا بعد ہوا، جب خوارج کے خلاف حضرت علی رضی اللہ عنہ کی کارروائیاں جاری تھیں۔ ان کی میراث ابتدائی اسلامی تاریخ میں خوارج کے فکری اور عسکری تحریک کے ساتھ منسلک ہے۔
اگرچہ وہ صحابی رسول ﷺ کے شرف سے مشرف تھے اور بعض روایات میں ان کی دینداری اور شجاعت کا ذکر ملتا ہے، مگر ان کا شمار ان شخصیات میں ہوتا ہے جن کے بعد کے سیاسی اور مذہبی موقف نے انہیں متنازعہ بنا دیا۔ اس کے باوجود، ایک صحابی ہونے کے ناطے، ان کا ادب و احترام لازم ہے۔

مستند حوالہ جات

  • ابن حجر عسقلانی، احمد بن علی (م 852ھ)۔ الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ۔ جلد 2، صفحہ 206۔
  • الطبری، ابو جعفر محمد بن جریر (م 310ھ)۔ تاریخ الامم و الملوک۔ (تاریخ طبری)۔ جلد 5، صفحہ 70، 76، 80۔
  • ابن کثیر، اسماعیل بن عمر (م 774ھ)۔ البدایۃ و النہایۃ۔ جلد 7، صفحہ 288، 301۔