حضرت زبیر ابن عوام رضی اللہ تعالی عنہ
خاندانی پس منظر اور لقب
حضرت زبیر ابن عوام رضی اللہ تعالی عنہ کا مکمل نام زبیر بن عوام بن خویلد بن اسد بن عبدالعزی بن قصی تھا اور آپ کا تعلق قبیلہ قریش کی شاخ بنو اسد سے تھا۔ آپ کا سلسلہ نسب قصی بن کلاب پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جا ملتا ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ کی والدہ ماجدہ کا نام صفیہ بنت عبدالمطلب تھا، جو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی تھیں۔ اس رشتے سے آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پھوپھی زاد بھائی تھے۔ مزید برآں، آپ کے والد عوام بن خویلد، ام المومنین حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے بھائی تھے، جس سے آپ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے بھتیجے بھی تھے۔ اس طرح، آپ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دوہرے رشتوں کا شرف حاصل تھا۔
آپ رضی اللہ عنہ کی کنیت "ابو عبداللہ” تھی، جو آپ کے بڑے صاحبزادے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے نام پر پڑی۔ آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے "حواری رسول اللہ” کا لقب عطا فرمایا تھا، جس کا مطلب ہے "رسول اللہ کا وفادار ساتھی اور ناصر”۔ یہ ایک ایسا منفرد اعزاز ہے جو صرف آپ ہی کو نصیب ہوا۔ آپ کی بہادری، جرات، سخاوت اور دین کے لیے بے مثال قربانیوں کے سبب آپ کا شمار عشرہ مبشرہ (وہ دس صحابہ کرام جنہیں دنیا میں ہی جنت کی بشارت دی گئی) میں ہوتا ہے۔
ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام
حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ تعالی عنہ کی ولادت بعثت نبوی سے تقریباً دس سال قبل 594 عیسوی میں مکہ مکرمہ میں ہوئی۔ آپ ابھی کم سن ہی تھے کہ آپ کے والد کا انتقال ہو گیا، اور آپ کی پرورش آپ کی والدہ محترمہ حضرت صفیہ بنت عبدالمطلب رضی اللہ عنہا نے کی۔ حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا اپنی جرات اور بہادری کے لیے مشہور تھیں، اور انہوں نے حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کی تربیت اسی انداز میں کی۔ آپ بچپن ہی سے انتہائی بہادر اور نڈر تھے۔ کہا جاتا ہے کہ پندرہ سال کی عمر میں ایک مرتبہ کسی شخص سے جھگڑا ہوا تو آپ نے اسے زمین پر پٹخ دیا اور آپس میں لڑتے رہے۔ یہ واقعہ آپ کی طبعی جرات اور قوت کی عکاسی کرتا ہے۔
آپ نے بہت کم عمری میں ہی سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی دعوت پر اسلام قبول کر لیا۔ آپ ان سات اشخاص میں سے تھے جنہوں نے سب سے پہلے اسلام قبول کیا۔ قبولِ اسلام کے وقت آپ کی عمر تقریباً 12 سے 16 سال کے درمیان تھی۔ چونکہ آپ کا اسلام قبول کرنا انتہائی ابتدائی دور میں ہوا تھا، اس لیے آپ کو کفارِ مکہ کے ہاتھوں شدید مظالم کا سامنا کرنا پڑا۔ آپ کے چچا نوفل بن خویلد آپ کو چٹائی میں لپیٹ کر دھواں دیتے تھے تاکہ آپ دینِ اسلام سے پھر جائیں، لیکن آپ نے ہر حال میں دینِ حق پر ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا۔ آپ نے دین کی خاطر حبشہ کی جانب دو ہجرتیں کیں اور پھر مدینہ منورہ کی جانب ہجرت فرمائی۔ مدینہ منورہ پہنچ کر آپ کی مواخات (بھائی چارہ) حضرت سلمہ بن سلامہ رضی اللہ عنہ سے کروائی گئی۔
نمایاں کارنامے اور خدمات
حضرت زبیر ابن عوام رضی اللہ تعالی عنہ کی زندگی جہاد فی سبیل اللہ اور دینِ اسلام کی خدمت سے بھرپور تھی۔ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تمام غزوات میں شرکت کی اور اپنی شجاعت کے انمٹ نقوش چھوڑے۔
- غزوہ بدر: آپ نے غزوہ بدر میں غیر معمولی بہادری کا مظاہرہ کیا۔ سفید لباس میں اور زرد عمامہ باندھے ہوئے، آپ کی جرات دیکھ کر خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "آج زبیر پر ملائکہ کا نزول ہوا ہے۔”
- غزوہ احد: جب مسلمانوں میں سے بعض لوگ تتر بتر ہو گئے تو حضرت زبیر رضی اللہ عنہ ان چند صحابہ کرام میں شامل تھے جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد مضبوطی سے پہرہ دیا اور آپ کا دفاع کیا۔
- غزوہ خندق (احزاب): یہ وہ غزوہ ہے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو بنو قریظہ کی خبر لانے کے لیے بھیجا۔ اس موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "ہر نبی کا ایک حواری ہوتا ہے، اور میرا حواری زبیر ہے۔” یہ لقب آپ کے لیے بہت بڑا اعزاز بن گیا۔
- فتح مکہ: فتح مکہ کے موقع پر آپ ان چار سپہ سالاروں میں سے ایک تھے جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ میں داخل ہونے کا حکم دیا تھا۔ آپ دائیں بازو کے لشکر کے امیر تھے۔
- دیگر غزوات: آپ نے غزوہ خیبر، حنین، طائف، تبوک اور دیگر تمام اہم غزوات میں بھی شرکت کی۔
- فتوحاتِ شام و مصر: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد، خلفائے راشدین کے دور میں بھی آپ کی خدمات کا سلسلہ جاری رہا۔ آپ نے فتوحاتِ شام میں حصہ لیا اور خصوصاً مصر کی فتح میں آپ کا کردار انتہائی کلیدی تھا۔ حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کی قیادت میں مصر کی فتح کے دوران، جب مسلمانوں کو قلعہ بابل فتح کرنے میں دشواری پیش آ رہی تھی تو حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے کمالِ جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے سیڑھی لگا کر قلعہ کی دیوار پر چڑھے اور اندر سے دروازہ کھول دیا۔ آپ کی اس بہادری سے قلعہ فتح ہو گیا۔
- علم و فضل: آپ ایک جلیل القدر فقیہ اور محدث تھے۔ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کئی احادیث روایت کیں جو صحاح ستہ میں موجود ہیں۔ آپ کی دینی بصیرت اور علمی گہرائی نمایاں تھی۔
- سخاوت: آپ رضی اللہ عنہ اپنی سخاوت کے لیے بھی مشہور تھے۔ آپ کو اللہ تعالیٰ نے خوب مال و دولت سے نوازا تھا، لیکن آپ انتہائی فیاض تھے اور سخاوت کے ساتھ لوگوں کی مدد فرماتے تھے۔ آپ قرض دیتے وقت سود کے بجائے لوگوں سے یہ شرط رکھتے تھے کہ وہ آپ کے لیے دعا کریں۔
میراث اور وصال
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد مسلمانوں میں جو فتنہ برپا ہوا، اس میں حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے اہم کردار ادا کیا۔ آپ حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ اور ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ اس گروہ میں شامل ہوئے جو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قصاص کا مطالبہ کر رہا تھا، اور یہ مطالبہ جنگِ جمل کا سبب بنا۔ جنگ شروع ہونے سے پہلے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک قول یاد دلایا: "تم علی سے اس حالت میں لڑو گے کہ تم ظالم ہو گے۔” یہ سن کر حضرت زبیر رضی اللہ عنہ جنگ سے دستبردار ہو گئے اور میدانِ جنگ سے واپسی کا ارادہ کر لیا۔
آپ رضی اللہ عنہ جب میدانِ جنگ سے واپس تشریف لے جا رہے تھے تو وادی السباع کے مقام پر عمرو بن جرموز نامی ایک شخص نے آپ کا پیچھا کیا اور دھوکے سے آپ کو شہید کر دیا۔ یہ 10 جمادی الاولیٰ 36 ہجری کا واقعہ ہے۔ جب قاتل حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کا سر اور تلوار لے کر آیا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے تلوار پہچان لی اور فرمایا: "یہ اس تلوار سے پہلے بھی کتنے غم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے سے دور کیے گئے ہیں۔” اور پھر فرمایا: "میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ زبیر کا قاتل جہنم میں جائے گا۔” اس طرح حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے شہادت کا رتبہ پایا۔
آپ رضی اللہ عنہ نے کئی اولادیں چھوڑیں جن میں مشہور ترین حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما، حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہما اور حضرت مصعب بن زبیر رضی اللہ عنہما شامل ہیں۔ آپ کی اولادوں نے اسلامی تاریخ میں علم و فضل، سیاست اور جہاد کے میدانوں میں گرانقدر خدمات انجام دیں۔ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کی میراث ان کی بے پناہ شجاعت، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے گہری وابستگی، سخاوت، اور دینِ اسلام کی سربلندی کے لیے دی گئی عظیم قربانیوں کی صورت میں آج بھی زندہ ہے۔ آپ ان جلیل القدر صحابہ کرام میں سے ایک تھے جنہوں نے اپنے ایمان اور عمل سے رہتی دنیا تک مسلمانوں کے لیے بہترین مثال قائم کی۔
مستند حوالہ جات
- ابن کثیر، البدایہ و النہایہ
- طبری، تاریخ الامم و الملوک
- صحیح بخاری
- صحیح مسلم
- سیرت ابن ہشام
- ابن عبد البر، الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب
- ابن اثیر، اسد الغابہ فی معرفتہ الصحابہ
