حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ تعالی عنہ

خاندانی پس منظر اور لقب

حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ تعالی عنہ کا پورا نام عامر بن عبد اللہ بن الجراح الفهري القرشي ہے۔ آپ کا نسبی تعلق قریش کے معزز قبیلہ بنو فہر سے تھا۔ آپ کے والد کا نام عبد اللہ بن الجراح اور والدہ کا نام امیمہ بنت غنم تھا۔ آپ کی کنیت "ابو عبیدہ” تھی، اور آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے "امین الامۃ” (امت کا امین) کا معزز لقب عطا فرمایا تھا، جو آپ کی صداقت، دیانت، اور امت کے لیے گراں قدر خدمات کا عکاس ہے۔ آپ کا شمار سابقون الاولون (سب سے پہلے اسلام قبول کرنے والے) صحابہ کرام میں ہوتا ہے۔ آپ کا قد متوسط، جسم دبلا پتلا، چہرہ نورانی اور حلیہ بہت باوقار تھا۔

ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام

حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کی پیدائش ہجرت نبوی سے تقریباً چالیس سال قبل 583 عیسوی میں مکہ مکرمہ میں ہوئی۔ بعثتِ نبوی سے قبل بھی آپ قریش میں اپنی شرافت، حکمت اور دور اندیشی کی وجہ سے مشہور تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوتِ حق کا آغاز ہوا تو حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے اس دعوت کو فوراً لبیک کہا۔ آپ ان اولین آٹھ صحابہ میں سے تھے جنہوں نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی دعوت پر اسلام قبول کیا۔ یہ اسلام کے ابتدائی مشکل ترین ایام تھے جب مسلمانوں کو کفار مکہ کے ظلم و ستم کا نشانہ بنایا جا رہا تھا۔ آپ نے اس نازک وقت میں بھی اپنے ایمان پر پختگی کا مظاہرہ کیا اور ہر قسم کی مشکلات کو خندہ پیشانی سے برداشت کیا۔ اسلام قبول کرنے کے بعد آپ کو بھی دوسرے صحابہ کی طرح شدید مظالم کا سامنا کرنا پڑا۔ ہجرتِ حبشہ کا شرف بھی آپ کو حاصل ہوا، جہاں آپ نے کچھ عرصہ دیگر صحابہ کے ہمراہ قیام فرمایا۔ بعد ازاں، آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر مدینہ منورہ کی طرف ہجرت فرمائی اور مواخات (بھائی چارے) میں حضرت محمد بن مسلمہ انصاری رضی اللہ عنہ کے بھائی بنے۔

نمایاں کارنامے اور خدمات

حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کی زندگی اسلام کی خدمت اور دفاع سے بھرپور ہے۔ آپ نے تمام غزوات اور سرایا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شرکت کی اور اپنی شجاعت، وفاداری، اور قربانی کی بے مثال مثالیں قائم کیں۔

* **غزوہ بدر:** غزوہ بدر میں آپ نے کفار کے خلاف جو غیر معمولی جرات کا مظاہرہ کیا، وہ تاریخ اسلام کا ایک روشن باب ہے۔ اس معرکے میں آپ کے والد کفار کی صف میں تھے اور بارہا آپ پر حملہ کرنے کی کوشش کی، لیکن آپ نے ہر بار ان سے منہ پھیرا۔ جب ان کے والد باز نہ آئے اور مسلسل حملے کرتے رہے تو بالآخر حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کو اللہ کی رضا کی خاطر اپنے والد سے مقابلہ کرنا پڑا اور انہیں واصلِ جہنم کیا۔ یہ واقعہ ایمان کی عظمت اور رشتے ناطوں پر اللہ کی محبت کو ترجیح دینے کا ایک عظیم سبق ہے۔ اس واقعے کے بعد ہی سورۃ المجادلہ کی آیت 22 نازل ہوئی، جس میں ایمان والوں کی یہ صفت بیان کی گئی ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرنے والوں کے مقابلے میں اپنے رشتہ داروں (باپ، بیٹے، بھائی، قبیلے) کی پرواہ نہیں کرتے۔
* **غزوہ احد:** غزوہ احد میں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو زخم آئے اور آپ کے چہرہ مبارک میں خود کی دو کڑیاں پیوست ہو گئیں تو حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے اپنی جان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے، اور یہ دیکھ کر کہ کوئی اور صحابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف نہ پہنچائے، اپنے دانتوں سے ان کڑیوں کو نکالا۔ اس عمل میں آپ کے دو اگلے دانت شہید ہو گئے، لیکن آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مزید تکلیف سے بچا لیا۔
* **امین الامۃ کا لقب:** ایک موقع پر نجران کے عیسائی وفد نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک امین شخص کا مطالبہ کیا جو ان کے مالی معاملات میں ان کی رہنمائی کر سکے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "آج میں تمہارے پاس ایک ایسا شخص بھیجوں گا جو امین اور واقعی امین ہو گا”۔ تمام صحابہ نے خواہش ظاہر کی کہ یہ سعادت انہیں نصیب ہو، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا: "یہ اس امت کا امین ہے”۔ اس لقب نے آپ کی دیانت، راست گوئی، اور لوگوں میں آپ کے اعتماد کی تصدیق کی۔
* **امارت:** آپ نے متعدد سریوں (چھوٹے فوجی مہمات) میں بطور امیر خدمات انجام دیں۔ جنگ ذات السلاسل میں حضرت عمر فاروق اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہم جیسے جلیل القدر صحابہ نے آپ کی امارت میں جہاد کیا۔
* **رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد:** سقیفہ بنی ساعدہ میں جب خلافت کا مسئلہ درپیش ہوا تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اور حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں فرمایا کہ یہ دونوں حضرات اس کام کے اہل ہیں اور میں ان میں سے کسی ایک کو امیر مقرر کرنے پر راضی ہوں۔ لیکن ان دونوں نے جواب دیا کہ "ہم کبھی آپ پر مقدم نہیں ہو سکتے کیونکہ آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے افضل ہیں اور آپ ہی ان کی غار کے ساتھی ہیں”۔
* **شامی محاذ پر سپہ سالاری:** حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں جب اسلامی فتوحات کا سلسلہ شروع ہوا تو شام کی طرف بھیجے جانے والے لشکروں کا کمانڈر انچیف حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کو مقرر کیا گیا۔ آپ نے نہایت حکمت عملی، شجاعت اور دور اندیشی کے ساتھ شام کی فتوحات کو پایہ تکمیل تک پہنچایا۔ آپ کے زیر قیادت اسلامی فوج نے اجنادین، فحل، دمشق، حمص، قنسرین، حلب اور انطاکیہ جیسے اہم شہروں کو فتح کیا۔ آپ کے دورِ امارت میں رومی سلطنت کو شام سے مکمل طور پر پیچھے دھکیل دیا گیا۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں بھی آپ شام میں مسلم افواج کے کمانڈر انچیف رہے۔ آپ کی قیادت میں یرموک کی عظیم جنگ میں مسلمانوں کو فیصلہ کن فتح حاصل ہوئی جو تاریخ اسلام کا ایک سنگ میل ہے۔ آپ کی فوجی قیادت اخلاقی اصولوں، عدل و انصاف اور رعایا پر شفقت پر مبنی تھی، جس کی وجہ سے اہل شام بھی آپ سے بہت متاثر تھے۔

میراث اور وصال

حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کی زندگی سادگی، تقویٰ، اور ایمان کامل کا ایک نمونہ تھی۔ آپ اپنے سپاہیوں اور رعایا کے ساتھ مساوات کا سلوک کرتے تھے۔ ایک مرتبہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے شام کا دورہ کیا اور آپ سے ملنے گئے تو دیکھا کہ آپ کا گھر نہایت سادہ ہے اور گھر میں تلوار، ڈھال اور پانی کے برتن کے سوا کچھ بھی نہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ آپ نے اپنے لیے کوئی چیز نہیں بنائی، تو آپ نے جواب دیا کہ "یہی ہمارے لیے کافی ہے”۔

آپ کا وصال 18 ہجری میں شام میں پھیلنے والی طاعون عمواس کی وبا کے دوران ہوا۔ یہ وبا بڑی شدت کی تھی جس نے ہزاروں مسلمانوں کو شہید کیا، جن میں کئی جلیل القدر صحابہ بھی شامل تھے۔ جب حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کو طاعون نے آ لیا تو آپ نے مسلمانوں کو جمع کیا اور ایک نہایت بصیرت افروز وصیت فرمائی: "اے لوگو! یہ طاعون اللہ کی طرف سے رحمت اور تمہارے نبی کی دعاؤں کا نتیجہ ہے۔ جو شخص اس میں مبتلا ہو جائے، اسے صبر کرنا چاہیے اور اسے معلوم ہونا چاہیے کہ وہ شہید ہو گا۔ میں تمہیں وصیت کرتا ہوں کہ تقویٰ اختیار کرو، نماز قائم کرو، زکوٰۃ ادا کرو، حاکموں کی اطاعت کرو اور ان سے خیر خواہی کرو۔ دنیا تمہیں غافل نہ کرے، اگر کوئی شخص ہزار سال بھی زندہ رہے تو اس کی انتہا موت ہے۔ میں تمہارے سامنے ہوں، اور میں بھی اس بیماری میں مبتلا ہوں۔”

وصیت کے بعد آپ نے اس دارِ فانی سے کوچ فرمایا۔ اس وقت آپ کی عمر 58 سال تھی۔ آپ کو اردن کے علاقے غور (جہاں آج بھی آپ کا مزار مبارک موجود ہے) میں دفن کیا گیا۔ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے آپ کی نماز جنازہ پڑھائی۔ آپ کی وفات پر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے گہرے دکھ کا اظہار کیا اور فرمایا: "کاش میری تمنا پوری ہوتی کہ تمام لوگ اس گھر (مدینہ) میں ہوتے اور ہم ابو عبیدہ کو دیکھتے۔” حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے آپ کو بہترین لوگوں میں سے ایک قرار دیا جن کے ساتھ بیٹھنے سے دلوں کو سکون ملتا تھا۔ آپ کی زندگی، آپ کی امانت، آپ کی بہادری، اور آپ کی عاجزی مسلمانوں کے لیے ہمیشہ ایک مثالی نمونہ رہے گی۔

مستند حوالہ جات

  • سیرت ابن ہشام
  • تاریخ طبری
  • البدایہ والنہایہ از ابن کثیر
  • الاصابہ فی تمییز الصحابہ از ابن حجر عسقلانی
  • اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ از ابن الاثیر
  • الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب از ابن عبد البر