حریث بن زید بن عبد ربہ رضی اللہ تعالی عنہ
خاندانی پس منظر اور لقب
حضرت حریث بن زید بن عبد ربہ الانصاری رضی اللہ تعالی عنہ جلیل القدر صحابہ کرام میں سے ایک ہیں جنہیں "بدری صحابی” ہونے کا شرف حاصل ہے۔ آپ کا تعلق مدینہ منورہ کے انصار کے قبیلہ خزرج کی شاخ بنو مالک بن نجار سے تھا۔ آپ کے والد محترم زید بن عبد ربہ بھی ایک صحابی تھے۔ آپ کے نام کے ساتھ "الانصاری” کا لقب آپ کی مدنی نسبت کو ظاہر کرتا ہے، اور آپ ان خوش نصیب افراد میں سے تھے جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کے بعد آپ کا استقبال کیا اور آپ کی نصرت فرمائی۔
ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام
حضرت حریث بن زید رضی اللہ تعالی عنہ کی ابتدائی زندگی مدینہ منورہ (اس وقت یثرب) میں گزری۔ آپ نے دیگر انصار کی طرح اسلام قبول کیا اور دین حق کو پوری طرح اپنی زندگی میں سمو لیا۔ آپ ان اولین مسلمانوں میں سے تھے جنہوں نے اسلام کی دعوت پر لبیک کہا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت پر ایمان لائے۔ آپ کا قبولِ اسلام ابتدائی دور میں ہی ہو گیا تھا، جس کی بدولت آپ کو اسلام کے ابتدائی معرکوں اور قربانیوں میں شامل ہونے کا موقع ملا۔ آپ نے ایمان کی مضبوطی اور دین کی سرفرازی کے لیے اپنی زندگی وقف کر دی۔
نمایاں کارنامے اور خدمات
حضرت حریث بن زید رضی اللہ تعالی عنہ کے نمایاں کارناموں میں سب سے بڑا شرف غزوۂ بدر میں شرکت ہے۔ آپ ان 313 خوش نصیب صحابہ میں شامل تھے جنہیں اللہ تعالیٰ نے غزوۂ بدر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ لڑنے کا موقع عطا فرمایا۔ غزوۂ بدر حق و باطل کا پہلا فیصلہ کن معرکہ تھا، اور اس میں شرکت کرنے والے صحابہ کرام کو قرآن کریم اور احادیث مبارکہ میں خصوصی فضیلت حاصل ہے۔ آپ نے اس عظیم جنگ میں مردانہ وار حصہ لیا اور اسلام کی سرفرازی کے لیے جانفشانی سے جدوجہد کی۔ غزوۂ بدر کے علاوہ، آپ نے غزوۂ احد اور دیگر غزوات و سرایا میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمرکاب رہ کر اسلامی لشکر کی خدمت کی۔ آپ کا شمار ان ثابت قدم مجاہدین میں ہوتا تھا جو ہر مشکل گھڑی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھڑے رہے۔
میراث اور وصال
حضرت حریث بن زید رضی اللہ تعالی عنہ کی سب سے بڑی میراث آپ کا بدری صحابی ہونا ہے۔ آپ ان خوش نصیب ہستیوں میں سے ہیں جن کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اہل بدر کو بخش دیا ہے اور فرمایا کہ "تم جو چاہو کرو، میں نے تمہیں بخش دیا ہے۔” آپ کی زندگی اسلام کے ابتدائی دور کی قربانیوں، ایثار اور وفاداری کی عکاس ہے۔ آپ نے خلافت راشدہ کے ابتدائی دور تک حیات پائی۔ مورخین کا بیان ہے کہ آپ کا وصال امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کے دور خلافت میں ہوا۔ آپ نے ایک وفادار صحابی اور دین کے سچے خادم کی حیثیت سے اپنی زندگی گزاری اور خالق حقیقی سے جا ملے۔
مستند حوالہ جات
- ابن الأثير، عز الدين علي بن محمد الجزري. (1994). أسد الغابة في معرفة الصحابة. بيروت: دار الكتب العلمية. (جزء 1، صفحہ 609، تحت رقم الترجمة 1269)
- ابن حجر العسقلاني، أحمد بن علي. (1415 هـ). الإصابة في تمييز الصحابة. بيروت: دار الكتب العلمية. (جزء 2، صفحہ 44، تحت رقم الترجمة 1690)
- ابن سعد، محمد بن سعد بن منيع الزهري. (1990). الطبقات الكبرى. بيروت: دار الكتب العلمية. (جزء 3، صفحہ 493)
- الذهبي، شمس الدين محمد بن أحمد. (2001). سير أعلام النبلاء. بيروت: مؤسسة الرسالة. (جزء 1، صفحہ 180 – ضمن طبقة البدريين)
- ابن كثير، أبو الفداء إسماعيل بن عمر. (1988). البداية والنهاية. بيروت: دار الفكر. (جزء 3، صفحہ 280، ضمن ذکر أهل بدر)
