حراش بن امیہ رضی اللہ عنہ

خاندانی پس منظر اور لقب

حراش بن امیہ رضی اللہ عنہ ان جلیل القدر صحابہ کرام میں سے ہیں جنہوں نے ابتدائی دور اسلام میں ہی حق کی آواز پر لبیک کہا۔ آپ کا پورا نام حراش بن امیہ بن ربیعہ الکعبی تھا (بعض تاریخی روایات اور کتب انساب میں آپ کا نام خراش بن امیہ بھی ملتا ہے، جو ایک ہی شخصیت کے دو املاء یا تلفظ سمجھے جاتے ہیں)۔ آپ کا تعلق قبیلہ بنو کعب سے تھا، جو قبیلہ خزاعہ کی ایک شاخ تھی۔ یہ قبیلہ مکہ مکرمہ اور اس کے گرد و نواح میں آباد تھا اور دور جاہلیت سے ہی عرب قبائل میں اپنا ایک مقام رکھتا تھا۔ آپ کے والد کا نام امیہ بن ربیعہ تھا۔ آپ کی شخصیت اگرچہ دیگر معروف صحابہ کرام کی طرح بہت نمایاں نہیں، تاہم آپ نے اسلام کی راہ میں اہم خدمات انجام دیں اور ایک نازک موڑ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اعتماد کا اہل ثابت ہوئے۔ آپ کو کسی خاص لقب سے نہیں پکارا جاتا تھا بلکہ آپ اپنے نام سے ہی معروف تھے۔

ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام

حراش بن امیہ رضی اللہ عنہ کی ابتدائی زندگی کے بارے میں بہت تفصیلی معلومات دستیاب نہیں ہیں، جیسا کہ بہت سے کم معروف صحابہ کے ساتھ ہوتا ہے۔ تاہم، آپ کی پرورش ایسے ماحول میں ہوئی جہاں عربی مروجہ اقدار اور قبائلی نظام کی گہری چھاپ تھی۔ قبیلہ خزاعہ کا مکہ مکرمہ اور قریش سے دیرینہ تعلق تھا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ میں اسلام کی دعوت کا آغاز کیا تو ابتدائی طور پر اس قبیلے کے کچھ افراد نے اسلام قبول کیا، اور بعد ازاں قبیلہ خزاعہ اور مسلمانوں کے درمیان دوستانہ تعلقات قائم ہوئے جو صلح حدیبیہ میں مسلمانوں کے حلیف بننے کی صورت میں سامنے آئے۔ حراش بن امیہ رضی اللہ عنہ نے غالباً صلح حدیبیہ سے قبل ہی اسلام قبول کر لیا تھا، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو صلح حدیبیہ کے اہم موقع پر قریش کی طرف اپنا پیغام رساں بنا کر بھیجا، جو آپ کے ایمان اور آپ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اعتماد کی دلیل ہے۔

نمایاں کارنامے اور خدمات

حراش بن امیہ رضی اللہ عنہ کا سب سے نمایاں کارنامہ صلح حدیبیہ کے موقع پر آپ کی خدمات ہیں۔ سن 6 ہجری میں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام کے ہمراہ عمرہ کی ادائیگی کے ارادے سے مکہ مکرمہ کی طرف روانہ ہوئے تو قریش نے راستہ روک لیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ واضح کرنے کے لیے کہ مسلمانوں کا ارادہ جنگ کا نہیں بلکہ صرف عمرہ کی ادائیگی کا ہے، ایک پیغام رساں بھیجنے کا فیصلہ کیا۔

سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حراش بن امیہ رضی اللہ عنہ کو اس اہم مشن کے لیے منتخب فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حراش رضی اللہ عنہ کو اپنی اونٹنی القصواء دے کر قریش کے پاس بھیجا تاکہ وہ انہیں مسلمانوں کے نیک ارادے سے آگاہ کریں۔ حراش بن امیہ رضی اللہ عنہ جب قریش کے پاس پہنچے اور انہیں یہ پیغام دیا تو قریش نے نہایت بدتمیزی اور گستاخی کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے آپ کی اونٹنی کو ذبح کر دیا اور آپ کو بھی قتل کرنے کا ارادہ کیا، لیکن "الاحابیش” (حلیف قبائل) میں سے کسی نے یا آپ کے اپنے قبیلے کے افراد نے آپ کو بچا لیا۔ اس صورتحال کی وجہ سے حراش رضی اللہ عنہ کو اپنا مشن ادھورا چھوڑ کر واپس آنا پڑا۔

اس واقعے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو بھیجا کیونکہ آپ کے قریش میں زیادہ رشتہ دار تھے، اور خیال تھا کہ آپ کے لیے معاملات آسان ہوں گے۔

صلح حدیبیہ کے موقع پر حراش بن امیہ رضی اللہ عنہ نے مسلمانوں کی بیعت رضوان میں بھی شرکت کی اور ان سعادت مند صحابہ میں شامل ہوئے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں رضا مندی کا اعلان فرمایا۔ یہ آپ کی استقامت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وفاداری کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ آپ غزوہ فتح مکہ میں بھی شریک ہوئے۔

میراث اور وصال

حراش بن امیہ رضی اللہ عنہ کی وفات کے متعلق کوئی مستند اور متعین تاریخ یا مقام معلوم نہیں ہے۔ بہت سے صحابہ کرام جنہوں نے ابتدائی اسلامی تاریخ میں اہم کردار ادا کیا، ان کی وفات کے بارے میں تفصیلی روایات دستیاب نہیں ہیں۔ تاہم، آپ نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ اسلام کی خدمت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت میں گزارا۔ آپ کی سب سے بڑی میراث آپ کا وہ اقدام ہے جب آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سفیر کی حیثیت سے ایک خطرناک اور جان لیوا مہم پر جانے سے ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی۔ آپ نے اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام کو پہنچانے کی کوشش کی۔ آپ کی یہ قربانی اور اطاعت، آنے والی نسلوں کے لیے استقامت اور فدائیت کا روشن پیغام ہے۔

مستند حوالہ جات

  • سیرت ابن ہشام (جلد 2)
  • تاریخ طبری (جلد 2 و 3)
  • البدایہ و النہایہ از ابن کثیر (جلد 4 و 5)
  • الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب از ابن عبدالبر (جلد 1)
  • الاصابہ فی تمییز الصحابہ از ابن حجر عسقلانی (جلد 2)
  • اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ از ابن اثیر (جلد 2)