حجاب بن زبیر رضی اللہ عنہ

خاندانی پس منظر اور لقب

ہم یہاں جس عظیم ہستی کا ذکر کر رہے ہیں وہ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ ہیں۔ بظاہر "حجاب بن زبیر” نام کے کسی صحابی یا تابعی کا ذکر مستند کتب تاریخ و سیر میں نمایاں طور پر نہیں ملتا، اور چونکہ "بن زبیر” اور "رضی اللہ عنہ” کی نسبت کسی جلیل القدر صحابی کے لیے ہی استعمال ہوتی ہے، اس لیے یہ غالب گمان ہے کہ سوال میں ٹائپنگ کی غلطی ہوئی اور مراد سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ ہی ہیں۔

سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کا تعلق قریش کے بنو اسد قبیلے سے تھا اور وہ اسلام کی ابتدائی تاریخ کے ایک نہایت اہم، جلیل القدر صحابی اور نامور جنگجو تھے۔ ان کے والد حضرت زبیر بن العوام رضی اللہ عنہ تھے جو کہ رسول اللہ ﷺ کے پھوپھی زاد بھائی اور عشرہ مبشرہ (وہ دس صحابہ جنہیں دنیا ہی میں جنت کی بشارت دی گئی) میں سے تھے۔ انہیں رسول اللہ ﷺ کا "حواری” (خاص مددگار) ہونے کا شرف حاصل تھا۔ ان کی والدہ محترمہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا تھیں، جو کہ خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی اور ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی سگی بہن تھیں۔ اس طرح، عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کا نانا حضرت ابوبکر صدیق اور خالہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہما تھیں۔

آپ رضی اللہ عنہ کو ‘ابو خبیب’ کی کنیت سے پکارا جاتا تھا۔ جب آپ کی شہادت ہوئی تو ایک لقب ‘حمامۃ المسجد’ (مسجد کا کبوتر) بھی مشہور ہوا، کیونکہ آپ کا زیادہ وقت مسجد میں عبادت اور طواف میں گزرتا تھا۔

ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام

سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ ہجرت کے بعد مدینہ منورہ میں پیدا ہونے والے سب سے پہلے بچے تھے۔ یہ ہجرت کے پہلے یا دوسرے سال (622 یا 623 عیسوی) کا واقعہ ہے۔ آپ کی ولادت پر مسلمانوں نے بے حد خوشی منائی، کیونکہ مدینہ میں یہودیوں نے یہ افواہ پھیلا رکھی تھی کہ انہوں نے مسلمانوں پر جادو کر دیا ہے جس کی وجہ سے ان کے ہاں بچے پیدا نہیں ہوں گے۔ رسول اللہ ﷺ نے نومولود عبداللہ کو گود میں لیا، کھجور چبا کر آپ کے منہ میں ڈالی (تحنیک کی)، اور برکت کی دعا فرمائی۔

آپ نے آنکھیں ایک ایسے گھرانے میں کھولیں جو تقویٰ، علم اور شجاعت کا گہوارہ تھا۔ آپ کی پرورش رسول اللہ ﷺ کے مبارک زمانے اور پھر خلفائے راشدین کے زیر سایہ ہوئی۔ بچپن ہی سے آپ میں بہادری، حق گوئی اور دینداری کی صفات نمایاں تھیں۔ آپ نے کم عمری میں ہی رسول اللہ ﷺ سے احادیث سنی اور اپنے والدین، نانا، اور خالہ سمیت کئی جلیل القدر صحابہ سے علم حاصل کیا۔ آپ کا شمار ان اصحاب میں ہوتا تھا جو اپنے علم، عمل، اور زہد و تقویٰ کی بنا پر ممتاز تھے۔

نمایاں کارنامے اور خدمات

سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے اسلامی تاریخ میں ایک مجاہد، عالم اور حکمران کی حیثیت سے گہرے نقوش چھوڑے۔

  • فوجی خدمات: آپ رضی اللہ عنہ اپنی شجاعت اور بہادری میں بے مثال تھے۔ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں اسلامی فتوحات میں اہم کردار ادا کیا۔ خصوصاً افریقہ (تونس) کی فتح میں آپ کی بہادری فیصلہ کن ثابت ہوئی۔ 27 ہجری میں آپ نے وہاں کے رومی حکمران جرجیر کو اس کی فوج کے سامنے قتل کیا، جس سے مسلمانوں کو فتح حاصل ہوئی۔ جنگ ذات الصواری اور طرابلس کی فتح میں بھی آپ نے نمایاں کردار ادا کیا۔ آپ کو عرب کے بہترین شہسواروں اور بہادروں میں شمار کیا جاتا تھا۔
  • سیاسی کردار اور خلافت: حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد جب یزید بن معاویہ کو خلیفہ بنایا گیا تو عبداللہ بن زبیر، حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھ یزید کی بیعت سے انکار کرنے والوں میں پیش پیش تھے۔ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد، عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے مکہ کو اپنا مرکز بنایا اور خلافت کا دعویٰ کیا۔ اہل حجاز، یمن، اور بعد میں عراق کے کئی علاقوں (بصرہ، کوفہ) نے آپ کی بیعت کر لی۔ آپ نے تقریباً نو سال تک امیر المومنین کی حیثیت سے حکومت کی، اس دوران عدل و انصاف قائم کیا اور دین کی ترویج کے لیے کوششیں کیں۔
  • حرم شریف کی تعمیر نو: یزید کے دور میں جب مکہ کا محاصرہ کیا گیا اور کعبہ پر منجنیقوں سے پتھر پھینکے گئے تو کعبہ کی دیواروں کو نقصان پہنچا۔ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے اپنی خلافت کے دوران کعبہ کی تعمیر نو کرائی اور اسے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اصل بنیادوں پر قائم کیا، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ کی خواہش تھی۔
  • علمی خدمات: آپ کبار صحابہ میں سے تھے جنہوں نے رسول اللہ ﷺ، حضرت ابوبکر، عمر، عثمان، اور اپنی والدہ حضرت اسماء اور خالہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہم اجمعین سے حدیث روایت کی۔ آپ کا شمار ان مفتیان مدینہ میں ہوتا تھا جن سے لوگ دینی مسائل میں رہنمائی حاصل کرتے تھے۔

میراث اور وصال

عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے آخری ایام عبدالملک بن مروان کے دور خلافت میں بہت ہنگامہ خیز رہے۔ عبدالملک نے حجاج بن یوسف الثقفی کو ایک بڑی فوج کے ساتھ مکہ روانہ کیا تاکہ وہ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی حکومت کا خاتمہ کرے۔ 73 ہجری (692 عیسوی) میں حجاج نے مکہ کا طویل محاصرہ کیا، جو کئی مہینوں تک جاری رہا۔ اس دوران حرم شریف کی حرمت کا خیال رکھے بغیر منجنیقوں سے پتھر اور آگ کے گولے پھینکے گئے، جس سے کعبہ کو دوبارہ نقصان پہنچا۔

محاصرے کے دوران جب آپ کے ساتھی ایک ایک کر کے ساتھ چھوڑنے لگے، تو آپ نے اپنی والدہ حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے ملاقات کی اور ان سے آخری مشورہ کیا۔ والدہ نے نہایت جرات اور استقامت کا مظاہرہ کرتے ہوئے فرمایا: "بیٹے! اگر تم حق پر ہو تو لڑتے رہو، یہاں تک کہ اسی راہ میں شہید ہو جاؤ۔ کمزور دلوں کی طرح ہتھیار نہ ڈالنا، کہ یہ تمہاری دنیا و آخرت کی رسوائی کا باعث ہو گا۔” اس نصیحت کو سن کر عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے آخری جنگ کا عزم کیا۔

اسی روز، 73 ہجری میں، آپ نے حرم شریف کے اندر حجاج کی فوج کا بہادری سے مقابلہ کیا۔ آپ تنہا لڑتے رہے یہاں تک کہ لڑتے لڑتے شہید ہو گئے۔ آپ کی شہادت جمعرات 17 جمادی الاول 73 ہجری (اکتوبر 692ء) کو ہوئی۔ حجاج بن یوسف نے آپ کا سر کاٹ کر دمشق میں عبدالملک بن مروان کے پاس بھیجا اور آپ کے جسدِ خاکی کو کئی دن تک مکہ کے قریب سولی پر لٹکائے رکھا، جس سے امت مسلمہ میں شدید غم و غصہ پایا گیا۔

عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے اپنی شجاعت، تقویٰ، حق گوئی اور خلافت راشدہ کے اصولوں پر کاربند رہنے کی وجہ سے تاریخ میں ایک بے مثال مقام حاصل کیا۔ آپ کی میراث استقامت، عدل اور حق پر ڈٹے رہنے کی ایک درخشاں مثال ہے۔ آپ کو امت مسلمہ ہمیشہ ایک سچے مجاہد، بہادر حکمران، اور عابد و زاہد صحابی کے طور پر یاد رکھتی ہے جنہوں نے اپنی جان راہِ حق میں قربان کر دی۔

مستند حوالہ جات

  • ابن کثیر، البدایۃ والنہایۃ
  • الذہبی، سیر اعلام النبلاء
  • الطبری، تاریخ الرسل والملوک
  • ابن الأثیر، الکامل فی التاریخ
  • ابن حجر عسقلانی، الاصابہ فی تمییز الصحابہ