حابس بن دغنہ رضی اللہ عنہ

خاندانی پس منظر اور لقب

حضرت حابس بن دغنہ (بعض روایات میں ‘حابس بن دغنۃ’ بھی ملتا ہے) کا تعلق بنو مالک بن عمرو قبیلے سے تھا، جو بنو تمیم کی ایک شاخ تھی۔ یہ قبیلہ عرب میں اپنی بہادری، سخاوت اور پناہ دینے کی روایت کی پاسداری کے لیے معروف تھا۔ حابس بن دغنہ اپنے قبیلے کے سرداروں میں سے ایک تھے اور انہیں اپنی شرافت، امانت داری اور عہد کی پاسداری کی وجہ سے پورے عرب میں عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ ان کا کوئی مخصوص لقب اگرچہ مشہور نہیں ہے، لیکن انہیں اپنے وقت کے بااثر اور معزز سرداروں میں شمار کیا جاتا تھا جن کی بات کا وزن مکہ کے قریش میں بھی ہوتا تھا۔

ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام

حابس بن دغنہ کی ابتدائی زندگی کے بارے میں بہت زیادہ تفصیلات تاریخی کتب میں نہیں ملتیں۔ تاہم، ان کے کردار و خصائل کے بارے میں جو معلومات دستیاب ہیں، وہ انہیں ایک انتہائی معزز اور انصاف پسند شخص کے طور پر پیش کرتی ہیں۔ وہ مکہ کے گرد و نواح میں ایک بااثر شخصیت تھے، اور اپنی قوم کے اخلاقی اصولوں، جیسے مہمان نوازی، کمزوروں کی حمایت اور مظلوموں کو پناہ دینے، پر سختی سے کاربند تھے۔

اسلام قبول کرنے کے حوالے سے، مستند سیرت نگاروں اور مؤرخین (جیسے امام بخاری، امام ابن کثیر، اور علامہ ابن حشام) کی اکثریت کے مطابق، حابس بن دغنہ نے اسلام قبول نہیں کیا تھا اور وہ اپنی قوم کے آبائی دین پر ہی قائم رہے۔ انہوں نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو اس وقت پناہ دی تھی جب وہ مسلمان تھے، لیکن حابس خود دینِ اسلام میں داخل نہیں ہوئے۔ ان کا یہ عمل قبائلی اقدار، اخلاقی ذمہ داری اور عرب کی رسم و رواج کے تحت تھا کہ ایک بااثر سردار کسی مظلوم کو پناہ دے۔ تاہم، ان کی شرافت، پناہ دینے کی رسم کی پاسداری اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی حمایت، اسلامی تاریخ کا ایک روشن باب ہے۔ ان کے اس حسنِ سلوک کی بنا پر بہت سے لوگ انہیں احترام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، اور سوال میں ‘رضی اللہ عنہ’ کا استعمال اسی عمومی احترام کی عکاسی کرتا ہے۔

نمایاں کارنامے اور خدمات

حابس بن دغنہ کا سب سے نمایاں کارنامہ اور خدمت حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو مکہ میں قریش کی ایذا رسانیوں کے دوران پناہ دینا تھا۔ یہ واقعہ ہجرت مدینہ سے قبل پیش آیا:

  1. جب حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو مکہ میں قریش کی جانب سے شدید مظالم کا سامنا کرنا پڑا تو انہوں نے حبشہ کی جانب ہجرت کا ارادہ کیا۔ وہ ابھی راستے میں ہی تھے کہ انہیں حابس بن دغنہ ملے، جو ان سے پہلے سے واقف تھے اور ان کے حسنِ اخلاق اور معزز مقام سے آگاہ تھے۔
  2. حابس بن دغنہ نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ وہ کہاں جا رہے ہیں۔ جب انہیں معلوم ہوا کہ ابوبکر صدیق قریش کے ظلم سے تنگ آکر ہجرت کر رہے ہیں، تو حابس نے کہا: "آپ جیسے شخص نہ تو نکلتا ہے اور نہ ہی نکالا جاتا ہے۔ آپ تو صلہ رحمی کرنے والے، مہمان نواز، دوسروں کا بوجھ اٹھانے والے اور مصیبت زدوں کے کام آنے والے ہیں۔ میں آپ کو پناہ دیتا ہوں، آپ مکہ واپس چلیں۔”
  3. حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ حابس بن دغنہ کی پناہ میں مکہ واپس آئے۔ حابس نے خانہ کعبہ میں قریش کے سرداروں کے سامنے اعلان کیا کہ وہ ابوبکر کو پناہ دے رہے ہیں۔ قریش نے حابس بن دغنہ کے رتبے اور ان کے قبیلے کی طاقت کی وجہ سے اس پناہ کو قبول کر لیا، لیکن ایک شرط کے ساتھ کہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اپنے گھر میں نماز پڑھیں اور قرآن کی تلاوت بلند آواز میں نہ کریں۔
  4. حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے یہ شرط قبول کر لی اور اپنے گھر میں نمازیں ادا کرنے لگے اور قرآن کی تلاوت بھی کرتے رہے۔ تاہم، حضرت ابوبکر کا گھر کعبہ کے قریب تھا اور وہ جب تلاوت کرتے تو ان کی آواز پڑوسیوں اور گزرنے والوں تک پہنچتی تھی۔ ان کی تلاوت کے سحر اور اسلام کی سادگی سے متاثر ہو کر عورتیں اور بچے ان کے پاس جمع ہونے لگے اور غور سے سننے لگے۔
  5. قریش کے سرداروں کو یہ بات بہت بری لگی۔ انہیں خدشہ ہوا کہ حضرت ابوبکر کی تلاوت اور نماز سے ان کے لوگ متاثر ہو کر اسلام قبول کر سکتے ہیں۔ چنانچہ، انہوں نے حابس بن دغنہ سے شکایت کی کہ ابوبکر اپنی شرط کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔
  6. حابس بن دغنہ نے حضرت ابوبکر سے رابطہ کیا اور انہیں یاد دلایا کہ قریش ان سے کیا چاہتے ہیں۔ اس موقع پر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کمال استقامت کا مظاہرہ کرتے ہوئے فرمایا: "میں تمہاری پناہ واپس کرتا ہوں اور اللہ عزوجل کی پناہ پر راضی ہوں۔” اس کے بعد آپ نے مکہ میں اللہ کی پناہ میں رہتے ہوئے اپنی دعوت کا سلسلہ جاری رکھا، یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر ہجرت مدینہ فرمائی۔

یہ واقعہ حابس بن دغنہ کی شرافت، قبائلی اقدار کی پاسداری اور ایک غیر مسلم ہوتے ہوئے بھی عدل و انصاف کے قیام میں ان کے کردار کو نمایاں کرتا ہے۔ ان کا یہ عمل اسلامی تاریخ میں ایک ایسی مثال کے طور پر یاد کیا جاتا ہے جو اخلاقیات اور انسانی ہمدردی کو سیاسی اور مذہبی اختلافات پر فوقیت دیتی ہے۔

میراث اور وصال

حابس بن دغنہ کی سب سے بڑی میراث ان کا وہ بے مثال عمل ہے جو انہوں نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو پناہ دے کر انجام دیا۔ اگرچہ وہ اسلام قبول نہیں کر سکے، لیکن ان کا یہ کارنامہ اسلامی تاریخ کے صفحات میں ان کے نام کو سنہری حروف میں رقم کر گیا۔ انہوں نے یہ ثابت کیا کہ شرافت، امانت داری، اور عہد کی پاسداری کسی مذہب کی محتاج نہیں ہوتی بلکہ یہ انسانی فطرت کے اعلیٰ اوصاف ہیں۔

ان کا نام حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی ہجرت کے ابتدائی مراحل اور قریش کے مظالم کے تناظر میں ہمیشہ یاد کیا جاتا ہے۔ وہ ایک ایسے سردار تھے جنہوں نے اپنی ذاتی اور قبائلی اقدار کو سیاسی دباؤ اور مذہبی عداوتوں پر ترجیح دی اور ایک مظلوم کی حمایت میں کھڑے ہوئے۔

حابس بن دغنہ کے وصال کے بارے میں مستند تاریخی کتب میں کوئی خاص تفصیل موجود نہیں ہے، کیونکہ ان کا مرکزی کردار صرف اس ایک مخصوص واقعے تک ہی محدود رہا۔ تاہم، ان کی یاد اسلامی تاریخ میں ان کی غیر معمولی شرافت اور نیک دلی کی وجہ سے ہمیشہ زندہ رہے گی۔

مستند حوالہ جات

  • صحیح بخاری، کتاب المناقب، باب ہجرۃ النبی ﷺ و اصحابہ الی المدینۃ، حدیث نمبر: 3905
  • صحیح بخاری، کتاب فضائل اصحاب النبی ﷺ، باب ہجرۃ النبی ﷺ و اصحابہ الی المدینۃ، حدیث نمبر: 3911
  • سیرت ابن ہشام (الروض الانف للسهيلي میں تفصیلی شرح کے ساتھ)
  • تاریخ الطبری، الجزء الثانی، ذکر الخبر عن ہجرۃ رسول اللہ ﷺ من مکۃ الی المدینۃ
  • البدایۃ والنہایۃ لابن کثیر، الجزء الثالث، ذکر ہجرۃ الصدیق رضی اللہ عنہ إلی الحبشۃ ثم رجوعہ فی جوار ابن الدغنۃ
  • الطبقات الکبریٰ لابن سعد، الجزء الثالث، ذکر أبی بکر الصدیقؓ، فصل: ھجرتہ إلی الحبشۃ