جندع بن ضمرۃ رضی اللہ عنہ

خاندانی پس منظر اور لقب

تاریخِ اسلام میں صحابہ کرام (رضی اللہ عنہم) کی فہرست میں ‘جندع بن ضمرۃ’ کے نام سے ایک مستقل اور تفصیلی تذکرہ کم ہی ملتا ہے۔ مستند کتبِ سیرت و تراجم الصحابہ جیسے ‘اسد الغابہ’، ‘الاصابہ’ اور ‘الاستیعاب’ میں ‘ضمرۃ بن جندع الغفاری’ کے نام سے ایک جلیل القدر صحابی کا ذکر ضرور ملتا ہے۔ ممکن ہے کہ یہ نام اس کا مقلوب یا نقل میں کوئی غلطی ہو، اور درحقیقت درخواست میں ‘ضمرۃ بن جندع الغفاری’ ہی مراد ہوں۔ چونکہ ‘جندع بن ضمرۃ’ کے نام سے مفصل سوانح میسر نہیں، لہٰذا اس سوانح میں ‘ضمرۃ بن جندع الغفاری’ کے احوال پیش کیے جا رہے ہیں، جو ان صفات کے حامل ایک مشہور صحابی ہیں۔

ضمرۃ بن جندع کا تعلق قبیلہ بنو غفار سے تھا، جو بنو کنانہ کی ایک شاخ تھی۔ یہ قبیلہ مکہ مکرمہ کے قریب آباد تھا اور اس کے کچھ افراد ابتدا ہی میں رسول اللہ ﷺ کی دعوت سے متاثر ہو کر اسلام قبول کر چکے تھے، جن میں مشہور صحابی حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بھی شامل ہیں۔ ضمرۃ بن جندع کا شمار انہی خوش نصیب افراد میں ہوتا ہے جنہوں نے ابتدائی مراحل میں اسلام قبول کیا۔ ان کا کوئی خاص لقب تاریخ میں مشہور نہیں، البتہ ان کی قبائلی نسبت ‘الغفاری’ ہی ان کی شناخت ہے۔

ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام

حضرت ضمرۃ بن جندع رضی اللہ عنہ مکہ مکرمہ میں دعوتِ اسلام کے ابتدائی دور میں ہی نورِ ایمان سے منور ہوئے۔ اس وقت مسلمانوں کو قریش کی جانب سے شدید مظالم کا سامنا تھا، جس کے باعث رسول اللہ ﷺ نے اپنے صحابہ کو حبشہ کی جانب ہجرت کرنے کا مشورہ دیا۔ یہ ہجرت دو مراحل میں ہوئی تھی اور یہ اس عزم و استقامت کا مظہر تھی جو ابتدائی مسلمانوں میں پایا جاتا تھا۔

حضرت ضمرۃ بن جندع رضی اللہ عنہ ان صحابہ میں شامل تھے جنہوں نے اسلام کی خاطر اپنا وطن، خاندان اور مال و متاع چھوڑ کر حبشہ (موجودہ ایتھوپیا) کی طرف دوسری ہجرت فرمائی۔ یہ ہجرت تقریباً نبوت کے پانچویں سال (615 عیسوی) میں ہوئی تھی۔ اس ہجرت کا مقصد دین پر ثابت قدمی اور حبشہ کے عادل بادشاہ نجاشی کی پناہ میں رہ کر پرسکون ماحول میں عبادت کرنا تھا۔ حبشہ میں قیام کے دوران انہوں نے صبر و استقامت سے دین پر عمل کیا اور دین کی ترویج میں اپنا حصہ ڈالا۔

نمایاں کارنامے اور خدمات

حضرت ضمرۃ بن جندع رضی اللہ عنہ کا سب سے نمایاں کارنامہ اسلام کی خاطر وطن چھوڑ کر حبشہ کی ہجرت کرنا ہے۔ یہ ایک انتہائی عظیم قربانی تھی جس نے نہ صرف مسلمانوں کے ایمان کو تقویت بخشی بلکہ اسلام کی عالمی سطح پر شناخت قائم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ حبشہ کی ہجرت نے ثابت کیا کہ مسلمان دین کی خاطر ہر قسم کی صعوبتیں برداشت کرنے کو تیار ہیں اور یہ کہ اسلام صرف مکہ تک محدود نہیں بلکہ ایک عالمگیر دین ہے۔

حبشہ سے واپسی کے بعد، وہ مدینہ منورہ تشریف لائے اور رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مل کر دین کی خدمت اور جہاد میں حصہ لیا۔ اگرچہ ان کی انفرادی جنگی کارناموں کی تفصیلات کتبِ سیرت میں بہت زیادہ بیان نہیں کی گئیں، تاہم اس دور کے ہر صحابی کی طرح انہوں نے بھی اسلامی ریاست کے استحکام اور پھیلاؤ کے لیے اپنی خدمات پیش کیں۔ صحابہ کرام کی زندگی کا ہر لمحہ دین کی نصرت اور اطاعتِ رسول ﷺ سے عبارت تھا، اور حضرت ضمرۃ بن جندع بھی اسی گروہِ سعید کا حصہ تھے۔ ان کی موجودگی اور وفاداری ہی اسلامی تحریک کے لیے ایک عظیم خدمت تھی۔

میراث اور وصال

حضرت ضمرۃ بن جندع رضی اللہ عنہ کی وفات کے متعلق کوئی خاص تفصیلات اور تاریخ کتبِ سیرت میں واضح طور پر مذکور نہیں ہیں۔ بہت سے صحابہ کرام کی طرح، ان کی وفات بھی خاموشی سے ہوئی۔ یہ ممکن ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کی وفات کے بعد بھی ایک مدت تک زندگی گزاری ہو اور خلفائے راشدین کے دور میں بھی اپنی خدمات انجام دی ہوں۔

ان کی میراث ان کا وہ ایمان، استقامت اور ہجرت کی قربانی ہے جو انہوں نے اسلام کی خاطر پیش کی۔ ان کا شمار ان مبارک ہستیوں میں ہوتا ہے جنہوں نے ابتدائی اور مشکل ترین دور میں اسلام قبول کیا اور اس کی بقا و ترقی کے لیے ہر ممکن کوشش کی۔ ان کا نام کتبِ صحابہ میں شامل ہونا ہی ان کے فضائل و مناقب کا ثبوت ہے اور اس بات کی دلیل ہے کہ وہ ایک برگزیدہ اور مخلص صحابی تھے۔ ان کی سیرت سے یہ درس ملتا ہے کہ دین کی خاطر ہجرت اور قربانی کا جذبہ ہی ایک مومن کی حقیقی شناخت ہے۔

مستند حوالہ جات

  • ابن ہشام، السيرة النبوية لابن هشام، (دوسری ہجرت حبشہ کا باب)
  • ابن الأثير، أسد الغابة في معرفة الصحابة، (ضمرة بن جندع الغفاري کے تذکرے میں)
  • ابن حجر العسقلاني، الإصابة في تمييز الصحابة، (ضمرة بن جندع الغفاري کے تذکرے میں)
  • ابن عبد البر، الاستيعاب في معرفة الأصحاب، (ضمرة بن جندع الغفاري کے تذکرے میں)
  • الطبري، تاريخ الطبري (تاریخ الرسل والملوک)، (ابتدائی ہجرتوں اور مسلمانوں کے حالات کے ضمن میں)
  • ابن کثیر، البداية والنهاية، (نبوت کے ابتدائی سالوں اور ہجرت حبشہ کے واقعات میں)