تمیم ربیعہ رضی اللہ تعالی عنہ
محترم سائل، آپ نے "تمیم ربیعہ رضی اللہ تعالی عنہ” کے عنوان سے سوانح حیات طلب فرمائی ہے، تاہم مستند اسلامی تاریخی مآخذ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جلیل القدر صحابہ کرام میں سے کوئی صحابی اس مخصوص نام "تمیم ربیعہ” کے ساتھ مشہور نہیں۔ ممکن ہے کہ یہ نام لکھنے میں کوئی سہو ہوا ہو یا یہ کسی اور شخصیت سے منسوب ہو جسے عام طور پر اس طرح نہ پکارا جاتا ہو۔
تاہم، "تمیم” نام سے مشہور ترین صحابی حضرت تمیم الداری رضی اللہ تعالی عنہ ہیں، جو کہ اپنی فضیلت، دینداری اور مشہور حدیث دجال کی روایت کی وجہ سے معروف ہیں۔ لہٰذا، ہم یہاں حضرت تمیم الداری رضی اللہ تعالی عنہ کی سوانح حیات پیش کر رہے ہیں، اس امید کے ساتھ کہ آپ کا مقصود اسی عظیم صحابی کی شخصیت رہی ہوگی۔
خاندانی پس منظر اور لقب
حضرت تمیم بن اوس الداری رضی اللہ تعالی عنہ کا تعلق یمن کے لخم قبیلے سے تھا، جو قحطانی عربوں کی ایک شاخ تھی۔ ان کا مکمل نسب تمیم بن اوس بن خارجہ بن صخر بن کعب بن حزیمہ بن عبدالرحمٰن بن کعب بن مالک بن جذاعہ بن لخم الداری تھا۔ "الداري” کا لقب ان کے قبیلے بنی الدار کی نسبت سے تھا، جو فلسطین کے علاقے بیت جبرین (موجودہ الخلیل، فلسطین کے قریب) میں آباد تھا۔ وہ اپنے قبیلے کے سرداروں میں سے تھے اور عیسائیت کے پیروکار تھے، مگر علم و فضل میں ممتاز مقام رکھتے تھے۔
ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام
حضرت تمیم الداری رضی اللہ تعالی عنہ نے اسلام قبول کرنے سے قبل عیسائیت کی تعلیم حاصل کی تھی اور اپنے علاقے میں ایک عالم و راہب کے طور پر جانے جاتے تھے۔ آپ اخلاق و کردار کے لحاظ سے بہترین انسان تھے۔ 9 ہجری میں (بعض روایات کے مطابق 8 ہجری)، جسے عام الوفود (وفود کا سال) کہا جاتا ہے، آپ اپنے قبیلے بنی الدار کے 10 افراد پر مشتمل ایک وفد کے ساتھ مدینہ منورہ تشریف لائے۔ وہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اسلام کی حقانیت سے متاثر ہو کر آپ کے دست مبارک پر مشرف بہ اسلام ہوئے۔ آپ کے قبول اسلام کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کی ذہانت اور علمی بصیرت کو سراہا اور آپ کے سابقہ تجربات کو اسلام کی خدمت میں استعمال کرنے کی ترغیب دی۔
نمایاں کارنامے اور خدمات
حضرت تمیم الداری رضی اللہ تعالی عنہ کے متعدد کارنامے اور خدمات ہیں جو اسلامی تاریخ میں ان کی عظمت پر دلالت کرتے ہیں:
- حدیث دجال کی روایت: یہ آپ کا سب سے مشہور کارنامہ ہے۔ آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک بحری سفر کا واقعہ بیان کیا جس میں آپ کو ایک جزیرے پر "جساسہ” نامی جانور اور پھر دجال سے ملاقات ہوئی تھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ واقعہ صحابہ کرام کو سنایا اور اس کی تصدیق فرمائی کہ یہ میری اپنی بتائی ہوئی دجال کے متعلق باتوں کی تائید کرتا ہے۔ یہ حدیث صحیح مسلم سمیت کتب حدیث میں موجود ہے اور اسلامی عقائد میں دجال کے فتنے کو سمجھنے کے لیے بنیادی ماخذ ہے۔
- مسجد میں چراغاں کی ابتدا: حضرت تمیم الداری رضی اللہ تعالی عنہ نے سب سے پہلے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد نبوی میں رات کی تاریکی دور کرنے اور نمازیوں کی سہولت کے لیے چراغ روشن کرنے کا مشورہ دیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کے مشورے کو پسند فرمایا اور اس پر عمل پیرا ہوئے۔ اس طرح آپ اسلامی تاریخ میں مساجد کو روشن کرنے والے پہلے شخص بنے، اور یہ سنت آج تک جاری ہے۔
- منبر نبوی کی تجویز: بعض روایات کے مطابق، آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ مشورہ بھی دیا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک منبر بنایا جائے تاکہ آپ بلند مقام پر تشریف فرما ہو کر خطبہ دیں اور تمام صحابہ آپ کا چہرہ مبارک دیکھ سکیں اور آپ کی آواز سن سکیں۔ یہ مشورہ بھی قبول کیا گیا اور مسجد نبوی میں پہلا منبر بنایا گیا۔
- علمی خدمات اور احادیث کی روایت: آپ نے کئی احادیث روایت کیں اور آپ کا شمار نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے معتبر راویوں میں ہوتا ہے۔ آپ اپنے علم، تقویٰ اور عبادت گزاری کے لیے معروف تھے۔
- جہاد اور فتوحات میں شرکت: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد، آپ نے شام کی اسلامی فتوحات میں حصہ لیا۔ بعد میں آپ بیت المقدس میں آباد ہو گئے اور وہاں کے انتظامی و دینی امور میں بھی شریک رہے۔
میراث اور وصال
حضرت تمیم الداری رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنی پوری زندگی اسلام کی خدمت اور تقویٰ و پرہیزگاری میں گزاری۔ ان کی روایت کردہ حدیث دجال آج بھی قیامت کی نشانیوں اور دجال کے ظہور کو سمجھنے کے لیے ایک بنیادی کڑی ہے۔ مساجد میں چراغاں اور منبر کی موجودگی بھی ان کی خدمات کی یاد دلاتی ہیں۔ آپ کی زندگی مسلمانوں کے لیے علم، عبادت اور نیک مشورے کی بہترین مثال ہے۔
آپ کی وفات کے سن کے بارے میں مختلف آراء ہیں۔ بعض مورخین کے مطابق آپ نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت (تقریباً 35 ہجری) میں وفات پائی۔ جبکہ دیگر روایات کے مطابق آپ نے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت (40 ہجری کے قریب) بیت المقدس میں وفات پائی اور وہیں دفن ہوئے۔ آپ کا مزار فلسطین کے بیت جبرین کے علاقے میں موجود ہے۔
مستند حوالہ جات
- صحیح مسلم، کتاب الفتن و اشراط الساعۃ، حدیث نمبر 2942
- سیرت ابن ہشام
- طبقات ابن سعد
- الاصابہ فی تمییز الصحابہ، لابن حجر عسقلانی
- اسد الغابہ فی معرفتہ الصحابہ، لابن اثیر
- البدایہ والنہایہ، لابن کثیر
- تاریخ دمشق، لابن عساکر
