بشیر بن سعد ابو النعمان ابن ثعلبہ الانصاری الخزرجی رضی اللہ تعالی عنہ
خاندانی پس منظر اور لقب
حضرت بشیر بن سعد رضی اللہ تعالی عنہ کا پورا نام بشیر بن سعد بن ثعلبہ بن خلاس بن زید بن مالک بن ثعلبہ بن کعب بن الخزرج الانصاری الخزرجی تھا۔ آپ کا تعلق مدینہ منورہ کے مشہور قبیلہ خزرج سے تھا اور آپ انصار کے جلیل القدر صحابہ کرام میں سے تھے۔ آپ کی کنیت "ابو النعمان” تھی، جو آپ کے صاحبزادے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ تعالی عنہ کے نام پر تھی۔ حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ تعالی عنہ بھی جلیل القدر صحابی اور متعدد اسلامی علاقوں کے گورنر رہے۔ حضرت بشیر بن سعد رضی اللہ تعالی عنہ کی والدہ کا نام انیسہ بنت خلاس تھا۔ آپ کی زوجہ محترمہ حضرت عمرہ بنت رواحہ رضی اللہ تعالی عنہا تھیں جو کہ مشہور صحابی حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ تعالی عنہ کی بہن تھیں۔
ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام
حضرت بشیر بن سعد رضی اللہ تعالی عنہ ان چند خوش نصیب افراد میں سے تھے جنہوں نے ہجرت مدینہ سے قبل ہی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کو قبول کیا۔ آپ ان ستر انصاری صحابہ کرام میں شامل تھے جنہوں نے عقبہ ثانیہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دستِ مبارک پر بیعت کی۔ اس بیعت میں آپ نے اسلام کی خاطر ہر قسم کی قربانی دینے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حمایت کرنے کا عہد کیا۔ آپ کا قبولِ اسلام ایک گہری بصیرت اور ایمان کامل کا مظہر تھا، کیونکہ اس وقت اسلام کو مدینہ میں کوئی خاص قوت حاصل نہیں تھی اور اس کی راہ میں بے شمار دشواریاں تھیں۔ آپ کی ابتدائی زندگی دین اسلام کی خدمت اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت میں گزری۔
نمایاں کارنامے اور خدمات
حضرت بشیر بن سعد رضی اللہ تعالی عنہ کو متعدد اعزازات حاصل تھے اور آپ نے دین اسلام کی ترویج و اشاعت کے لیے گراں قدر خدمات انجام دیں۔
- تمام غزوات میں شرکت: آپ بدر، احد، خندق سمیت تمام بڑے غزوات میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک ہوئے۔ آپ نے اپنی بہادری اور ثابت قدمی کا لوہا منوایا اور جہاد فی سبیل اللہ میں پیش پیش رہے۔
- سرایا کی قیادت: آپ ان چند صحابہ کرام میں سے تھے جنہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فوجی مہمات (سرایا) کی قیادت کے لیے منتخب فرمایا۔ 7 ہجری میں غزوہ خیبر کے بعد آپ کو فدک کی طرف ایک سریہ کی قیادت سونپی گئی جہاں آپ نے بنو مرہ اور بنو غطفان کے خلاف کارروائی کی۔ اس سریہ میں آپ شدید زخمی بھی ہوئے، لیکن اللہ تعالیٰ نے آپ کو شفاء عطاء فرمائی اور آپ واپس مدینہ پہنچے۔
- سقیفہ بنی ساعدہ میں کردار: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد جب سقیفہ بنی ساعدہ میں خلافت کے معاملے پر انصار و مہاجرین کے درمیان بحث و مباحثہ ہوا تو آپ نے کمال بصیرت اور حب دین کا مظاہرہ کیا۔ باوجود اس کے کہ آپ خود انصار میں سے تھے، آپ نے انصار کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے جانشین کے طور پر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کی بیعت کرنے پر راضی کیا اور اس بات پر زور دیا کہ مسلمانوں کی وحدت اور خیر اسی میں ہے کہ وہ قریش کی امارت کو قبول کریں۔ آپ نے خود سب سے پہلے اٹھ کر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کی بیعت کی اور اس طرح امت مسلمہ کو افتراق سے بچانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
- روایتِ حدیث: آپ سے کچھ احادیث بھی مروی ہیں، جنہیں آپ کے صاحبزادے نعمان بن بشیر رضی اللہ تعالی عنہ نے روایت کیا۔
میراث اور وصال
حضرت بشیر بن سعد رضی اللہ تعالی عنہ کی زندگی دین اسلام کے لیے وقف تھی اور آپ نے اپنے ایمان، بہادری اور فکری بصیرت سے امت مسلمہ کی گراں قدر خدمت کی۔ آپ کا وصال حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کے دورِ خلافت میں 12 یا 13 ہجری میں ہوا۔ آپ نے عراق میں عین التمر کے مقام پر ایرانیوں کے خلاف جنگ میں جامِ شہادت نوش فرمایا۔ بعض روایات کے مطابق، آپ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالی عنہ کی قیادت میں ہونے والی اس جنگ میں شہید ہوئے۔ آپ نے شہادت سے سرفرازی حاصل کی اور اپنے پیچھے ایک تابناک اسلامی ورثہ چھوڑا۔ آپ کے بیٹے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ تعالی عنہ نے بھی اسلام کی خوب خدمت کی اور مختلف علاقوں کے گورنر رہے۔
مستند حوالہ جات
- الاستيعاب في معرفة الأصحاب، از ابن عبد البر
- أسد الغابة في معرفة الصحابة، از ابن الأثير
- الإصابة في تمييز الصحابة، از ابن حجر العسقلاني
- السيرة النبوية، از ابن هشام
- تاريخ الرسل والملوک (تاریخ طبری)، از امام طبری
- البداية والنهاية، از ابن کثیر
