بریدہ بن حصیب رضی اللہ تعالی عنہ
خاندانی پس منظر اور لقب
حضرت بریدہ بن حصیب رضی اللہ تعالی عنہ کا پورا نام بریدہ بن حصیب بن عبد اللہ بن حارث بن الاعرج بن سعد بن رزاح بن عدی بن سہم بن مازن بن حارثہ بن کعب بن غفار اسلمی تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ قبیلہ بنو اسلم سے تعلق رکھتے تھے جو کہ بنو کنانہ کی ایک شاخ تھی۔ آپ کی کنیت ابو عبد اللہ یا ابو ساسان تھی۔ آپ رضی اللہ عنہ کا شمار جلیل القدر صحابہ کرام میں ہوتا ہے، اور آپ کو "صاحب اللواء” یعنی جھنڈا اٹھانے والے کے لقب سے بھی جانا جاتا ہے، جس کا ذکر آپ کے قبولِ اسلام کے واقعے میں آئے گا۔
ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ کا قبولِ اسلام ایک انتہائی منفرد اور قابلِ ذکر واقعہ ہے جو ہجرتِ مدینہ کے دوران پیش آیا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ہمراہ مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت فرما رہے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا راستہ غمیصا کے مقام پر حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ کے قبیلے بنو اسلم سے گزرا۔ حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ اس وقت اپنے قبیلے کے تقریباً 70 یا 80 افراد کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے انتظار میں تھے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں تشریف لائے تو حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کی اور آپ کی نبوت کے بارے میں سوالات کیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اسلام کی دعوت دی اور اپنے دعوے کی صداقت پر دلائل پیش کیے۔
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ، جو کہ ایک عقلمند اور بصیرت رکھنے والے شخص تھے، نے حق کو فوراً پہچان لیا اور اسی وقت اپنے تمام ساتھیوں سمیت اسلام قبول کر لیا۔ یہ واقعہ ہجرت کے سفر کے دوران پیش آیا۔ قبولِ اسلام کے بعد، حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک جھنڈا تیار کیا، جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمامے سے بنایا گیا تھا، اور اسے تھام کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے آگے چلتے رہے۔ اس طرح وہ اسلام کے پہلے جھنڈا بردار بن گئے اور ہجرت کے اس تاریخی سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں ایک خاص مقام حاصل کیا۔ اس کے بعد آپ رضی اللہ عنہ جلد ہی مدینہ ہجرت فرما کر مستقل طور پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو گئے۔
نمایاں کارنامے اور خدمات
اسلام قبول کرنے کے بعد حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ نے اپنی پوری زندگی دینِ اسلام کی خدمت اور اشاعت کے لیے وقف کر دی۔ آپ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تمام غزوات میں شرکت فرمائی، جن میں غزوۂ بدر، احد، خندق، صلح حدیبیہ، بیعت رضوان، فتح مکہ اور غزوۂ تبوک شامل ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ ہر موقع پر اپنی شجاعت، بہادری اور ایمان کا بے مثال مظاہرہ کرتے رہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کی صلاحیتوں پر اعتماد کرتے ہوئے آپ کو یمن کے کچھ قبائل کی طرف داعی اور عامل (گورنر) بنا کر بھیجا، جہاں آپ نے اسلام کی تعلیمات کی اشاعت اور لوگوں کو دین کی طرف بلانے میں اہم کردار ادا کیا۔
خلفائے راشدین کے دور میں بھی حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ کی خدمات جاری رہیں۔ آپ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں عراق کی فتوحات میں شریک رہے اور بصرہ میں سکونت اختیار کی۔ آپ جنگِ جمل اور جنگِ صفین میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے حامیوں میں سے تھے۔ بعد ازاں، آپ خراسان کی فتوحات میں شامل ہوئے اور اس خطے کے اہم شہر مرو (مرو الشاہجان) میں مستقل قیام اختیار کر لیا۔ آپ نے مرو میں دین کی تعلیم و ترویج کا سلسلہ جاری رکھا اور وہاں کی علمی و روحانی فضا کو مزید پروان چڑھایا۔ آپ رضی اللہ عنہ سے تقریباً 164 احادیث مروی ہیں جو کہ آپ کی علمی فضیلت اور دین فہمی کی دلیل ہیں۔
میراث اور وصال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ نے مرو (خراسان) میں ہی اپنی زندگی کے آخری ایام گزارے۔ آپ نے اس خطے میں دینِ اسلام کی بنیادوں کو مستحکم کیا اور ایک مسجد بھی تعمیر کروائی جو آپ ہی کے نام سے منسوب تھی۔ آپ رضی اللہ عنہ کا وصال سن 63 ہجری (بعض روایات کے مطابق 62 یا 65 ہجری) میں مرو میں ہی ہوا۔ آپ نے اپنی اولاد کو بھی علمِ دین کی تعلیم دی، اور آپ کے صاحبزادگان سلیمان بن بریدہ اور عبد اللہ بن بریدہ نے بھی علمِ حدیث میں گراں قدر خدمات انجام دیں اور اپنے والد کی علمی میراث کو آگے بڑھایا۔ حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ کا شمار ان عظیم صحابہ کرام میں ہوتا ہے جنہوں نے اسلام کے ابتدائی دور سے لے کر اس کے پھیلاؤ تک ہر مرحلے میں اپنا بھرپور کردار ادا کیا اور اپنی خدمات کے انمٹ نقوش چھوڑے۔
مستند حوالہ جات
- ابن کثیر، البدایۃ والنہایۃ
- ابن سعد، الطبقات الکبریٰ
- امام بخاری، صحیح بخاری
- امام مسلم، صحیح مسلم
- الطبری، تاریخ الرسل والملوک
- ابن حجر عسقلانی، الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ
- امام ذہبی، سیر اعلام النبلاء
