ایوب بن ابی تمیمہ سختیانی
خاندانی پس منظر اور لقب
ابو بکر ایوب بن ابی تمیمہ کیسان السختیانی البصری، جلیل القدر تابعی اور تبع تابعی علماء میں سے ایک ہیں۔ آپ کا تعلق بصرہ سے تھا اور آپ بنو عنزہ کے موالی (آزاد کردہ غلام) تھے۔ آپ کا نام "ایوب” اور کنیت "ابو بکر” تھی۔ "السختیانی” آپ کا لقب تھا جس کی نسبت سخت (چمڑے) کی تجارت یا بصرہ کے ایک بازار "سخت” سے کی جاتی ہے جہاں آپ کاروبار کرتے تھے۔ آپ اپنے علم و فضل، تقویٰ و پرہیزگاری، اور زہد و ورع میں ضرب المثل تھے۔
ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام
حضرت ایوب سختیانی کی ولادت بصرہ میں تقریباً 66 ہجری (یا بعض روایات کے مطابق 68 ہجری) میں ہوئی۔ آپ ایسے دور میں پیدا ہوئے جب صحابہ کرام کی ایک کثیر تعداد اور کبار تابعین موجود تھے۔ آپ نے بچپن سے ہی علم دین کے حصول کی طرف توجہ دی۔ آپ نے متعدد جلیل القدر صحابہ کرام کو دیکھا، جن میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ خاص طور پر شامل ہیں، اور ان سے حدیث سنی۔ آپ نے کبار تابعین جیسے محمد بن سیرین، سعید بن جبیر، ابوقلابہ جرمی، حسن بصری، عکرمہ (ابن عباس کے آزاد کردہ غلام)، نافع (ابن عمر کے آزاد کردہ غلام) اور دیگر بے شمار اساتذہ سے علم حدیث اور فقہ حاصل کیا۔ آپ کی ابتدائی زندگی زہد، تقویٰ اور حصولِ علم کے لیے غیر معمولی جدوجہد سے عبارت تھی۔ آپ اپنے اساتذہ کے پاس لمبے سفر طے کر کے علم حاصل کرتے تھے اور ان کے علمی ورثے کو اپنی مضبوط یادداشت اور گہری بصیرت سے محفوظ کرتے تھے۔
نمایاں کارنامے اور خدمات
ایوب سختیانی کا شمار کوفہ اور بصرہ کے ان عظیم محدثین اور فقہاء میں ہوتا ہے جنہوں نے حدیث اور فقہ کے علوم کو مرتب و مدون کیا۔ آپ کی نمایاں خدمات اور کارنامے درج ذیل ہیں:
- علم حدیث میں مہارت: آپ اپنے زمانے کے امام الحدیث اور اپنے حفظ، ضبط اور ثقاہت میں منفرد مقام رکھتے تھے۔ آپ کی روایت کردہ احادیث صحیح بخاری، صحیح مسلم اور حدیث کی دیگر تمام مستند کتب میں موجود ہیں۔ آپ کو حدیث کی باریکیوں اور رجال حدیث کے علم پر گہرا عبور حاصل تھا۔
- فقہ و اجتہاد: آپ صرف محدث ہی نہیں بلکہ بصرہ کے جید فقہاء میں سے بھی تھے اور فقہی مسائل میں آپ کی آراء کو مستند سمجھا جاتا تھا۔
- تقویٰ و پرہیزگاری: آپ زہد و ورع، خشیت الٰہی اور عبادت گزاری میں اپنی مثال آپ تھے۔ آپ نے دنیاوی لذتوں سے کنارہ کشی اختیار کی تھی اور اپنی راتیں قیام اللیل میں گزارتے تھے۔
- فروغِ علم: آپ نے اپنی پوری زندگی علم کے فروغ اور اشاعت کے لیے وقف کر دی۔ آپ سے بے شمار آئمہ حدیث و فقہ نے علم حاصل کیا جن میں سفیان ثوری، شعبہ بن حجاج، امام مالک بن انس، حماد بن زید، حماد بن سلمہ، عبداللہ بن مبارک، اور یحییٰ بن سعید القطان جیسے جلیل القدر ائمہ شامل ہیں۔
- صداقت اور دیانت: آپ حق گوئی اور دیانت میں بے مثال تھے۔ بدعات اور اہل بدعت کے سخت مخالف تھے، بالخصوص قدریہ فرقے کے رد میں آپ کا موقف بہت واضح اور مضبوط تھا۔
- تواضع و انکساری: اپنے عظیم علمی مرتبے کے باوجود آپ انتہائی متواضع اور منکسر المزاج تھے۔ اپنی عبادات کو بھی چھپانے کی کوشش کرتے تھے تاکہ ریاکاری سے بچ سکیں۔
میراث اور وصال
حضرت ایوب سختیانی نے اسلامی دنیا کے لیے علم و عمل اور تقویٰ و پرہیزگاری کی ایک لازوال میراث چھوڑی۔ آپ کی روایات اور آپ کے فقہی اجتہادات آج بھی امت کے لیے رہنمائی کا ذریعہ ہیں۔ آپ نے اپنی پوری زندگی علمِ دین کی خدمت، اشاعت اور لوگوں کی اصلاح کے لیے وقف کر دی۔ آخر عمر میں آپ بصرہ ہی میں رہائش پذیر رہے اور وہیں سے علم کی شمع روشن کرتے رہے۔ آپ کا وصال تقریباً 131 ہجری (بعض روایات میں 130 یا 132 ہجری) میں ہوا۔ اس وقت آپ کی عمر تقریباً 65 سال تھی۔ آپ کی وفات سے عالم اسلام ایک عظیم محدث، فقیہ اور عابد و زاہد شخصیت سے محروم ہو گیا۔ آپ کی یاد علم، تقویٰ اور استقامت کے ایک روشن مینار کے طور پر ہمیشہ زندہ رہے گی۔
مستند حوالہ جات
- ابن حجر عسقلانی، تہذیب التہذیب
- شمس الدین الذہبی، سیر اعلام النبلاء
- ابن سعد، الطبقات الکبریٰ
- ابن کثیر، البدایہ والنہایہ
- جمال الدین المزی، تہذیب الکمال فی اسماء الرجال
