ام الدرداء الصغریٰ
خاندانی پس منظر اور لقب
حضرت ام الدرداء الصغریٰ، جن کا اصلی نام حجیمہ بنت حیی الاوصابیہ (یا بعض روایات میں جمیلہ بنت حیی الاوصابیہ) تھا، ایک جلیل القدر تابعیہ، عظیم فقیہہ، محدثہ اور زاہدہ تھیں۔ ان کا تعلق یمن کے قبیلہ اوساب سے تھا، اور بعد ازاں وہ دمشق میں مقیم ہو گئیں۔ انہیں "ام الدرداء الصغریٰ” کے لقب سے اس لیے پکارا جاتا تھا تاکہ انہیں ان کے شوہر حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کی پہلی زوجہ، مشہور صحابیہ حضرت ام الدرداء الکبریٰ (خیرہ بنت ابی حدرد) سے ممتاز کیا جا سکے۔ آپ کی زندگی تقویٰ، علم اور عملی حکمت کی بہترین مثال تھی۔
ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام
حضرت ام الدرداء الصغریٰ تابعین کے طبقے سے تعلق رکھتی تھیں اور ان کی ولادت دمشق میں ہوئی۔ انہوں نے کم عمری میں ہی مشہور صحابی اور کبار فقہاء میں سے ایک، حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے شادی کی، اور ان کے علم و تقویٰ کے سائے میں پرورش پائی۔ حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کا گھر علم و حکمت، عبادت اور زہد کا گہوارہ تھا، جس نے کم سنی ہی سے ام الدرداء الصغریٰ کے ذہن کو علم کے حصول اور دین پر عمل پیرا ہونے کی جانب راغب کیا۔ آپ نے اپنے شوہر سے بہت کچھ سیکھا، جو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کبار صحابہ میں سے تھے اور "حکیم الامت” کے لقب سے مشہور تھے۔ آپ نے حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کے علاوہ حضرت سلمان فارسی، حضرت کعب الاحبار، حضرت عائشہ صدیقہ اور حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہم اجمعین جیسے کبار صحابہ و تابعین سے بھی علم حاصل کیا۔
نمایاں کارنامے اور خدمات
ام الدرداء الصغریٰ اسلامی تاریخ کی ان عظیم خواتین میں سے تھیں جنہوں نے علم و معرفت کی شمع روشن کی اور دین کی خدمت میں اپنا تمام وقت صرف کیا۔ ان کے نمایاں کارنامے اور خدمات درج ذیل ہیں:
- علم و فقہ میں مہارت: آپ اپنے زمانے کی عظیم ترین فقیہات میں سے تھیں۔ آپ کو نہ صرف حدیث اور قرآن کے علوم پر گہری بصیرت حاصل تھی بلکہ آپ فقہی مسائل میں بھی اجتہاد کی صلاحیت رکھتی تھیں۔ دمشق میں آپ کا فقہی مقام بہت بلند تھا۔
- تدریس و تعلیم: آپ کی سب سے بڑی خدمت یہ تھی کہ آپ نے نہ صرف خواتین کی تعلیم و تربیت کا بیڑا اٹھایا بلکہ مرد حضرات بھی آپ کے حلقہ درس میں شامل ہوتے تھے۔ خلفائے بنو امیہ میں سے عبد الملک بن مروان بھی آپ کے شاگردوں میں سے تھے، جو مسجد اموی میں ان سے درس لیتے تھے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ آپ کے علم و فضل کا لوہا مرد حضرات بھی مانتے تھے۔
- روایتِ حدیث: آپ نے اپنے شوہر حضرت ابو الدرداء، حضرت سلمان فارسی، حضرت عائشہ صدیقہ اور دیگر صحابہ کرام سے احادیث روایت کیں، اور آپ سے کثیر تعداد میں احادیث مروی ہیں۔ آپ ثقہ راویہ تھیں۔
- زہد و تقویٰ: آپ کا شمار اپنے زمانے کی عابدہ و زاہدہ خواتین میں ہوتا تھا۔ آپ کثرت سے نوافل ادا کرتی تھیں اور شب بیداری میں مصروف رہتی تھیں۔ آپ کی زندگی سادگی اور قناعت کا بہترین نمونہ تھی۔ مشہور ہے کہ آپ ہمیشہ اون کا لباس زیب تن فرماتی تھیں۔
- اخلاقی تربیت: آپ نے اپنی تعلیمات اور عملی زندگی کے ذریعے معاشرے میں اخلاقی اقدار کو فروغ دیا۔ آپ کے اقوال اور نصیحتیں لوگوں کے دلوں میں گھر کر جاتی تھیں۔
میراث اور وصال
حضرت ام الدرداء الصغریٰ نے اسلامی معاشرے کو علم، فقہ، حدیث اور تقویٰ سے مالا مال کیا۔ ان کی زندگی خواتین کے لیے علم کے حصول اور دین کی خدمت کے لیے ایک روشن مثال بن گئی۔ انہوں نے یہ ثابت کیا کہ عورت بھی علم و معرفت کے میدان میں بڑے کارنامے انجام دے سکتی ہے۔ ان کا انتقال 81 ہجری (یا بعض روایات کے مطابق 100 ہجری کے بعد) میں دمشق میں ہوا۔ آپ نے ایک عظیم علمی و روحانی میراث چھوڑی جو آج بھی علماء اور طالبانِ علم کے لیے مشعل راہ ہے۔ آپ کی شاگردوں کی ایک بڑی تعداد تھی جنہوں نے آپ کے علم کو بعد کی نسلوں تک پہنچایا۔
مستند حوالہ جات
- ابن سعد، محمد بن سعد۔ الطبقات الکبریٰ۔ (جلد 8)
- الذہبی، شمس الدین محمد بن احمد۔ سیر أعلام النبلاء۔ (جلد 4)
- ابن حجر العسقلانی، احمد بن علی۔ تہذیب التہذیب۔ (جلد 12)
- ابن کثیر، اسماعیل بن عمر۔ البدایۃ والنہایۃ۔ (جلد 9)
- ابن الجوزی، عبد الرحمن بن علی۔ صفۃ الصفوۃ۔ (جلد 2)
