اظهر بن عبد عوف رضی اللہ تعالی عنہ
خاندانی پس منظر اور لقب
حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ تعالی عنہ کا پورا نام عبد الرحمن بن عوف بن عبد عوف بن عبد الحارث بن زہرہ بن کلاب تھا۔ آپ کا تعلق قریش کے بنو زہرہ قبیلے سے تھا جو شرافت اور حسب و نسب کے اعتبار سے ممتاز تھا۔ یہ قبیلہ ام المومنین حضرت آمنہ بنت وہب رضی اللہ تعالی عنہا (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی والدہ ماجدہ) کا بھی آبائی قبیلہ تھا۔ لہٰذا، آپ رضی اللہ تعالی عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے رشتہ میں چچا زاد بھائی لگتے تھے۔
قبولِ اسلام سے قبل آپ رضی اللہ تعالی عنہ کا نام ‘عبد عمرو’ یا ‘عبد کعبہ’ تھا، لیکن جب آپ رضی اللہ تعالی عنہ مشرف بہ اسلام ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نام تبدیل فرما کر ‘عبد الرحمن’ رکھا۔ آپ رضی اللہ تعالی عنہ اپنے زمانے میں مکہ کے سب سے امیر اور معزز افراد میں سے تھے، اور اپنی حکمت، دیانت داری اور تجارتی بصیرت کے لیے مشہور تھے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو ان دس خوش نصیب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں شمار فرمایا جنہیں دنیا ہی میں جنت کی بشارت دے دی گئی تھی (عشرہ مبشرہ)۔
ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام
حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ تعالی عنہ ان ابتدائی آٹھ افراد میں سے تھے جنہوں نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کی دعوت پر اسلام قبول کیا۔ یہ اسلام کے بالکل ابتدائی ایام تھے جب اسلام قبول کرنا شدید تکالیف اور آزمائشوں کا باعث بنتا تھا۔ آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے مکہ میں مسلمانوں پر ہونے والے ہر قسم کے ظلم و ستم کو صبر و استقامت سے برداشت کیا۔ جب مسلمانوں کے لیے مکہ کی زمین تنگ کر دی گئی تو آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے دو مرتبہ حبشہ (ایتھوپیا) کی طرف ہجرت فرمائی اور پھر ہجرت مدینہ میں بھی شریک ہوئے۔
مدینہ منورہ پہنچنے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار و مہاجرین کے مابین بھائی چارے کی مواخات قائم فرمائی۔ اس موقع پر آپ رضی اللہ تعالی عنہ کو انصاری صحابی حضرت سعد بن ربیع رضی اللہ تعالی عنہ کا بھائی بنایا گیا۔ حضرت سعد بن ربیع رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنی نصف دولت اور اپنی دو بیویوں میں سے ایک کو حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ تعالی عنہ کے حوالے کرنے کی پیشکش کی، لیکن آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے کمال خودداری اور قناعت کا مظاہرہ کرتے ہوئے شکریہ کے ساتھ انکار کر دیا اور صرف اتنا کہا کہ مجھے بازار کا راستہ دکھا دیجیے۔ آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنی تجارتی مہارت کی بدولت بہت جلد مدینہ میں خوشحالی حاصل کر لی اور کسی پر بوجھ نہیں بنے۔
نمایاں کارنامے اور خدمات
حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنی تمام زندگی دین اسلام کی خدمت اور فروغ کے لیے وقف کر دی۔
- معاشی بصیرت اور سخاوت: آپ رضی اللہ تعالی عنہ کی سب سے نمایاں خصوصیت ان کی معاشی بصیرت اور بے مثال سخاوت تھی۔ آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے مدینہ کے بازار میں تجارت کا آغاز کیا اور اللہ تعالی کی برکت سے بہت جلد بے پناہ دولت حاصل کی۔ آپ رضی اللہ تعالی عنہ کا یہ قول مشہور ہے کہ میں نے جس پتھر کو بھی اٹھایا اس کے نیچے سے سونا پایا۔ اس دولت کو آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے ہمیشہ راہ خدا میں خرچ کیا اور تاریخ اسلام کے سب سے بڑے سخیوں میں شمار ہوئے۔ آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے غزوات اور جہاد کے لیے ہزاروں دینار، سینکڑوں گھوڑے اور اونٹ وقف کیے، غلام آزاد کیے اور سینکڑوں ضرورت مندوں کی مدد فرمائی۔ آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے انتقال کے وقت بھی مال و دولت کا ایک بہت بڑا حصہ راہ خدا میں وقف کیا، جس میں بدری صحابہ رضی اللہ عنہم کے لیے وصیت کردہ 400 دینار بھی شامل تھے۔
- غزوات میں شرکت اور شجاعت: آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے تمام غزوات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے شانہ بشانہ حصہ لیا۔ غزوہ بدر، احد، خندق اور دیگر تمام اہم معرکوں میں آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے شجاعت اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا۔ غزوہ احد میں جب بظاہر مسلمانوں کو پسپائی ہوئی، تو آپ رضی اللہ تعالی عنہ ان چند صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے تھے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد سیسہ پلائی دیوار بن گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دفاع کیا۔
- قیادت اور امامت: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ رضی اللہ تعالی عنہ کو کئی سریوں (چھوٹی فوجی مہمات) کا امیر مقرر فرمایا۔ ایک دفعہ غزوہ تبوک کے سفر کے دوران فجر کی نماز کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف نہ لا سکے تو حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ تعالی عنہ نے نماز کی امامت کروائی۔ اسی دوران رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور آپ رضی اللہ تعالی عنہ کے پیچھے نماز ادا کی، جو آپ رضی اللہ تعالی عنہ کے انتہائی بلند مقام و مرتبے کی دلیل ہے۔
- خلافت کا قیام: حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے وصال سے قبل چھ رکنی شوریٰ (کمیٹی) بنائی جس میں حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ تعالی عنہ بھی شامل تھے اور آپ رضی اللہ تعالی عنہ کو اس شوریٰ میں فیصلہ کن کردار ادا کرنے کا حکم دیا تھا۔ آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے مسلمانوں کی وسیع مشاورت کے بعد حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ کو تیسرا خلیفہ راشد منتخب کیا۔
میراث اور وصال
حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ تعالی عنہ نے 32 ہجری میں تقریباً 75 سال کی عمر میں حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ کے دورِ خلافت میں وفات پائی۔ آپ رضی اللہ تعالی عنہ کا جنازہ امیر المومنین حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ نے پڑھایا۔ آپ رضی اللہ تعالی عنہ کو مدینہ منورہ کے جنت البقیع قبرستان میں دفن کیا گیا۔
آپ رضی اللہ تعالی عنہ کی میراث نہ صرف بے پناہ مالی سخاوت اور مثالی کاروباری حکمت عملی میں پنہاں ہے، بلکہ اس میں یہ پیغام بھی شامل ہے کہ ایک مسلمان دنیاوی کامیابیوں کے ساتھ ساتھ دینی اقدار پر بھی کس قدر پختہ رہ سکتا ہے۔ آپ رضی اللہ تعالی عنہ اسلام کے ان درخشندہ ستاروں میں سے ہیں جنہوں نے اپنی پوری زندگی امت مسلمہ کی فلاح و بہبود اور اسلام کے عروج کے لیے وقف کر دی۔ آپ رضی اللہ تعالی عنہ کا طرز عمل تاجروں اور صاحبِ ثروت افراد کے لیے ایک قابل تقلید نمونہ ہے۔
مستند حوالہ جات
- صحیح بخاری
- صحیح مسلم
- سنن ترمذی
- سیرت ابن ہشام
- تاریخ طبری (تاریخ الرسل والملوک)
- ابن کثیر (البدایہ والنہایہ)
- اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ لابن الأثیر
- الاصابہ فی تمییز الصحابہ لابن حجر العسقلانی
