اشعث بن عبد الملک حمرانی
خاندانی پس منظر اور لقب
اشعث بن عبد الملک حمرانی، جن کی کنیت ابو ہانی تھی، بصرہ کے جلیل القدر محدثین، فقہاء اور زاہدین میں سے تھے۔ ان کا پورا نام اشعث بن عبد الملک بن مسرح الحمرانی البصري تھا۔ آپ کا تعلق بصرہ سے تھا اور آپ کا قبیلہ ‘بنو حمران’ کے موالی میں سے سمجھا جاتا تھا، اس نسبت سے آپ کو ‘حمرانی’ کہا جاتا ہے۔ آپ کے والد عبد الملک حمرانی بھی ایک راوی حدیث تھے اور اپنے بیٹے کو علمِ حدیث کی جانب راغب کرنے میں ان کا اہم کردار تھا۔
ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام
اشعث بن عبد الملک حمرانی کی ولادت بصرہ میں ہوئی، ایک ایسے دور میں جب بصرہ اسلامی علوم و فنون کا ایک عظیم مرکز تھا۔ چونکہ آپ ایک مسلم گھرانے میں پیدا ہوئے تھے، لہٰذا ‘قبولِ اسلام’ کا مرحلہ آپ کی زندگی میں اس معنی میں نہیں آیا جس طرح نومسلموں کے لیے ہوتا ہے۔ اس کے بجائے، آپ نے ابتدائی عمر سے ہی اسلامی تعلیمات اور خاص طور پر حدیث نبوی کے حصول کے لیے خود کو وقف کر دیا۔ آپ نے بصرہ کے بڑے بڑے ائمہ سے علم حاصل کیا اور ان کی صحبت میں رہ کر اپنے ایمان کو مزید پختہ کیا۔ آپ کی ابتدائی زندگی زہد، تقویٰ اور علم کی جستجو سے عبارت تھی، اور آپ بچپن سے ہی ایک نیک اور صالح نوجوان کے طور پر جانے جاتے تھے۔
نمایاں کارنامے اور خدمات
اشعث بن عبد الملک حمرانی کی بنیادی اور سب سے نمایاں خدمات علمِ حدیث کی اشاعت اور حفاظت کے میدان میں ہیں۔ آپ نے بصرہ کے بڑے مشائخ اور تابعین سے حدیث کا سماع کیا، جن میں امام حسن بصری، امام محمد بن سیرین، امام قتادہ بن دعامہ السدوسی، اور شہر بن حوشب جیسے کبار ائمہ شامل ہیں۔ آپ کی روایات صحیح مسلم اور دیگر کتب سنن میں موجود ہیں، جو آپ کی ثقاہت (قابلِ اعتماد ہونا) اور امامِ حدیث کی حیثیت کا بین ثبوت ہیں۔
علمِ حدیث میں آپ کا مرتبہ اس قدر بلند تھا کہ امام یحییٰ بن معین، امام احمد بن حنبل، اور امام نسائی جیسے جرح و تعدیل کے ائمہ نے آپ کو ‘ثقہ’ (قابلِ اعتماد) قرار دیا۔ ابن سعد نے آپ کو "ثقہ، صالح، کثیر الحدیث” (قابلِ اعتماد، نیک اور کثرت سے حدیث بیان کرنے والا) قرار دیا ہے۔
آپ کے تلامذہ میں بڑے بڑے محدثین شامل ہیں، جیسے عبد الرحمن بن مہدی، یحییٰ بن سعید القطان، عفان بن مسلم، اور وکیع بن الجراح۔ ان ائمہ کا آپ سے روایت کرنا بھی آپ کی علمی قدر و منزلت کا مظہر ہے۔
علمی خدمات کے ساتھ ساتھ، آپ اپنے زہد، ورع (پرہیزگاری) اور تقویٰ کے لیے بھی مشہور تھے۔ آپ کا شمار بصرہ کے عابد و زاہد علماء میں ہوتا تھا جو دنیا سے بے رغبتی اور آخرت کی فکر میں مگن رہتے تھے۔ آپ کا طرزِ زندگی آنے والی نسلوں کے لیے تقویٰ اور پرہیزگاری کا بہترین نمونہ تھا۔
میراث اور وصال
اشعث بن عبد الملک حمرانی نے علمِ حدیث کو اپنی پوری زندگی کا مقصد بنایا اور اس کے تحفظ و اشاعت میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ ان کی روایت کردہ احادیث آج بھی اسلامی ذخیرۂ حدیث کا ایک قیمتی حصہ ہیں۔ آپ نے اپنے پیچھے علم کا ایک ایسا ورثہ چھوڑا جس سے امتِ مسلمہ صدیوں تک فیض یاب ہوتی رہی۔ آپ کی علمی بصیرت، تقویٰ اور زہد نے کئی نفوس کو متاثر کیا اور انھیں راہِ ہدایت پر گامزن کیا۔
آپ کا وصال 146 ہجری کے لگ بھگ بصرہ میں ہوا۔ بعض روایات میں 150 ہجری یا 160 ہجری بھی مذکور ہے، تاہم 146 ہجری کا قول زیادہ مشہور ہے۔ آپ کی وفات سے بصرہ نے ایک عظیم محدث، فقیہ اور زاہد کو کھو دیا، جس پر علمی حلقوں میں گہرا رنج و غم کا اظہار کیا گیا۔ آپ کی یاد علم، تقویٰ اور اللہ سے سچی محبت کی علامت کے طور پر ہمیشہ باقی رہے گی۔
مستند حوالہ جات
- ابن حجر عسقلانی، تہذیب التہذیب
- ابن حجر عسقلانی، تقریب التہذیب
- امام ذہبی، سیر اعلام النبلاء
- امام ذہبی، میزان الاعتدال
- ابن سعد، کتاب الطبقات الکبریٰ
- امام مسلم، صحیح مسلم (راویوں کے تذکرے میں)
