اسید بن حضیر رضی اللہ تعالی عنہ

خاندانی پس منظر اور لقب

حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ تعالی عنہ کا پورا نام اسید بن حضیر بن سماک بن عتیک بن امرؤ القیس بن زید بن عبدالأشہل الاوسی الانصاری تھا۔ آپ قبیلہ اوس کے ایک معزز خاندان بنو عبدالاشہل سے تعلق رکھتے تھے جو مدینہ منورہ کے دو بڑے قبائل، اوس اور خزرج میں سے ایک تھا۔ آپ کے والد حضیر بن سماک اپنے وقت کے ایک بہادر اور بااثر سردار تھے، جو "حضیر الکتائب” (لشکروں کے سردار) کے لقب سے مشہور تھے اور انہوں نے جاہلیت کے زمانے میں بہت سی جنگوں میں حصہ لیا، جن میں جنگ بعاث میں ان کی شہادت ہوئی۔ اسید رضی اللہ تعالی عنہ اپنے قبیلے کے سربرآوردہ افراد میں سے تھے اور آپ کی والدہ کا تعلق بھی ایک معزز گھرانے سے تھا۔ آپ کی کنیت ابو یحییٰ تھی اور آپ اپنی قوم میں نہایت ہی ذی احترام اور قابل قدر شخصیت کے مالک تھے، یہی وجہ ہے کہ آپ کو "سید الاوس” (اوس کے سردار) بھی کہا جاتا تھا۔ آپ اپنی قوم کے سرداروں میں سے تھے اور جاہلیت کے دور میں بھی آپ کی قدر و منزلت بہت بلند تھی۔

ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام

قبول اسلام سے قبل حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ تعالی عنہ مدینہ منورہ کے ایک باوقار اور بااثر شخص تھے۔ آپ علم و فنون کے ماہر تھے، لکھنے پڑھنے کی صلاحیت رکھتے تھے جو اس زمانے میں بہت کم لوگوں میں پائی جاتی تھی۔ آپ بہترین تیر انداز اور گھڑسوار بھی تھے۔ آپ کا قبولِ اسلام ایک انتہائی دلچسپ اور ایمان افروز واقعہ ہے۔ ہجرت سے قبل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ تعالی عنہ اور حضرت عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ تعالی عنہ کو مدینہ منورہ بھیجا تھا تاکہ وہ اہل مدینہ کو اسلام کی تعلیمات دیں اور قرآن سکھائیں۔ یہ دونوں حضرات انصار کے سرداروں میں سے ایک حضرت اسعد بن زرارہ رضی اللہ تعالی عنہ کے ہاں ٹھہرے ہوئے تھے اور لوگوں کو اسلام کی دعوت دے رہے تھے۔

جب اوس کے سرداروں حضرت سعد بن معاذ اور حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ تعالی عنہما کو اس بات کی خبر ملی تو حضرت سعد بن معاذ نے حضرت اسید بن حضیر سے کہا کہ جا کر مصعب بن عمیر کو ان کے تبلیغی مشن سے روکو۔ حضرت اسید اپنی نیزہ لیے غصے کی حالت میں حضرت مصعب بن عمیر اور حضرت اسعد بن زرارہ کے پاس پہنچے۔ حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ تعالی عنہ نے نہایت حکمت اور نرمی سے انہیں دعوت دی کہ وہ پہلے ان کی بات سنیں۔ اسید بن حضیر رضی اللہ تعالی عنہ نے اس دعوت کو قبول کیا اور بیٹھ گئے۔ حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ تعالی عنہ نے انہیں قرآن کی کچھ آیات تلاوت کر کے سنائیں۔ آیات کی سماعت کے بعد حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ تعالی عنہ کا دل نرم پڑ گیا اور ان پر رقت طاری ہو گئی۔ آپ نے فوراً پوچھا کہ اسلام قبول کرنے کے لیے کیا کرنا ہوتا ہے؟ حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ تعالی عنہ نے انہیں کلمہ شہادت پڑھنے، غسل کرنے اور دو رکعت نماز ادا کرنے کا طریقہ بتایا۔ حضرت اسید نے اسی وقت غسل کیا، کلمہ شہادت پڑھا اور دو رکعت نماز ادا کر کے دائرہ اسلام میں داخل ہو گئے۔

آپ کے قبول اسلام کے بعد آپ فوراً حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس لوٹے اور انہیں اپنے قبول اسلام کے بارے میں بتایا۔ آپ کے قبول اسلام سے متاثر ہو کر حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ تعالی عنہ نے بھی اسلام قبول کر لیا۔ ان دونوں سرداروں کے اسلام قبول کرنے کے بعد قبیلہ بنو عبدالاشہل کا تقریباً ہر فرد مسلمان ہو گیا، اس طرح یہ قبیلہ انصار کے ان اولین قبائل میں سے تھا جنہوں نے اجتماعی طور پر اسلام قبول کیا۔

نمایاں کارنامے اور خدمات

حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ تعالی عنہ ایک جلیل القدر صحابی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریبی ساتھیوں میں سے تھے۔ آپ نے اسلام کی خدمت کے لیے اپنی زندگی وقف کر دی اور بے شمار کارنامے انجام دیے۔

  • جنگی خدمات: آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تمام اہم غزوات میں شرکت کی جن میں غزوہ بدر، احد، خندق، خیبر، فتح مکہ، حنین اور تبوک شامل ہیں۔ غزوہ احد کے موقع پر جب مسلمانوں کی صفوں میں انتشار پیدا ہو گیا تھا اور بہت سے صحابہ بکھر گئے تھے، اس وقت حضرت اسید بن حضیر ان چند ثابت قدم صحابہ میں سے تھے جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد مضبوطی سے پہرہ دیا اور آپ کا دفاع کیا۔ اس جنگ میں آپ نے چودہ زخم کھائے۔
  • قیادت اور مشاورت: آپ کو اپنی فہم و فراست، ذہانت اور فصاحت و بلاغت کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجالس میں ایک نمایاں مقام حاصل تھا۔ آپ کی رائے کو بڑی اہمیت دی جاتی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد سقیفہ بنی ساعدہ کے موقع پر جب انصار اور مہاجرین کے درمیان خلافت کے مسئلے پر گفتگو ہو رہی تھی، تو آپ نے اپنی قوم (انصار) کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قریش سے تعلق رکھتے تھے، اس لیے خلافت بھی قریش ہی میں رہنی چاہیے۔ آپ نے اس موقع پر امت کی وحدت اور خیر خواہی کا مظاہرہ کیا اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کی خلافت کی تائید کی، جو آپ کی بصیرت اور دین کے ساتھ گہری وابستگی کا ثبوت ہے۔
  • عبادت اور تلاوتِ قرآن: آپ اپنی خوبصورت اور پرتاثیر تلاوت قرآن کے لیے مشہور تھے۔ ایک رات جب آپ اپنے بیٹے یحییٰ کے قریب سورہ کہف کی تلاوت کر رہے تھے تو ان کا گھوڑا بدکنے لگا اور آپ نے آسمان سے روشنی کے بادلوں کو اترتے دیکھا۔ جب آپ تلاوت روکتے تو وہ روشنی غائب ہو جاتی اور جب دوبارہ تلاوت شروع کرتے تو وہ دوبارہ ظاہر ہوتی۔ آپ نے گھوڑے کی حرکت اور بچے کے قریب ہونے کی وجہ سے اپنی تلاوت روک دی۔ صبح انہوں نے یہ واقعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ فرشتے تھے جو تمہاری تلاوت سننے کے لیے اترے تھے، اور اگر تم تلاوت جاری رکھتے تو وہ زمین پر اتر آتے اور سب لوگ انہیں دیکھ سکتے۔ یہ واقعہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں موجود ہے اور آپ کے اعلیٰ روحانی مقام اور قرآن سے غیر معمولی تعلق کی دلیل ہے۔
  • سخاوت اور اخلاق: آپ نہایت سخی، مہربان اور اعلیٰ اخلاق کے مالک تھے۔ آپ انصار کے معزز ترین افراد میں سے تھے۔

میراث اور وصال

حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ تعالی عنہ نے ہجرت کے چودہویں سال، یعنی 635 عیسوی میں، خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کے دورِ خلافت میں وفات پائی۔ آپ کے انتقال کے وقت حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے خود آپ کی نمازِ جنازہ پڑھائی۔ وفات کے وقت آپ کچھ قرض چھوڑ گئے تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے آپ کے خاندان کی مدد کی اور حکم دیا کہ آپ کے کھجوروں کے باغ سے حاصل ہونے والی فصل کو بیچ کر آپ کا قرض ادا کیا جائے۔

حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ تعالی عنہ نے اسلام کی ابتدائی تاریخ میں ایک غیر معمولی کردار ادا کیا اور اپنی پوری زندگی اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت اور خدمت میں گزاری۔ آپ کو ایمان، شجاعت، تقویٰ، اور قیادت کا حسین امتزاج سمجھا جاتا ہے۔ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ان عظیم صحابہ میں سے تھے جن کی تعریف خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی۔ آپ کا قبولِ اسلام، غزوات میں پختہ عزم، قرآن سے والہانہ لگاؤ اور اس کی تلاوت کی فضیلت کا واقعہ اور امت کی وحدت کے لیے آپ کی خدمات آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ آپ نے اپنی زندگی کا ایک عظیم ورثہ چھوڑا ہے جو مسلمانوں کے لیے ایمان، قربانی اور نیک اعمال کی ایک بہترین مثال ہے۔

مستند حوالہ جات

  • صحیح بخاری، کتاب فضائل القرآن، باب نزول السکینة والملائكة عند قراءة القرآن
  • صحیح مسلم، کتاب صلاة المسافرين وقصرها، باب فضيلة من نام جنبه بالليل واستيقظ إلى صلاة الليل
  • سیرت ابن ہشام، ذکر اسلام سعد بن معاذ واسید بن حضیر
  • تاریخ الطبری، الجزء الثانی، ذکر سقیفہ بنی ساعدہ
  • البدایہ والنہایہ از ابن کثیر، الجزء الرابع والخامس، ترجمۃ اسید بن حضیر
  • اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ از ابن الاثیر، ترجمۃ اسید بن حضیر