اسماء بنت خارجہ فزاری
خاندانی پس منظر اور لقب
محترمہ اسماء بنت خارجہ فزاری، اسلامی تاریخ کی ایک جلیل القدر اور دانش مند خاتون ہیں جن کا نام ان کی فہم و فراست، فصاحت اور اپنے وقت کی عظیم شخصیات کی والدہ ہونے کی وجہ سے مشہور ہے۔ آپ کا پورا نام اسماء بنت خارجہ بن حصن بن حذیفہ الفزاری تھا، اور آپ کا تعلق عرب کے مشہور اور بااثر قبیلے بنو فزارہ سے تھا۔ بنو فزارہ قیسی قبائل میں سے ایک طاقتور اور باوقار قبیلہ تھا جس کی عرب میں خاصی اہمیت تھی۔
آپ کے والد خارجہ بن حصن الفزاری، اپنے قبیلے بنو فزارہ کے سرداروں میں سے ایک تھے اور عرب کے ایک نامور اور طاقتور شخص سمجھے جاتے تھے۔ خارجہ بن حصن نے ابتدائی طور پر اسلام کی مخالفت کی تھی اور فتح مکہ کے بعد کچھ مزاحمت بھی کی تھی، لیکن بالآخر انہوں نے اسلام قبول کر لیا۔ اسماء بنت خارجہ نے ایک ایسے گھرانے میں پرورش پائی جہاں عربی روایات، قبیلہ جاتی غیرت اور فصاحت و بلاغت کو بڑی اہمیت دی جاتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کو بھی بچپن سے ہی حکمت، فہم و فراست اور قوتِ بیان کی دولت نصیب ہوئی اور آپ اپنے قبیلے میں اپنی ذہانت اور نفاست کی وجہ سے پہچانی جاتی تھیں۔ آپ کا لقب یا عام طور پر مشہور ہونے کی وجہ آپ کی یہ خاندانی شرافت اور بعد ازاں آپ کی اپنی ذاتی بصیرت اور دانائی بنی جس نے آپ کو خواتین کی دانشوری میں ایک نمایاں مقام دلایا۔
ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام
اسماء بنت خارجہ فزاری کی ابتدائی زندگی جزیرہ نما عرب کے قبائلی ماحول میں گزری جو بتدریج اسلام کی روشنی سے منور ہو رہا تھا۔ آپ کی پرورش ایک ایسے دور میں ہوئی جب اسلام اپنے پیغام کے ساتھ عرب میں پھیل رہا تھا اور معاشرتی، مذہبی اور سیاسی تبدیلیاں رونما ہو رہی تھیں۔ اگرچہ ان کے والد کا تعلق ابتدائی طور پر ان قبائل سے تھا جنہوں نے اسلام کی مخالفت کی، تاہم اسماء نے جلد ہی اسلام کی حقانیت کو پہچان لیا اور ایمان قبول کیا۔ ان کے اسلام قبول کرنے کی تاریخ کے بارے میں مستند تواریخ میں تفصیلات نہیں ملتیں، لیکن ان کے بعد کی زندگی اور ان کی ازواج کے مقام سے یہ واضح ہے کہ وہ ایک پختہ مسلمان تھیں اور اسلامی اقدار کی پاسداری کرنے والی تھیں۔
اسماء بنت خارجہ نے دو جلیل القدر صحابہ کرام سے شادیاں کیں، جس سے ان کی عظمت اور مقام کا اندازہ ہوتا ہے۔ آپ کی پہلی شادی مشہور انصاری صحابی حضرت الحارث بن اوس بن معاذ انصاری اوسی سے ہوئی جو قبیلہ اوس کے سرداروں میں سے تھے اور اسلام کی ابتدائی تاریخ میں اہم کردار ادا کیا۔ اس نکاح سے اسماء بنت خارجہ کی ایک بیٹی ام عمرو پیدا ہوئیں، جو بعد میں مشہور اموی خلیفہ عبدالملک بن مروان کی زوجہ بنیں۔ الحارث بن اوس کی وفات کے بعد، آپ کا دوسرا نکاح ایک اور عظیم صحابی حضرت الاشعث بن قیس کندی سے ہوا جو قبیلہ کندہ کے سردار اور یمن کے ایک نامور شخصیت تھے۔ الاشعث بن قیس نے اسلام قبول کرنے کے بعد دین کی بہت خدمات انجام دیں اور ان کی اولاد میں کئی نامور علماء اور قائدین شامل ہیں۔ ان دونوں نکاحوں نے اسماء بنت خارجہ کو مزید عزت اور وقار بخشا اور آپ کی گھریلو زندگی اسلامی اقدار پر مبنی تھی۔
نمایاں کارنامے اور خدمات
اسماء بنت خارجہ فزاری کا سب سے نمایاں کارنامہ اور ان کی سب سے بڑی خدمت جو تاریخ کے اوراق میں سنہرے حروف سے لکھی گئی ہے، وہ ان کی وہ لازوال نصیحت ہے جو انہوں نے اپنی بیٹی ام عمرو کو رخصتی کے وقت فرمائی تھی۔ جب ام عمرو کی شادی اموی خلیفہ عبدالملک بن مروان سے ہو رہی تھی، تو ماں نے اپنی بیٹی کو کامیاب ازدواجی زندگی گزارنے کے لیے ایسی قیمتی اور حکمت سے بھرپور ہدایات دیں جو آج بھی ہر دلہن اور ہر شادی شدہ جوڑے کے لیے ایک مشعل راہ ہیں۔
یہ نصیحت جو آدابِ معاشرت اور زوجین کے حقوق و فرائض پر مبنی ہے، متعدد کتبِ ادب و تاریخ میں محفوظ ہے۔ اس میں اسماء بنت خارجہ نے اپنی بیٹی کو شوہر کے ساتھ وفاداری، حسنِ سلوک، خانہ داری کی ذمہ داریاں، خود کی پاکیزگی اور زینت، شوہر کی رضا جوئی، اور فضول گوئی سے اجتناب جیسی باتوں پر مشتمل بصیرت افروز نصائح کیں۔ انہوں نے فرمایا کہ "بیٹی! اب تو ایک ایسے گھر سے جا رہی ہے جہاں تو بڑی ہوئی، اور ایسے مرد کے پاس جا رہی ہے جسے تو نہیں جانتی، پس تو اس کے لیے زمین بن جانا وہ تیرے لیے آسمان بن جائے گا، اس کے لیے باندی بن جا وہ تیرے لیے آقا بن جائے گا۔” ان کی یہ نصیحت نہ صرف ان کی ذاتی حکمت اور فہم کا عکاس ہے بلکہ اسلامی معاشرت میں خواتین کے کردار اور ان کی تربیت کی گہرائی کو بھی نمایاں کرتی ہے۔
اسماء بنت خارجہ نے اپنی اولاد کی بہترین اسلامی نہج پر تربیت کی اور انہیں معاشرے کے مفید افراد بنایا۔ ان کی زندگی خود ایک عملی نمونہ تھی جس میں صبر، شکر، دانائی اور خاندانی اقدار کا پاس موجود تھا۔ انہوں نے ایک ایسے دور میں خواتین کے لیے ایک مثالی کردار پیش کیا جب معاشرتی تبدیلیاں زوروں پر تھیں۔ ان کی حکمت و دانش اور فصاحت و بلاغت کی شہرت دور دور تک پھیلی ہوئی تھی اور لوگ ان کی رائے کو اہمیت دیتے تھے۔ ان کی شخصیت میں علم، دینداری، اور عرب کی روایتی سخاوت اور شجاعت کا حسین امتزاج پایا جاتا تھا۔
میراث اور وصال
اسماء بنت خارجہ فزاری کی سب سے بڑی میراث بلاشبہ ان کی وہ دانشمندانہ اور لازوال نصیحت ہے جو انہوں نے اپنی بیٹی ام عمرو کو اس کی شادی کے موقع پر کی تھی۔ یہ نصیحت نسل در نسل منتقل ہوتی رہی ہے اور آج بھی ازدواجی زندگی کی کامیابی کے لیے ایک قیمتی دستور العمل کی حیثیت رکھتی ہے۔ ادبی اور تاریخی کتب میں اس نصیحت کو ایک شاہکار مانا جاتا ہے، اور یہ اسلامی معاشرت میں خواتین کی حکمت و بصیرت کا ایک روشن ثبوت ہے۔ ان کی یہ نصیحت صرف ایک ماں کی بیٹی کے لیے نہیں تھی بلکہ یہ ایک عمومی درس ہے جو عورت کو اس کے مقام و مرتبے، اس کی ذمہ داریوں اور اس کے حقوق سے آگاہ کرتا ہے۔
اسماء بنت خارجہ کی زندگی نے ایک پُرآشوب مگر اسلامی اقدار سے بھرپور دور دیکھا۔ انہوں نے خلافت راشدہ اور پھر اموی دور کے ابتدائی برسوں تک زندگی گزاری۔ چونکہ ان کے شوہر حضرت الاشعث بن قیس کی وفات سن 40 ہجری میں ہوئی اور ان کی بیٹی کی شادی خلیفہ عبدالملک بن مروان سے ہوئی جو سن 65 ہجری میں خلیفہ بنے، تو اس سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اسماء بنت خارجہ نے کافی طویل عمر پائی اور اموی دور کے ابتدائی حصوں تک زندہ تھیں۔ ان کے وصال کے بارے میں مستند تواریخ میں کوئی خاص تاریخ یا تفصیلات نہیں ملتیں، تاہم یہ کہا جا سکتا ہے کہ انہوں نے ایک بھرپور اور بابرکت زندگی گزاری۔ وہ اپنے پیچھے ایک عظیم اولاد، ایک مثالی خاندانی زندگی اور سب سے بڑھ کر حکمت و بصیرت کی ایک ایسی میراث چھوڑ گئیں جو آنے والی نسلوں کے لیے تادیر مشعلِ راہ رہے گی۔ ان کا نام جب بھی کسی دانشمند، فصیح و بلیغ اور مثالی ماں کا ذکر ہوتا ہے تو وہ اسماء بنت خارجہ فزاری کا تذکرہ ضرور کرتا ہے۔ ان کی یاد اس نصیحت کے ذریعے ہمیشہ زندہ رہے گی جس نے ہزاروں گھرانوں کی بنیادوں کو مستحکم کرنے میں مدد دی۔
مستند حوالہ جات
- ابن كثير، البداية والنهاية
- الطبري، تاريخ الرسل والملوك
- ابن عبد البر، الاستيعاب في معرفة الأصحاب
- ابن قتيبة، عيون الأخبار
- ابو الفرج الأصفهاني، الأغاني
- المبرد، الكامل في اللغة والأدب
- الجاحظ، البيان والتبيين
- ابن الجوزي، صفة الصفوة
