ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالی عنہ
خاندانی پس منظر اور لقب
ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالی عنہ کا پورا نام عبداللہ بن قیس بن سلیم بن حضار بن حرب بن عامر بن عتر بن بكر بن عامر بن عذر بن وائل بن ناجية بن الجَمَاهِر بن الأشعر تھا۔ آپ کا تعلق یمن کے قبیلہ اشعرین سے تھا، جو اپنے خلوصِ نیت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے گہری محبت کی بنا پر مشہور تھا۔ آپ کی کنیت ‘ابو موسیٰ’ تھی جس سے آپ زیادہ معروف ہوئے۔ آپ کا قبیلہ یمن کے ایک معروف اور قدیم عرب قبائل میں سے تھا جو اپنی فضیلت اور قریبی تعلقات کی وجہ سے جانا جاتا تھا۔
ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام
ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالی عنہ کی پیدائش یمن میں ہوئی۔ آپ نے اپنی قوم کے ساتھ ہی دعوتِ اسلام کو قبول کیا، اس وقت جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ میں تھے۔ اسلام قبول کرنے کے بعد آپ اور آپ کے قبیلے کے تقریباً پچاس افراد نے مکہ کی طرف ہجرت کا ارادہ کیا، تاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت اور صحبت سے فیض یاب ہو سکیں۔ تاہم، سمندری سفر میں پیش آنے والی مشکلات کی وجہ سے آپ کا قافلہ حبشہ (ایتھوپیا) کی طرف نکل گیا، جہاں انہوں نے ہجرت کرنے والے دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ قیام کیا۔
حبشہ میں کچھ عرصہ گزارنے کے بعد، آپ کا قافلہ ہجرت کے ساتویں سال (7 ہجری) میں غزوۂ خیبر کے موقع پر مدینہ منورہ پہنچا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب انہیں دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشی کی انتہا نہ رہی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "یہ اشعرین ہیں، یہ لوگ جب مجھے خیبر میں ملے۔” آپ اور آپ کے ساتھیوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غنیمت میں حصہ دیا، حالانکہ وہ غزوہ میں شامل نہیں ہوئے تھے، یہ آپ کی خاص فضیلت اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک انعام تھا۔ اس کے بعد آپ مدینہ میں ہی مقیم ہو گئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت سے علمی و روحانی فیض حاصل کیا۔
نمایاں کارنامے اور خدمات
ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالی عنہ کو علم، فقہ، قرآن کی تلاوت اور انتظامی امور میں نمایاں مقام حاصل تھا۔
- تلاوتِ قرآن اور علمِ دین: آپ رضی اللہ عنہ کو اللہ تعالیٰ نے نہایت خوبصورت آواز عطا فرمائی تھی۔ جب آپ قرآن مجید کی تلاوت کرتے تو سننے والے پر وجد کی کیفیت طاری ہو جاتی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کی تلاوت سن کر فرمایا: "یقیناً تمہیں آل داؤد (علیہ السلام) کی بانسریوں میں سے ایک بانسری عطا کی گئی ہے۔” آپ ان صحابہ میں سے تھے جن سے علم حاصل کیا جاتا تھا، اور آپ کی فہمِ دین کو بہت سراہا جاتا تھا۔ آپ کی فقہی رائے کو مستند سمجھا جاتا تھا۔
- ولایت اور قیادت: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو یمن کے کچھ علاقوں کا والی (گورنر) مقرر فرمایا، جہاں آپ نے لوگوں کو دین کی تعلیم دی اور انتظامی امور سنبھالے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے دورِ خلافت میں آپ کو بصرہ کا والی مقرر کیا گیا، جہاں آپ نے عدل و انصاف کے ساتھ حکومت کی اور کئی علاقوں کو فتح کیا۔ حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کے دور میں آپ کچھ عرصے کے لیے کوفہ کے بھی والی رہے۔ آپ نے ایران کے کئی علاقوں جیسے اہواز، اصبہان، اور قمیس کی فتوحات میں اہم کردار ادا کیا۔
- غزوات اور جنگی خدمات: آپ نے غزوۂ حنین، غزوۂ تبوک سمیت متعدد غزوات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شرکت کی۔ آپ ایک بہادر جنگجو اور تجربہ کار کمانڈر بھی تھے۔
- تحکیم (فیصلہ کن ثالثی) کا واقعہ: جنگِ صفین کے بعد حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے جنگ بندی کے لیے حضرت معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کے ساتھ تحکیم پر اتفاق کیا۔ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی طرف سے ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالی عنہ کو ثالث مقرر کیا گیا، جبکہ حضرت معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کی طرف سے حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ تعالی عنہ کو۔ ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالی عنہ کو ان کی دینداری، تقویٰ اور غیر جانبداری کی وجہ سے منتخب کیا گیا تھا۔ آپ کا مقصد مسلمانوں کے مابین صلح اور اتحاد قائم کرنا تھا۔ اگرچہ اس تحکیم کا نتیجہ فریقین کی منشاء کے مطابق نہ نکل سکا اور اس سے مزید اختلاف رونما ہوئے، لیکن ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالی عنہ کی نیت اخلاص اور امت کی خیرخواہی پر مبنی تھی۔
میراث اور وصال
ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالی عنہ کی میراث علم، عمل، تقویٰ اور جہاد سے عبارت ہے۔ آپ نے کثیر تعداد میں احادیثِ نبویہ روایت کیں، اور آپ کے بعد کے ادوار میں بھی آپ کے شاگردوں نے آپ سے علم حاصل کیا۔ آپ کا فقہی بصیرت اور قرآنی تلاوت کا انداز آج بھی اسلامی دنیا میں معتبر ہے۔ آپ کا شمار ان جلیل القدر صحابہ میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی زندگی دین کی خدمت، اشاعت اور مسلمانوں کی فلاح و بہبود کے لیے وقف کر دی۔
آپ کا وصال حضرت معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کے دورِ خلافت میں ہوا۔ وفات کے سال کے بارے میں مورخین میں اختلاف پایا جاتا ہے، بعض 42 ہجری، بعض 44 ہجری اور بعض 50 ہجری بھی بیان کرتے ہیں۔ البتہ مشہور روایات کے مطابق، آپ کی وفات کوفہ میں ہوئی، جہاں آپ نے اپنی زندگی کا آخری حصہ گزارا اور وہیں آپ کو سپردِ خاک کیا گیا۔
مستند حوالہ جات
- ابن کثیر، البدایة والنهایة، جلد 7، 8
- طبری، تاریخ الطبری، جلد 4، 5
- ابن حجر عسقلانی، الإصابة في تمييز الصحابة، جلد 4
- ابن الأثير، أسد الغابة في معرفة الصحابة، جلد 3
- ذهبی، سیر أعلام النبلاء، جلد 2
