ابو لبابہ رضی اللہ تعالی عنہ

خاندانی پس منظر اور لقب

حضرت ابو لبابہ رضی اللہ تعالی عنہ کا پورا نام رفاعہ بن عبد المنذر بن زبیر بن ثابت بن امیہ بن امرئ القیس بن ثعلبہ بن عمرو بن عوف بن مالک بن اوس تھا۔ آپ کا تعلق مدینہ منورہ کے معروف قبیلہ اوس کی شاخ بنو عمرو بن عوف سے تھا۔ آپ انصار مدینہ کے جلیل القدر صحابہ کرام میں سے تھے۔ آپ اپنی کنیت "ابو لبابہ” سے مشہور ہوئے اور اسلامی تاریخ میں اسی نام سے جانے جاتے ہیں۔ بنو عمرو بن عوف قبیلہ مسجد قبا کے قریب آباد تھا اور اس قبیلے کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شروع ہی سے گہری وابستگی رہی۔

ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام

حضرت ابو لبابہ رضی اللہ تعالی عنہ مدینہ منورہ (اس وقت کے یثرب) میں مقیم تھے اور اپنی قوم کے سرداروں میں شمار ہوتے تھے۔ آپ نے ابتدائی دور میں ہی اسلام قبول کر لیا تھا۔ آپ ان خوش نصیب افراد میں شامل تھے جنہوں نے ہجرت مدینہ سے قبل بیعت عقبہ ثانیہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک پر بیعت کی اور اسلام کے لیے ہر قسم کی قربانی دینے کا عہد کیا۔ آپ ان بارہ نقیبوں میں سے تھے جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار میں سے منتخب فرمایا تھا تاکہ وہ اپنی قوم میں اسلام کی تعلیمات کی نشر و اشاعت کریں اور معاملات کی دیکھ بھال کریں۔ آپ کی ابتدائی زندگی سادگی، ایمانداری اور دین پر استقامت کی مثال تھی۔

نمایاں کارنامے اور خدمات

حضرت ابو لبابہ رضی اللہ تعالی عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ متعدد غزوات میں شرکت کی۔

  • غزوہ بدر: غزوہ بدر کے موقع پر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام کے ساتھ مدینہ سے روانہ ہوئے، تو مقام روحاء پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو لبابہ رضی اللہ تعالی عنہ کو مدینہ منورہ کا انتظام سنبھالنے اور ممکنہ خطرے سے بچاؤ کے لیے واپس بھیج دیا۔ اس بنا پر آپ اگرچہ جنگ میں براہ راست شریک نہ ہوسکے، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بدری صحابہ میں شمار کیا اور مال غنیمت میں سے حصہ بھی عنایت فرمایا، جو ان کے مقام اور مرتبے کی دلیل ہے۔
  • غزوہ احد و خندق: آپ نے غزوہ احد اور غزوہ خندق میں بھی شجاعت اور استقامت کا مظاہرہ کیا۔
  • غزوہ بنو قریظہ کا واقعہ اور توبہ: یہ واقعہ حضرت ابو لبابہ رضی اللہ تعالی عنہ کی زندگی کا سب سے نمایاں پہلو ہے اور اسلامی تاریخ میں ان کی توبہ کی مثال بہت مشہور ہے۔

    غزوہ احزاب کے بعد بنو قریظہ، ایک یہودی قبیلہ جس نے مسلمانوں سے معاہدہ توڑا تھا، نے مسلمانوں کے ہاتھوں محصور ہونے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ وہ حضرت ابو لبابہ رضی اللہ تعالی عنہ کو ان کے پاس بھیج دیں تاکہ وہ ان سے مشورہ کر سکیں، کیونکہ بنو قریظہ کے بنو عمرو بن عوف (جس قبیلے سے ابو لبابہ تھے) کے ساتھ قدیم حلیفانہ تعلقات تھے۔ جب حضرت ابو لبابہ رضی اللہ تعالی عنہ ان کے قلعے میں پہنچے تو بنو قریظہ کے مرد، عورتیں اور بچے روتے ہوئے ان کے پاس آئے۔ انہوں نے حضرت ابو لبابہ سے پوچھا کہ کیا وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے پر ہتھیار ڈال دیں؟

    اس موقع پر، حضرت ابو لبابہ رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنی گردن کی طرف اشارہ کیا، جس کا مطلب تھا کہ انہیں قتل کر دیا جائے گا۔ بعض روایات میں ہے کہ یہ اشارہ اس لیے تھا کہ وہ چاہتے تھے کہ بنو قریظہ اپنے فیصلے سے خبردار ہو جائیں، یا یہ ان کی زبان سے نکلنے والی ایک لغزش تھی۔ جیسے ہی انہوں نے یہ اشارہ کیا، انہیں فوراً احساس ہوا کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خیانت کا ارتکاب کیا ہے (کیونکہ انہوں نے ایک رازداری کا اشارہ دے دیا تھا)۔

    اس لغزش پر انہیں سخت ندامت ہوئی اور وہ شرمندگی کی انتہا کو پہنچ گئے۔ وہ بنو قریظہ کے قلعے سے نکل کر سیدھے مسجد نبوی تشریف لے گئے اور اپنے آپ کو مسجد کے ایک ستون سے باندھ لیا۔ انہوں نے قسم کھائی کہ وہ اس وقت تک نہیں کھلیں گے جب تک اللہ تعالیٰ ان کی توبہ قبول نہ فرمائے اور جب تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں اپنے دست مبارک سے نہ کھولیں۔

    آپ چھ یا دس یا پندرہ راتوں تک اسی طرح بندھے رہے۔ آپ کی اہلیہ نماز کے وقت انہیں کھول دیتیں تاکہ وہ وضو اور نماز ادا کر سکیں اور نماز کے بعد پھر باندھ دیتیں۔ آپ نے کھانا پینا بھی کم کر دیا تھا، یہاں تک کہ ضعف طاری ہو گیا۔ بالآخر، اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرمائی اور قرآن کریم کی سورۃ التوبہ کی آیت نمبر 102 نازل فرمائی: "وآخرون اعترفوا بذنوبهم خلطوا عملا صالحا وآخر سيئا عسى الله أن يتوب عليهم إن الله غفور رحيم” (اور دوسرے وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے گناہوں کا اقرار کیا ہے، انہوں نے نیک عمل اور برے عمل کو آپس میں خلط ملط کر دیا ہے، عنقریب اللہ ان پر مہربانی فرمائے گا، بے شک اللہ بڑا بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے)۔

    جب یہ آیت نازل ہوئی، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز فجر کے وقت ان کی توبہ قبول ہونے کا اعلان فرمایا اور پھر خود اپنے دست مبارک سے انہیں ستون سے کھولا۔ یہ ستون آج بھی مسجد نبوی میں "اسطوانہ ابی لبابہ” کے نام سے معروف ہے اور ان کی توبہ کی یادگار ہے۔ یہ واقعہ توبہ کی صداقت، ندامت کی شدت اور اللہ تعالیٰ کی وسیع رحمت کی ایک بے مثال مثال ہے۔

میراث اور وصال

حضرت ابو لبابہ رضی اللہ تعالی عنہ کی زندگی، خصوصاً بنو قریظہ کے واقعے میں ان کی توبہ کی کہانی، مسلمانوں کے لیے ہمیشہ کے لیے درسِ عبرت اور امید کا پیغام ہے۔ یہ واقعہ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ انسان سے غلطی ہو سکتی ہے لیکن سچی توبہ اور ندامت کے بعد اللہ تعالیٰ کی رحمت اسے معاف کر دیتی ہے۔ ان کا نام توبہ اور اخلاص کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔

حضرت ابو لبابہ رضی اللہ تعالی عنہ نے طویل عمر پائی اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دور خلافت تک بقید حیات رہے۔ آپ کا انتقال بعض روایات کے مطابق 30 ہجری میں ہوا، جب کہ بعض دیگر روایات میں 32 ہجری یا 36 ہجری کا ذکر بھی ملتا ہے۔ آپ کا شمار ان عظیم صحابہ کرام میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی پوری زندگی دینِ اسلام کی خدمت میں گزاری۔

مستند حوالہ جات

  • سیرت ابن ہشام
  • طبقات الکبریٰ لابن سعد
  • البدایہ والنہایہ لابن کثیر
  • اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ لابن الاثیر
  • الاصابہ فی تمییز الصحابہ لابن حجر عسقلانی
  • تفسیر طبری (سورۃ التوبہ کی آیت 102 کی تفسیر کے ضمن میں)