ابو فکیہ رضی اللہ تعالی عنہ
خاندانی پس منظر اور لقب
ابو فکیہ رضی اللہ تعالی عنہ، جو کہ رباح بن عمرو الازدی کے نام سے معروف ہیں، اسلام کے ابتدائی اور عظیم المرتبت صحابہ کرام میں سے ایک ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ کا تعلق قبیلہ بنو ازد سے تھا اور آپ رضی اللہ عنہ آغاز اسلام میں مکّہ کے ایک مشرک کے غلام تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ کو آپ کی کنیت "ابو فکیہ” سے زیادہ پہچانا جاتا ہے، جو عربی روایت کے مطابق آپ کی شخصیت یا کسی خاص صفت کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ غلام ہونے کے باوجود آپ رضی اللہ عنہ کو ایمان کی دولت سے سرفراز کیا گیا اور آپ رضی اللہ عنہ ان چند خوش نصیب افراد میں سے تھے جنھوں نے ابتدائی دور اسلام کی سختیاں اور آزمائشیں صبر و استقامت کے ساتھ جھیلیں۔ آپ رضی اللہ عنہ کا خاندانی پس منظر اگرچہ زیادہ تفصیل سے تاریخ میں محفوظ نہیں، لیکن آپ رضی اللہ عنہ کا غلام ہونا اور پھر اسلام کی خاطر قربانیاں دینا ہی آپ رضی اللہ عنہ کی عظیم حیثیت کو نمایاں کرتا ہے۔
ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام
ابو فکیہ رضی اللہ تعالی عنہ کی ابتدائی زندگی مکّہ میں ایک غلام کے طور پر گزری۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دین اسلام کی دعوت کا آغاز کیا تو ابو فکیہ رضی اللہ تعالی عنہ ان اولین افراد میں شامل تھے جنھوں نے دعوتِ حق کو لبیک کہا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اس وقت اسلام قبول کیا جب مسلمانوں کی تعداد انتہائی کم تھی اور انھیں قریش کے ظالم و جابر سرداروں کی طرف سے شدید اذیتوں کا سامنا تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ کو امیہ بن خلف جیسے قریش کے بڑے سرداروں کے ظلم و ستم کا نشانہ بنایا گیا، جو آپ رضی اللہ عنہ کو شدید گرمی میں جلتی ریت پر لٹاتے اور طرح طرح کی اذیتیں دیتے تاکہ آپ رضی اللہ عنہ دین اسلام سے پھر جائیں۔
آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے ان تمام مصائب کو کمال صبر و استقامت سے برداشت کیا اور ایمان پر ثابت قدم رہے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ نے ایسے بے شمار غلاموں کو جنھیں ایمان لانے کی پاداش میں اذیتیں دی جا رہی تھیں، اپنی دولت سے خرید کر آزاد کرایا۔ ابو فکیہ رضی اللہ تعالی عنہ بھی ان خوش نصیبوں میں سے تھے جنھیں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ نے خرید کر آزاد کیا۔ آزادی ملنے کے بعد آپ رضی اللہ عنہ نے اپنی زندگی مکمل طور پر دین اسلام کے لیے وقف کر دی۔ بعد ازاں، آپ رضی اللہ عنہ نے ہجرت حبشہ میں بھی شرکت کی اور پھر مدینہ منورہ کی طرف ہجرت فرما کر ایک نئے دور کا آغاز کیا۔
نمایاں کارنامے اور خدمات
ابو فکیہ رضی اللہ تعالی عنہ کی نمایاں خدمات میں دین اسلام کی خاطر صعوبتیں برداشت کرنا اور ایمان پر غیر متزلزل رہنا سرفہرست ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ کا غلامی سے آزادی تک کا سفر، پھر حبشہ کی ہجرت اور بالآخر مدینہ کی ہجرت، آپ رضی اللہ عنہ کے غیر معمولی عزم اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے گہری محبت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
آپ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ بدر میں شرکت کی، جو اسلام کی تاریخ کا پہلا اور فیصلہ کن معرکہ تھا۔ اس غزوے میں شریک ہونا اہل اسلام کے لیے ایک عظیم شرف تھا، اور ابو فکیہ رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر دین کی سر بلندی کے لیے جہاد میں حصہ لیا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے بعد کے غزوات اور دیگر اسلامی مہمات میں بھی اپنی خدمات پیش کیں۔ آپ رضی اللہ عنہ کی زندگی سادگی، تقویٰ اور اللہ کی راہ میں جہد و عمل کا ایک درخشاں نمونہ تھی۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اپنی باقی زندگی ایک سچے مسلمان کی حیثیت سے گزاری اور ہر موقع پر دین اسلام کی حمایت اور فروغ کے لیے کوشاں رہے۔
میراث اور وصال
ابو فکیہ رضی اللہ تعالی عنہ کے وصال کے متعلق تاریخ میں بہت زیادہ تفصیلات نہیں ملتیں، لیکن آپ رضی اللہ عنہ کی سیرت اور خدمات نے مسلمانوں کے دلوں میں ایک گہرا نقش چھوڑا۔ آپ رضی اللہ عنہ ان اولو العزم صحابہ میں سے تھے جنھوں نے اسلام کی بنیادوں کو اپنے خون، صبر اور استقامت سے مضبوط کیا۔ آپ رضی اللہ عنہ کی میراث یہ ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے ایمان کی راہ میں آنے والی تمام آزمائشوں کا جوانمردی سے مقابلہ کیا اور کبھی اپنے رب کے دین سے منہ نہیں موڑا۔ آپ رضی اللہ عنہ کا شمار ان عظیم ہستیوں میں ہوتا ہے جن کی قربانیوں کی بدولت اسلام دنیا میں پھیلا۔ آپ رضی اللہ عنہ کی زندگی یہ درس دیتی ہے کہ اصل شرف و بزرگی حسب و نسب یا دنیاوی مقام و مرتبے میں نہیں بلکہ ایمان کی صداقت، تقویٰ اور اللہ کی راہ میں قربانی میں ہے۔ اللہ تعالی آپ رضی اللہ عنہ کو اپنی رحمتوں سے ڈھانپے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔
مستند حوالہ جات
- ابن الأثير، أسد الغابة في معرفة الصحابة، ج 2، ص 209 (رباح بن عمرو الازدي، أبو فكيه).
- ابن حجر العسقلاني، الإصابة في تمييز الصحابة، ج 2، ص 209 (رباح بن عمرو، أبو فكيه).
- الذهبي، سير أعلام النبلاء، ج 1 (مختصراً).
- ابن کثیر، البدایۃ والنہایۃ، ذکر من أعتقھم أبو بكر رضی اللہ عنہ.
- الطبری، تاریخ الرسل والملوک، ذکر ہجرۃ الحبشۃ و تعذیب المسلمین.
