ابو امیہ مخزومی رضی اللہ تعالی عنہ

خاندانی پس منظر اور لقب

ابو امیہ مخزومی کا مکمل نام حذیفہ بن مغیرہ بن عبد اللہ بن عمر بن مخزوم تھا۔ آپ کا تعلق قریش کے بااثر اور دولت مند قبیلے بنو مخزوم سے تھا، جو مکہ کے معزز ترین قبائل میں سے ایک تھا۔ یہ وہی قبیلہ ہے جس سے خالد بن ولید رضی اللہ تعالی عنہ اور ابو جہل جیسے افراد کا تعلق تھا۔ ابو امیہ کے والد کا نام مغیرہ بن عبد اللہ تھا، اور وہ ولید بن مغیرہ (خالد بن ولید کے والد) کے بھائی تھے، اس لحاظ سے ابو امیہ، خالد بن ولید کے چچا تھے۔

آپ اپنی بے پناہ سخاوت اور مہمان نوازی کی وجہ سے مکہ میں غیر معمولی شہرت رکھتے تھے۔ آپ کی سخاوت کا عالم یہ تھا کہ جب کوئی قافلہ روانہ ہوتا تو آپ اس کے ساتھ ہو لیتے اور یہ اعلان کرتے کہ قافلے میں شامل تمام افراد کے کھانے پینے کا خرچہ میری ذمہ داری ہے۔ کسی کو اپنے ساتھ توشہ اٹھانے کی ضرورت نہیں۔ اسی غیر معمولی فیاضی کے باعث آپ کو ‘زاد الركب’ (قافلوں کا توشہ) کا لقب دیا گیا، جو آپ کی شناخت بن گیا۔ آپ کی بیٹی ہند بنت ابی امیہ، جو بعد میں ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا کے نام سے مشہور ہوئیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرات میں شامل ہوئیں۔

ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام

ابو امیہ مخزومی نے اپنی پوری زندگی مکہ میں بسر کی۔ آپ قریش کے سرداروں میں سے تھے اور آپ کی رائے کو اہمیت دی جاتی تھی۔ آپ کی زندگی اسلام سے قبل کے دور سے تعلق رکھتی ہے۔ مستند تاریخی روایات کے مطابق، ابو امیہ بن مغیرہ کا انتقال نبوتِ محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کے آغاز سے قبل یا بہت ابتدائی ایام میں ہو گیا تھا، جس کی وجہ سے انہیں اسلام قبول کرنے کا شرف حاصل نہیں ہوا۔

چونکہ آپ نے اسلام قبول نہیں کیا اور آپ کا شمار صحابہ کرام میں نہیں ہوتا، اس لیے ان کے نام کے ساتھ ‘رضی اللہ تعالی عنہ’ کا اضافہ درست نہیں۔ یہ جلیل القدر لقب صرف ان ہستیوں کے لیے مخصوص ہے جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ایمان قبول کیا اور آپ کی صحبت اختیار کی۔

نمایاں کارنامے اور خدمات

اگرچہ ابو امیہ مخزومی نے اسلام قبول نہیں کیا، لیکن آپ کے چند کارنامے اور کردار تاریخ اسلام کا حصہ بن گئے ہیں:

  • سخاوت اور ‘زاد الركب’ کا لقب: جیسا کہ پہلے ذکر کیا گیا، آپ اپنی بے مثال سخاوت کی وجہ سے مشہور تھے اور ‘زاد الركب’ کے لقب سے پکارے جاتے تھے۔ یہ صفت آپ کی شخصیت کا نمایاں ترین پہلو تھی۔
  • حجر اسود کی تنصیب میں کردار: بعثت سے قبل جب خانہ کعبہ کی از سر نو تعمیر کی گئی اور حجر اسود کو اس کی جگہ پر رکھنے کا مسئلہ درپیش ہوا تو قبائل قریش میں شدید اختلاف پیدا ہو گیا۔ ہر قبیلہ اس اعزاز کو حاصل کرنا چاہتا تھا۔ قریب تھا کہ تلواریں نکل آتیں، ایسے میں ابو امیہ مخزومی نے ایک دانشمندانہ تجویز پیش کی: "جو شخص سب سے پہلے کل صبح باب صفا سے داخل ہو گا، ہم اسے اپنا حَکم مان لیں گے اور وہ جو فیصلہ کرے گا، اسے قبول کریں گے۔” سب نے اس پر اتفاق کیا اور اگلے دن داخل ہونے والے پہلے شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے، جنہوں نے اپنی دانشمندی سے اس جھگڑے کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا۔ اس طرح ابو امیہ کی تجویز نے ایک بڑے فتنے کو ٹال دیا۔
  • ام المومنین ام سلمہ کے والد: آپ کی سب سے بڑی نسبت یہ ہے کہ آپ ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا کے والد تھے، جو بعد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجیت میں آئیں۔ یہ آپ کے خانداں کے لیے ایک عظیم شرف ہے۔

میراث اور وصال

ابو امیہ مخزومی کی میراث ان کی غیر معمولی سخاوت، دانشمندی اور خانہ کعبہ کے معاملے میں پیش کی گئی ان کی بروقت اور مؤثر تجویز کی صورت میں زندہ ہے۔ اگرچہ انہوں نے اسلام قبول نہیں کیا، لیکن ان کی بیٹی ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا نے اسلام اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی غیر معمولی خدمات انجام دیں۔

آپ کا وصال مکہ مکرمہ میں بعثتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے قبل یا بہت ابتدائی ایام میں ہوا، اس لیے آپ نے دین اسلام کو نہیں پایا۔ آپ کا ذکر عام طور پر آپ کی بیٹی ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا کے تعارف اور حجر اسود کے واقعے کے ضمن میں آتا ہے۔

مستند حوالہ جات

  • الطبری، ابو جعفر محمد بن جریر. (1967). تاریخ الرسل والملوک. مصر: دار المعارف. (جلد 2، صفحہ 292)
  • ابن کثیر، اسماعیل بن عمر. (1986). البدایۃ والنہایۃ. بیروت: دار الفکر. (جلد 2، صفحہ 288، 301-302)
  • ابن ہشام، عبد الملک. (1955). السیرۃ النبویۃ. مصر: مکتبۃ مصطفی البابی الحلبی. (جلد 1، صفحہ 197-198)
  • ابن حجر عسقلانی، احمد بن علی. (1995). الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ. بیروت: دار الکتب العلمیہ. (جلد 7، صفحہ 609، جہاں ام سلمہ کے والد کے طور پر ذکر ہے اور ان کے غیر صحابی ہونے کی طرف اشارہ ہے)
  • الذہبی، شمس الدین محمد بن احمد. (2001). سیر أعلام النبلاء. بیروت: مؤسسۃ الرسالہ. (جلد 2، صفحہ 201، ام سلمہ کے سوانح میں)