ابو احمد بن جحش رضی اللہ عنہ

خاندانی پس منظر اور لقب

ابو احمد بن جحش رضی اللہ عنہ کا اصل نام عبد بن جحش تھا۔ آپ کی کنیت "ابو احمد” تھی اور اسی کنیت سے آپ زیادہ مشہور ہوئے۔ آپ کا نسب نامہ عبد بن جحش بن ریاب بن یعمر بن صبرہ بن مرہ بن کبیر بن غنم بن دودان بن اسد بن خزیمہ الاسدی ہے۔ آپ کا تعلق قبیلہ بنو اسد بن خزیمہ سے تھا۔
آپ کی والدہ ماجدہ امیہ بنت عبدالمطلب تھیں، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی تھیں، اس طرح آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سگے ماموں زاد بھائی تھے۔ آپ کے بھائیوں میں مشہور صحابی عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ تھے، جو غزوہ احد میں شہید ہوئے۔ آپ کی بہنوں میں ام المؤمنین زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا اور حمنہ بنت جحش رضی اللہ عنہا شامل ہیں۔
ابو احمد بن جحش رضی اللہ عنہ ایک امتیازی خصوصیت کے حامل تھے؛ آپ بصارت سے محروم تھے۔ آپ نابینا ہونے کے باوجود ایمان و عمل میں بے مثال ثابت ہوئے۔

ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام

ابو احمد بن جحش رضی اللہ عنہ مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئے۔ آپ کا شمار اسلام کے ابتدائی قبول کرنے والوں (السابقون الاولون) میں ہوتا ہے، جنہوں نے دارِ ارقم میں داخل ہونے سے پہلے ہی اسلام قبول کر لیا تھا۔ آپ کی بصارت سے محرومی نے آپ کو حق کی پہچان اور اس کے قبول کرنے سے نہیں روکا۔
اسلام قبول کرنے کے بعد آپ کو دوسرے صحابہ کرام کی طرح قریش کی جانب سے شدید مظالم کا سامنا کرنا پڑا۔ اس ظلم و ستم سے بچنے کے لیے آپ نے دو ہجرتیں فرمائیں۔ آپ نے پہلے حبشہ کی جانب ہجرت فرمائی اور پھر وہاں سے واپس آکر مدینہ منورہ کی جانب ہجرت کی۔ یہ آپ کے ایمان کی پختگی اور دین کے لیے ہر قسم کی قربانی دینے کا بین ثبوت تھا۔ آپ کی ہجرتیں اس بات کی گواہی ہیں کہ آپ دینِ حق پر کتنی ثابت قدمی سے قائم تھے۔

نمایاں کارنامے اور خدمات

ابو احمد بن جحش رضی اللہ عنہ کی سب سے نمایاں خدمت اور کارنامہ دینِ اسلام کی خاطر ہر مشکل کا سامنا کرنا اور اس پر ثابت قدم رہنا ہے۔ آپ نے بصارت سے محرومی کے باوجود دو ہجرتیں کیں اور اسلام کے ابتدائی دور کی تمام مشکلات کو بہادری سے برداشت کیا۔
آپ غزوات میں بھی شریک ہوتے تھے، اگرچہ آپ کی نابینائی جنگی میدان میں براہ راست جنگ میں حصہ لینے کی راہ میں رکاوٹ تھی، لیکن آپ اپنی موجودگی اور دیگر خدمات کے ذریعے مجاہدین کی ہمت افزائی کرتے اور دین کی خدمت سرانجام دیتے تھے۔ آپ کی سیرت ان تمام افراد کے لیے مثال ہے جو جسمانی رکاوٹوں کے باوجود اللہ کے دین کی خدمت کا جذبہ رکھتے ہیں۔ آپ کا شمار ان صحابہ کرام میں ہوتا تھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریبی رشتہ داروں میں سے تھے اور آپ کی وفاداری و عقیدت بے مثال تھی۔

میراث اور وصال

ابو احمد بن جحش رضی اللہ عنہ نے ایک طویل عمر پائی اور مدینہ منورہ میں ہی وفات پائی۔ آپ کی وفات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں ہوئی، بعض روایات کے مطابق آپ نے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے دور تک حیات پائی۔
آپ کی میراث پختہ ایمان، اللہ کی راہ میں ہجرتوں کی قربانیاں، اور بصارت سے محرومی کے باوجود دینِ اسلام پر ثابت قدمی کی لازوال داستان ہے۔ آپ کی زندگی یہ سبق دیتی ہے کہ جسمانی کمزوریاں عزم و ہمت کے سامنے بے معنی ہو جاتی ہیں جب انسان اللہ کی رضا اور دین کی سربلندی کا ارادہ کر لے۔ آپ کا ذکر صحابہ کرام کے تذکروں میں ایک نابینا مگر باکمال اور پرعزم صحابی کے طور پر موجود ہے، جنہوں نے اپنے عمل سے روشن مثالیں قائم کیں۔

مستند حوالہ جات

  • ابن حجر عسقلانی، الاصابہ فی تمییز الصحابہ
  • ابن عبدالبر، الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب
  • ابن اثیر، اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ
  • ابن ہشام، السیرۃ النبویہ
  • طبری، تاریخ الامم والملوک
  • ابن کثیر، البدایہ والنہایہ