ابوقیس حرمہ رضی اللہ تعالی عنہ
خاندانی پس منظر اور لقب
ابوقیس رضی اللہ تعالی عنہ ان جلیل القدر صحابہ کرام میں سے ہیں جن کا اصل نام صرمہ بن ابی انس (Sarmah bin Abi Anas) ہے۔ یہ مشہور انصاری صحابی اوس قبیلے کے بنو وائل شاخ سے تعلق رکھتے تھے۔ "ابوقیس” ان کی کنیت تھی جس سے وہ عام طور پر جانے جاتے تھے، اور یہ ان کے دادا کا نام بھی تھا۔ بعض اوقات مخطوطات میں یا نقل در نقل میں ناموں میں معمولی فرق آ جاتا ہے، اور بعض کتب میں "ابوقیس صرمہ” کی بجائے "ابوقیس حرمہ” بھی ملتا ہے، لیکن مستند تاریخی حوالوں میں ان کا اصل نام صرمہ بن ابی انس ہی درج ہے اور وہ اپنی کنیت ابوقیس سے مشہور تھے۔ وہ مدینہ منورہ کے معزز اور عمر رسیدہ افراد میں سے تھے جو شاعری اور حکمت میں مشہور تھے۔
ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام
ابوقیس صرمہ رضی اللہ تعالی عنہ کا تعلق مدینہ منورہ سے تھا۔ بعثت نبوی سے قبل بھی وہ اپنی قوم میں عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔ وہ اپنی دانشمندی، شعر و شاعری اور فصاحت و بلاغت کے لیے مشہور تھے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ ہجرت فرما کر تشریف لائے اور اسلام کی دعوت دی، تو ابوقیس صرمہ رضی اللہ تعالی عنہ نے بلا تامل اس دعوت کو قبول کر لیا اور انصار میں شامل ہو گئے۔ وہ ان عمر رسیدہ صحابہ میں سے تھے جنہوں نے اپنی زندگی کے آخری حصے میں اسلام قبول کیا اور دین کی خدمت میں اپنی بقیہ عمر صرف کر دی۔ ان کا قبولِ اسلام ایک ایسے وقت میں ہوا جب اسلام کو مدینہ میں مضبوط بنیادوں کی ضرورت تھی، اور ان جیسے معزز اور عمر رسیدہ شخص کا اسلام لانا دین کی تقویت کا باعث بنا۔
نمایاں کارنامے اور خدمات
ابوقیس صرمہ رضی اللہ تعالی عنہ اپنی شرافت، حکمت اور اسلامی غیرت کے لیے جانے جاتے تھے۔ ان کی سب سے بڑی خدمت اور وجہ شہرت وہ واقعہ ہے جو ماہِ رمضان کے روزوں سے متعلق ایک اہم قرآنی آیت کے نزول کا سبب بنا۔ ابتدائے اسلام میں رمضان میں یہ حکم تھا کہ عشا کی نماز کے بعد یا سونے کے بعد کھانے پینے اور ازدواجی تعلقات کی اجازت نہیں تھی۔ ایک دن ابوقیس رضی اللہ تعالی عنہ روزے کی حالت میں کام سے تھکے ہارے گھر لوٹے اور افطار کے وقت کھانا مانگا۔ ان کی اہلیہ نے کھانا تیار کرنے میں کچھ دیر لگائی، اس دوران وہ سو گئے۔ جب بیدار ہوئے تو ان پر نیند کی وجہ سے کھانا حرام ہو چکا تھا، کیونکہ پہلے کا حکم یہ تھا کہ سونے کے بعد کھانا پینا ممنوع ہے۔ چنانچہ انہوں نے اگلے دن بھی بھوکے ہی روزہ رکھا اور دن بھر کمزوری محسوس کرتے رہے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ واقعہ پیش کیا گیا تو اللہ تعالی نے سورۃ البقرہ کی آیت نمبر 187 نازل فرمائی: "أُحِلَّ لَكُمۡ لَيۡلَةَ ٱلصِّيَامِ ٱلرَّفَثُ إِلَىٰ نِسَآئِكُمۡ … وَكُلُوا۟ وَٱشۡرَبُوا۟ حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَكُمُ ٱلۡخَيۡطُ ٱلۡأَبۡيَضُ مِنَ ٱلۡخَيۡطِ ٱلۡأَسۡوَدِ مِنَ ٱلۡفَجۡرِۚ” (روزوں کی راتوں میں تمہارے لیے اپنی بیویوں سے مباشرت حلال کر دی گئی ہے … اور کھاتے پیتے رہو یہاں تک کہ فجر کا وقت صاف ظاہر ہو جائے، سفید دھاگا سیاہ دھاگے سے ممتاز ہو جائے)۔ اس آیت کے نزول سے امت مسلمہ کے لیے آسانی پیدا ہو گئی اور یہ رخصت ابوقیس رضی اللہ تعالی عنہ کی وجہ سے ملی۔
وہ اسلامی شاعری میں بھی اپنا کردار ادا کرتے رہے اور اپنی زبان سے اسلام کا دفاع کرتے تھے۔ غزوات میں ان کی شرکت کے تفصیلی واقعات کم ملتے ہیں، مگر بحیثیت ایک بزرگ اور دانشمند صحابی وہ امت کی رہنمائی اور مشاورت میں اپنا حصہ ڈالتے رہے۔
میراث اور وصال
ابوقیس صرمہ رضی اللہ تعالی عنہ نے ایک طویل اور باوقار زندگی گزاری۔ انہوں نے اپنی حیات کا ایک بڑا حصہ جاہلیت میں اور پھر آخری حصہ اسلام کے سائے تلے گزارا۔ ان کا سب سے بڑا اعزاز یہ ہے کہ قرآن مجید کی ایک اہم آیت ان کے واقعہ کی وجہ سے نازل ہوئی۔ یہ آیت قیامت تک آنے والے مسلمانوں کے لیے روزے کے احکامات میں آسانی کا باعث ہے۔
ان کا وصال مدینہ منورہ میں ہوا۔ وفات کی صحیح تاریخ اکثر کتب میں واضح طور پر درج نہیں ہے، تاہم یہ معلوم ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد بھی ایک مدت تک حیات رہے۔ ان کی زندگی امت مسلمہ کے لیے ایک ایسے بزرگ کی مثال ہے جس نے حق کو پہچانا اور اپنی عمر کا آخری حصہ بھی اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت میں گزارا۔ وہ علم اور دانشمندی کے لحاظ سے اپنے دور کے ممتاز افراد میں شمار ہوتے تھے۔
مستند حوالہ جات
- ابن کثیر، البدایۃ والنھایۃ۔
- طبری، تاریخ الامم والملوک (تاریخ طبری)۔
- ابن حجر عسقلانی، الاصابہ فی تمییز الصحابہ۔
- ابن عبدالبر، الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب۔
- ابن اثیر، اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابہ۔
