ابوخریف رضی اللہ عنہ

خاندانی پس منظر اور لقب

خلیفہ رضی اللہ عنہ، جنہیں تاریخ میں خَریف بن مُجالِد عبسی کے نام سے جانا جاتا ہے، ایک جلیل القدر صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔ آپ کا مکمل نام خَریف بن مُجالِد تھا اور آپ کا تعلق عرب کے مشہور قبیلے بنو عبس سے تھا۔ بنو عبس ایک قدیم اور بہادر قبیلہ تھا جس کا شمار عدنانی قبائل میں ہوتا تھا۔ اسلامی تاریخ میں متعدد صحابہ کرام اور تابعین کا تعلق اس قبیلے سے تھا۔ اگرچہ ‘ابوخریف’ کی کنیت آپ کے لیے بہت مشہور نہیں ہے، لیکن چونکہ آپ نے خَریف کا نام رکھا ہے، یہ کنیت ممکن ہے کسی خاص موقع یا پہچان کے لیے استعمال ہوئی ہو۔ تاہم، مستند کتب صحابہ میں آپ کا تذکرہ عموماً آپ کے ذاتی نام خَریف بن مُجالِد کے ساتھ ہی ملتا ہے۔ آپ ان خوش نصیب افراد میں سے تھے جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت حاصل ہوئی۔

ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام

خَریف بن مُجالِد رضی اللہ عنہ کی ابتدائی زندگی کے بارے میں بہت زیادہ تفصیلی معلومات تاریخ کی کتب میں دستیاب نہیں ہیں۔ ان کی پیدائش اور نشوونما کے بارے میں خاص تفصیلات موجود نہیں، تاہم یہ واضح ہے کہ آپ نے زمانہ جاہلیت کا کچھ حصہ دیکھا اور پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد اسلام قبول کیا۔ آپ کو شرف صحابیت حاصل ہوا، یعنی آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ کی صحبت اختیار کی اور آپ پر ایمان لائے اور اسی حالت میں وفات پائی۔ صحابیت کا یہ رتبہ اسلامی تاریخ میں سب سے بلند اور قابل فخر رتبہ سمجھا جاتا ہے۔ آپ کے قبولِ اسلام کے بعد آپ نے اپنا پورا دل و جان دین اسلام کے لیے وقف کر دیا۔ اگرچہ آپ کی سیرت کے بہت سے پہلو تاریخ میں واضح نہیں ہیں، لیکن آپ کا صحابی ہونا ہی آپ کی عظمت کی دلیل ہے۔

نمایاں کارنامے اور خدمات

خَریف بن مُجالِد رضی اللہ عنہ کے نمایاں کارناموں اور خدمات کے حوالے سے تاریخ میں مخصوص واقعات اور غزوات یا اہم ذمہ داریوں کا واضح تذکرہ نہیں ملتا۔ بلاشبہ ہر صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بساط کے مطابق دین کی خدمت کی اور اسلام کی سربلندی کے لیے کوشاں رہے۔ آپ کا سب سے بڑا کارنامہ اور خدمت یہ ہے کہ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت حاصل کی، آپ پر ایمان لائے، اور آپ سے ایک حدیث روایت کی جس کا تذکرہ کتب حدیث میں موجود ہے۔ یہ حدیث آپ کے بیٹے نے آپ سے روایت کی۔ ایک حدیث کا راوی ہونا بذات خود دین اسلام کے لیے ایک بہت بڑی خدمت ہے، کیونکہ احادیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم دین کی بنیاد ہیں اور ان کی روایت و حفاظت کے ذریعے ہی امت مسلمہ تک سنت رسول پہنچی ہے۔ اگرچہ آپ دیگر بڑے صحابہ کرام کی طرح مشہور نہیں ہوئے، لیکن اللہ تعالیٰ کے ہاں ہر صحابی کا مقام بلند ہے۔ آپ بعد ازاں کوفہ (عراق) میں سکونت پذیر ہوئے، جو اس دور میں اسلامی علم کا ایک اہم مرکز بن گیا تھا۔

میراث اور وصال

خَریف بن مُجالِد رضی اللہ عنہ کی وفات کی تاریخ اور مقام کے بارے میں بھی تاریخ میں زیادہ تفصیلات نہیں ملتیں۔ یہ ایک عام بات ہے کہ بہت سے صحابہ کرام جن کا شمار "صغار صحابہ” (کم عمر یا کم معروف صحابہ) میں ہوتا ہے، ان کی وفات کے اوقات اور دیگر ذاتی تفصیلات اکثر دستیاب نہیں ہوتیں۔ آپ نے دین اسلام کی خدمت اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو آگے بڑھانے میں اپنا کردار ادا کیا اور پھر اللہ کے حضور پیش ہو گئے۔ آپ کی میراث آپ کا ایمان، آپ کی صحابیت اور آپ کی روایت کردہ وہ حدیث ہے جو امت مسلمہ کے لیے مشعل راہ بنی۔ آپ کا وجود اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اسلام کا پیغام ہر طبقے اور ہر شعبہ زندگی کے لوگوں نے قبول کیا اور اس کی آبیاری کی۔

مستند حوالہ جات

  • ابن حجر عسقلانی، الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ (al-Isabah fi Tamyiz al-Sahabah)، جلد 2، صفحہ 247.
  • ابن الأثير الجزري، أسد الغابة في معرفة الصحابة (Usd al-Ghabah fi Ma’rifat al-Sahabah)، جلد 2، صفحہ 139.
  • ابن عبد البر، الاستيعاب في معرفة الأصحاب (Al-Isti’ab fi Ma’rifat al-Ashab)، جلد 1، صفحہ 444.
  • الطبراني، المعجم الكبير (Al-Mu’jam al-Kabir)، جلد 4، صفحہ 188.